’ایٹمی پروگرام پر لچک دکھانے کو تیار ہیں‘؛ ایران کی امریکا کو تیل اور گیس سے متعلق بڑی پیشکش

ایران اور امریکا کے درمیان جاری شدید تناؤ کو کم کرنے کے لیے تہران نے ایک اہم سفارتی پیش قدمی کی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بڑی رعایتیں دینے کا اشارہ دیا ہے تاکہ امریکا کے ممکنہ فوجی حملے کو روکا جا سکے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اس پر عائد معاشی پابندیاں ختم کر دے اور اسے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا حق دے، تو وہ اپنے ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ کرنے کو تیار ہے۔

رائٹرز کے مطابق، ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تہران اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے کہ وہ اپنی اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کا آدھا حصہ بیرون ملک بھیج دے اور باقی ماندہ کو پتلا کر کے اس کی شدت کم کر دے۔

اس کے علاوہ ایران نے ایک علاقائی کنسورشیم میں شمولیت کی پیشکش بھی کی ہے تاکہ ایٹمی سرگرمیوں کو شفاف بنایا جا سکے۔

یہ تجاویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دو دور ہو چکے ہیں لیکن پابندیوں کے خاتمے کے طریقہ کار پر ابھی تک گہرے اختلافات موجود ہیں۔

ایران نے اس بار امریکا کو صرف ایٹمی شعبے میں ہی نہیں بلکہ معاشی میدان میں بھی بڑی پیشکش کی ہے۔

ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ اگر معاملات طے پا جاتے ہیں تو امریکی کمپنیوں کو ایران کی تیل اور گیس کی صنعت میں سرمایہ کاری اور ٹھیکوں کے بڑے مواقع دیے جا سکتے ہیں۔

ایران کا ماننا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا اور دہائیوں سے جاری تنازع ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے فی الحال ان نئی پیشکشوں پر کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

دوسری جانب امریکا کو اب بھی خدشہ ہے کہ ایران کے اندر یورینیم کی افزودگی ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا راستہ بن سکتی ہے، جبکہ ایران مسلسل اس کی تردید کرتا آیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں سوال اٹھایا کہ اتنے فوجی اور معاشی دباؤ کے باوجود ایران اب تک مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے پر کیوں تیار نہیں ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران ان مذاکرات کے ذریعے وقت حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی دفاعی تنصیبات کو مزید مضبوط کر سکے اور ممکنہ حملے کے اثرات سے بچ سکے۔

آنے والے چند دن اس تنازع کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ جمعرات کو جنیوا میں امریکی نمائندے سے ملاقات کریں گے۔

اگرچہ دونوں اطراف فوجی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، لیکن سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ اگر پابندیوں کے خاتمے کا کوئی منطقی ٹائم ٹیبل طے پا گیا تو ایک عبوری معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے میزائل پروگرام پر کوئی بات نہیں کرے گا، البتہ خطے میں موجود دیگر گروہوں کے حوالے سے لچک دکھانے کی گنجائش موجود ہے۔

دوسریئ جانب ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں، لیکن کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہایران خطے میں امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے اور حالیہ مذاکرات میں عملی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی بات چیت میں کچھ حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں، تاہم ایران امریکی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے مکمل تیاری کر چکا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کے سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لیے

وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے

Read More

پانی چوری روکنے کیلئے خصوصی تھانہ قائم، زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ

پانی چوری کے بڑھتے واقعات روکنے کیلئے خصوصی تھانہ قائم کردیا گیا۔ پانی چوری کے

Read More

TECHNOLOGY

کیا کلاڈ انسان بن رہا ہے؟ اینتھروپک نے اے آئی کی ‘خفیہ سوچ’ ڈھونڈ نکالی

مصنوعی ذہانت کی مشہور کمپنی اینتھروپک نے اپنے معروف اے آئی ماڈل کلاڈ کے اندر

Read More

واٹس ایپ پر آن لائن صارفین کی شناخت آسان، ’گرین ڈاٹ‘ فیچر کی آزمائش شروع

میٹا کی زیرِ ملکیت مقبول پیغام رسانی ایپ واٹس ایپ نے صارفین کے لیے آن

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.