ہوٹل میں بہتر کمرہ چاہیے تو عملے سے کیسا برتاؤ کریں، کونسی غلطیاں نہ کی جائیں؟ ماہر کے دلچسپ مشورے

چھٹیوں پر جانا ہو یا کاروباری دورہ ہوٹل میں قیام کے دوران اکثر لوگ ایسے انداز میں پیش آتے ہیں جو شاید وہ اپنے گھر میں بھی اختیار نہ کریں۔ راہداریوں میں شور مچانا، عملے سے نامناسب طریقے سے بات کرنا، کمرے کو بے ترتیبی سے چھوڑنا اور ہوٹل کی اشیا کو تحفہ سمجھ کر ساتھ لے جانا ایسی عادتیں ہیں جو نہ صرف دوسرے مہمانوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہیں بلکہ مسافروں کے اپنے اخلاق اور تربیت کا تاثر بھی خراب کرتی ہیں۔

برطانیہ کے معروف آداب معاشرت کے ماہر ولیم ہینسن کے مطابق بعض لوگ ہوٹل میں قیام کو ایک تجارتی لین دین سمجھتے ہیں اور یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے کمرے کے پیسے ادا کیے ہیں اس لیے انہیں اپنی مرضی سے کچھ بھی کرنے کا حق حاصل ہے۔ ان کے بقول یہی سوچ انہیں ایسے رویے اختیار کرنے پر آمادہ کرتی ہے جو وہ عام زندگی میں شاید کبھی نہ اپنائیں مثلاً ہوٹل کے عملے سے نامناسب سلوک یا کمرے کو انتہائی خراب حالت میں چھوڑ دینا۔

ولیم ہینسن وسطی لندن میں واقع ادارے ’دی انگلش مینر‘ کے سربراہ ہیں اور برطانوی آدابِ معاشرت پر متعدد کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔ انہوں نے ہوٹلوں میں مسافروں کے رویوں سے متعلق ایک رہنما کتابچہ تیار کیا ہے، جس میں ان عادتوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن سے مہمانوں کو گریز کرنا چاہیے۔

عملے سے اچھا برتاؤ کریں، شکایت کرنے سے بھی نہ گھبرائیں

ولیم ہینسن کے مطابق ہوٹل میں داخل ہوتے ہی مہمان اور عملہ ایک دوسرے کے بارے میں ابتدائی تاثر قائم کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اس لیے استقبالیہ پر موجود عملے سے خوش اخلاقی اور احترام کے ساتھ پیش آنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی مہمان کو کمرے کی صفائی، تولیے کی حالت یا کسی دوسری سہولت سے متعلق شکایت ہو تو اسے خاموش رہنے کے بجائے شائستگی سے اپنی بات کرنی چاہیے۔

ان کے مطابق بعض لوگ بدمزگی سے بچنے کے لیے اپنی شکایت بیان ہی نہیں کرتے لیکن شائستگی اور اپنی ضرورت کے بارے میں واضح بات کرنا 2 الگ چیزیں ہیں۔ اگر کمرہ صاف نہیں ہوا یا تولیہ گندا ہے تو مہمان کو اس سے عملے کو آگاہ کرنا چاہیے۔

وہ امریکیوں کی اس عادت کو بھی قابل تقلید سمجھتے ہیں کہ وہ کسی مسئلے کی صورت میں فوری طور پر بات کرلیتے ہیں بجائے اس کے کہ خاموش رہیں اور بعد میں ناراضی کا اظہار کریں۔

بہتر کمرہ یا سہولت چاہیے تو عملے کا احترام کریں

ماہرِ آداب کے مطابق بعض مہمان ہوٹل پہنچتے ہی بہتر کمرے یا اضافی سہولت کی توقع رکھتے ہیں لیکن اس مقصد کے لیے عملے پر رعب جمانے یا ناراضی دکھانے کے بجائے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ استقبالیہ پر موجود ملازمین بھی انسان ہیں اور ہر شعبے کے کارکن احترام کے مستحق ہیں۔ اگر مہمان ان سے عزت اور خوش اخلاقی سے پیش آئے تو عملہ بھی اس کے لیے اضافی کوشش کرنے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر عملے کے کسی فرد نے اپنا نام بتایا ہو تو اسے یاد رکھیں اور گفتگو کے دوران اس کا نام لے کر مخاطب کریں۔ اس سے دوسرے شخص کو احساس ہوتا ہے کہ اسے محض ایک ملازم نہیں بلکہ ایک انسان کی حیثیت سے اہمیت دی جارہی ہے۔

ولیم ہینسن کے مطابق وہ خود بھی ان ہوٹلوں اور ریستورانوں کے عملے کے نام یاد رکھتے ہیں جہاں وہ بار بار جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی شخص کو اس کے نام سے مخاطب کرنا ایک چھوٹا سا عمل ہے لیکن اس سے تعلق اور باہمی احترام میں نمایاں فرق پڑ سکتا ہے۔

ہوٹل کے عملے کی اچھی کارکردگی کی تعریف بھی کریں

ولیم ہینسن کے مطابق لوگ عموماً ہوٹل میں کسی خرابی یا ناقص سہولت پر شکایت تو درج کرادیتے ہیں لیکن اچھی خدمت کی تعریف کرنے کے لیے کم ہی وقت نکالتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہوٹلوں کے آن لائن جائزوں میں بھی اکثر منفی تجربات زیادہ نمایاں ہوتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ اچھے تجربے کے باوجود اپنی رائے درج نہیں کرتے۔

