امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے وسیع ٹیرف غیر قانونی قرار دینے کے بعد انہوں نے تمام تجارتی شراکت داروں پر اضافی 10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔
عدالتِ عظمیٰ نے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ 1977 کے قانون ‘انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ’ کے تحت ٹیرف عائد کرنا صدر کے اختیارات سے تجاوز تھا۔ عدالت نے کہا کہ اگر کانگریس ٹیرف لگانے کا غیر معمولی اختیار دینا چاہتی تو وہ اسے واضح طور پر قانون میں شامل کرتی۔
فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے صدر کے تجارتی اختیارات کو کم نہیں بلکہ مزید واضح اور مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے بعض ججوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مفاد میں درست فیصلہ نہ کرنے پر انہیں شرمندگی ہے۔
ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ وہ متبادل قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے نئے ٹیرف نافذ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کو قومی مفاد کے تحفظ کے لیے مزید بلند شرح سے ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
امریکی آئین کے مطابق ٹیکس اور ٹیرف عائد کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، تاہم ٹرمپ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر مذکورہ قانون کے تحت تقریباً تمام تجارتی شراکت داروں پر درآمدی محصولات نافذ کیے تھے۔
ماہرین کے مطابق ان ٹیرف سے آئندہ 10 برسوں میں کھربوں ڈالر آمدن متوقع تھی، جبکہ عدالتی فیصلے کے بعد تقریباً 175 ارب ڈالر کی وصولی کی واپسی کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے۔


































