وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بھرپور اور متحرک سفارتی و اقتصادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
اس اعلیٰ سطحی عالمی فورم میں شرکت کا بنیادی مقصد عالمی قیادت، مالیاتی اداروں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے سامنے پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنا، معیشت کی بحالی اور سرمایہ کاری کے مواقع کو نمایاں کرنا اور عالمی و علاقائی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کرنا تھا۔
وزیراعظم کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد ڈیووس پہنچا جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر سینیئر حکام شامل تھے۔
عالمی اقتصادی رہنماؤں کا غیر رسمی اجلاس
ڈیووس میں وزیراعظم نے عالمی اقتصادی رہنماؤں کے غیر رسمی اجلاس میں شرکت کی جہاں دنیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، تنازعات اور تقسیم کے ماحول میں مکالمے، تعاون اور سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

شہباز شریف نے اس موقعے پر واضح کیا کہ پاکستان طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیاد پر تنازعات کے حل کا حامی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی امن اور استحکام کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش معاشی چیلنجز کے حل کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ ناگزیر ہے۔
سرمایہ کاری کا فروغ
وزیراعظم کی ڈیوس مصروفیات میں سرمایہ کاری کے فروغ کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔
انہوں نے پاکستان کے لیے مخصوص اعلیٰ سطحی بزنس راؤنڈ ٹیبل کی صدارت کی جس میں عالمی کارپوریٹ رہنماؤں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں توانائی، انفراسٹرکچر، آئی ٹی، زراعت، برآمدی صنعتوں اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کیا گیا۔
شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں معاشی اصلاحات کا عمل جاری ہے، معیشت بتدریج استحکام کی طرف گامزن ہے اور حکومت سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے، شفاف پالیسیوں اور کاروبار دوست ماحول کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم کی سائیڈلائن ملاقاتیں
ڈیووس کے موقعے پر وزیراعظم کی عالمی رہنماؤں، بین الاقوامی اداروں کے سربراہان اور ممتاز کاروباری شخصیات سے سائیڈ لائن ملاقاتیں بھی ہوئیں، جن میں دو طرفہ تعاون، تجارت کے فروغ، علاقائی استحکام اور عالمی اقتصادی رجحانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان نے خود کو ایک ذمے دار ریاست اور سرمایہ کاری کے لیے موزوں ملک کے طور پر پیش کیا۔ وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو قرضوں، ماحولیاتی تبدیلی اور توانائی کے بحران جیسے مسائل سے نمٹنے میں مؤثر تعاون فراہم کرے۔
عالمی امن کے حوالے سے بات چیت
عالمی امن کے حوالے سے بھی وزیراعظم شہباز شریف کی مصروفیات نمایاں رہیں۔ انہیں عالمی امن سے متعلق بعض خصوصی فورمز میں شرکت کی دعوت دی گئی جہاں غزہ اور دیگر تنازعات پر بات چیت ہوئی۔ وزیراعظم نے انسانی ہمدردی، جنگ بندی اور دیرپا سیاسی حل کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے کسی بھی خطے میں عدم استحکام کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جاتے ہیں۔




































