وسط مدتی انتخابات میں ممکنہ شکست: ٹرمپ انتظامیہ کا کانگریس کے بغیر حکومت چلانے کا خفیہ منصوبہ

امریکی وسط مدتی انتخابات کے دوران کانگریس میں اکثریت کھونے کے خدشات کے پیشِ نظر، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے قانون ساز ادارے کی منظوری کے بغیر صدارتی اختیارات کے ذریعے حکومت چلانے کے لیے مہینوں پر محیط ایک خفیہ روڈ میپ تیار کر لیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے وائٹ ہاؤس اہلکار اور اس معاملے سے واقف دو افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اگر ڈیموکریٹس انتخابات میں فتح حاصل کر کے کانگریس کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں، تو ٹرمپ انتظامیہ قانون سازی کے بجائے ایگزیکٹو آرڈرز اور صدارتی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اہم سیاسی و معاشی ایجنڈے کو آگے بڑھائے گی، ساتھ ہی ممکنہ کانگریسی تحقیقات کے خلاف بھی دفاعی حکمتِ عملی اپنائے گی۔

رپورٹ کے مطابق، ڈینیل ملر، بجٹ ڈائریکٹر رسل ووگٹ اور وائٹ ہاؤس کونسل ول شارف پر مشتمل سینیئر حکام کی ٹیم اس منصوبے پر اپریل 2026 سے کام کر رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ اس تیاری کے تحت ایسے ایگزیکٹو اقدامات کی نشاندہی کی جا رہی ہے جن کے ذریعے امگریشن، درآمدی ڈیوٹیوں، ہاؤسنگ اخراجات اور وفاقی فنڈز کے استعمال کے معاملے پر کانگریس کی اجازت کے بغیر فیصلے کیے جا سکیں۔

اگرچہ انتخابی سروے ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی برتری کا اشارہ دے رہے ہیں، تاہم صدر ٹرمپ کو اپنی دوسری مدتِ صدارت کے دوران تجارت، غیر ملکی پالیسی اور بیوروکریسی پر حاصل وسیع صدارتی اختیارات کے باعث فیصلے نافذ کرنے کا قانونی تحفظ حاصل رہے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹک اکثریت کی صورت میں اپنے مستقبل کے طرزِ عمل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسی صورتِ حال میں صدارتی ویٹو کا استعمال کریں گے۔

‘پوڈ فورس ون‘ پوڈکاسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ شروع میں ہر مخالف قانون کو روکنے کے لیے ’مسٹر ویٹو‘ بن جائیں گے اور بعد میں ڈیموکریٹس کے ساتھ ممکنہ معاہدوں کی راہ ہموار کریں گے۔

واضح رہے کہ ایوانِ نمائندگان میں 214، جبکہ سینیٹ میں 47 کی باریک اکثریت کے پیشِ نظر ڈیموکریٹس کو فتح کے لیے ایوانوں میں کم از کم چار، چار نشستوں کی ضرورت ہے۔

مجوزہ ایگزیکٹو اقدامات کے تحت ونڈ ٹربائنز اور اہم معدنیات کی درآمد پر نئے ٹریف عائد کرنے، غیر ملکی طلباء اور عارضی ورکرز کے ویزا قوانین کو سخت بنانے، اور ہاؤسنگ کے اخراجات کم کرنے سے متعلق صدارتی احکامات شامل ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ وائٹ ہاؤس کے بجٹ ڈائریکٹر رسل ووگٹ کانگریس سے پہلے سے منظور شدہ فنڈز کے سیاسی ترجیحات کے مطابق استعمال اور گرانٹس کی تقسیم کے قواعد بدلنے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ وفاقی اخراجات پر کنٹرول برقرار رکھا جا سکے۔

قانونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے وزارتِ انصاف سے صدارتی دائرہ اختیار کی حدود پر قانونی آرا بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب اگر ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول حاصل کرتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کو ایگزیکٹو آرڈرز سے ہٹ کر سنگین تحقیقات، دستاویزات کی طلبی، اور اہم عدالتوں و انتظامی عہدوں پر نامزدگیوں کی منظوری میں سخت رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے وکلا نے ممکنہ تحقیقات اور سمندری یا دفتری مراسلات کے احتساب سے نمٹنے کے لیے حکام کو پیشگی ہدایات جاری کر دی ہیں اور صدارتی مراعات کے استعمال کے ذریعے اندرونی مشاورت کو کانگریس کی نظروں سے محفوظ رکھنے پر کام شروع کر دیا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

سندھ حکومت کا سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کرانے کا اعلان

سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرانے کا اعلان

Read More

سانحہ گل پلازہ؛ گورنر کا جوڈیشل کمیشن کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس

Read More

TECHNOLOGY

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی: مصنوعی ذہانت نے نئی مشکل کھڑی کردی

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تیز رفتار ترقی نے انسانی زندگی کے کئی شعبوں

Read More

گوگل میپ میں بڑی تبدیلی: اے آئی اپ ڈیٹ اور نئے نیویگیشن فیچرز متعارف

گوگل میپس میں ایک نیا اے آئی فیچر ”آسک میپس“ متعارف کرایا جا رہا ہے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.