ان کے مطابق اگر ناشتے میں کوئی چیز پسند آئی، عملے نے غیرمعمولی تعاون کیا یا کسی ملازم نے مشکل وقت میں مدد کی تو اس کی تعریف ضرور کرنی چاہیے۔ ہوٹل کے جائزے صرف شکایت کے لیے نہیں بلکہ اچھی کارکردگی کو سراہنے کے لیے بھی ہوتے ہیں۔

ہوٹل کی راہداریوں میں شور مچانے سے گریز کریں

ماہرِ آداب کے مطابق ہوٹل کی راہداریوں میں خاموشی کا خاص خیال رکھنا چاہیے کیونکہ ہر مہمان رات کے وقت ہی نہیں سوتا۔ بعض لوگ رات کی ڈیوٹی کے بعد دن میں آرام کررہے ہوتے ہیں جبکہ کچھ مہمان سفر کی تھکن اتارنے کے لیے خاموشی چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ راہداریوں میں بچوں کا دوڑنا، چیخنا چلانا یا دروازوں کے قریب شور مچانا دوسرے مہمانوں کے آرام میں خلل ڈال سکتا ہے۔

وہ ہوٹل کی راہداریوں کو کسی عبادت گاہ جیسی خاموش جگہ قرار دیتے ہیں جہاں لوگوں کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ بند دروازوں کے پیچھے کوئی شخص آرام کررہا ہوسکتا ہے۔

کون سی چیزیں ساتھ لے جانا چوری کے زمرے میں آتا ہے؟

ہوٹلوں میں قیام کے دوران بعض مہمان وہاں استعمال ہونے والی اشیا کو یادگار سمجھ کر گھر لے جاتے ہیں لیکن ولیم ہینسن کے مطابق اس معاملے میں ایک واضح حد کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

ان کے مطابق ہوٹل کی جانب سے فراہم کردہ چھوٹی استعمال کی اشیا مثلاً روئی کے پیڈ، ناخن تراشنے کی فائل یا سلائی کا چھوٹا سامان ساتھ لے جانے میں عموماً کوئی حرج نہیں ہوتا۔ بعض ہوٹلوں میں فراہم کردہ چپلیں بھی مہمان اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں۔

تاہم ہیئر ڈرائر، تولیے، بستر کی چادریں اور غسل کے لیے استعمال ہونے والے لباس یا روب ساتھ لے جانا چوری کے زمرے میں آتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب بہت سے ہوٹل ماحول دوست پالیسی کے تحت صابن اور شیمپو کی بڑی بوتلیں دیواروں کے ساتھ نصب کرتے ہیں جنہیں بار بار بھرا جاتا ہے تاکہ پلاسٹک کا استعمال کم کیا جاسکے۔ ایسی اشیا بھی مہمانوں کے لیے ساتھ لے جانے کی نہیں ہوتیں۔

سامان خود اٹھانے کے بجائے عملے کی مدد لیں

ولیم ہینسن کے مطابق اعلیٰ معیار کے ہوٹلوں میں مہمانوں کے سامان کی نقل و حمل کے لیے دربان اور پورٹرز موجود ہوتے ہیں اس لیے مسافروں کو اپنا سامان خود اٹھا کر طویل راہداریوں سے گزرنے کی ضرورت نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر مہمان کمرہ چھوڑنے والا ہو تو وہ فون کرکے عملے سے درخواست کرسکتا ہے کہ اس کا سامان وصول کرلیا جائے۔ بعض لوگ یہ سوچ کر مدد مانگنے سے ہچکچاتے ہیں کہ کہیں وہ عملے کو زحمت نہ دے رہے ہوں لیکن یہ سہولت ہوٹل کی خدمات ہی کا حصہ ہوتی ہے۔

ان کے مطابق مہمانوں کو ایسی خدمات حاصل کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ہوٹل کا عملہ اسی مقصد کے لیے موجود ہوتا ہے۔

چھوٹی چھوٹی باتیں اچھے مہمان کی پہچان ہیں

ولیم ہینسن کے مشوروں کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہوٹل میں قیام کے دوران بھی وہی اخلاقی اصول اپنانے چاہییں جن کی توقع ہم دوسروں سے اپنے گھر اور روزمرہ زندگی میں کرتے ہیں۔

عملے سے احترام سے بات کرنا، اپنی شکایت شائستگی سے بیان کرنا، دوسرے مہمانوں کے آرام کا خیال رکھنا، ہوٹل کی ملکیت کو نقصان نہ پہنچانا اور اچھی خدمات کی تعریف کرنا ایسے معمولی اقدامات ہیں جو کسی بھی سفر کو زیادہ خوشگوار بنا سکتے ہیں۔

ان کے مطابق اچھا مہمان وہ نہیں جو صرف مہنگے ہوٹل میں قیام کرے بلکہ وہ ہے جو اپنے رویے سے وہاں کام کرنے والوں اور دوسرے مہمانوں کے لیے بھی آسانی پیدا کرے۔

Share On Social Media

KARACHI

ادویات کی برآمدات 30 فیصد کم ہو کر تین سال کی کم ترین سطح پر آ گئیں

مالی سال 2026 کے دوران پاکستان کی ادویات کی برآمدات 30 فیصد کمی کے بعد

Read More

TECHNOLOGY

سپریم کورٹ مکمل اے آئی سے بنی ہو تو کیا ہوگا؟ قانون کے اسکول میں دلچسپ تجربہ

امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا کی ایک لاء یونیورسٹی نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی صلاحیتوں

Read More

فالج کی علامات ظاہر ہوں تو پہلے چند منٹ میں کیا کریں؟

فالج یا اسٹروک ایک ایسی خطرناک طبی حالت ہے جس میں ہر گزرتا منٹ اہم

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.