آن لائن دوستیاں: نجی پیغامات کے ذریعے بچوں کو کیسے پھنسایا جاتا ہے؟ برطانیہ میں تحقیق شروع

بچوں کو آن لائن جنسی استحصال اور اسی نوعیت کے نامناسب رویوں سے محفوظ رکھنے کے لیے برطانیہ میں ایک اہم تحقیقی منصوبے کا آغاز کیا جارہا ہے جس میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ بالغ افراد نجی پیغام رسانی کی ایپس اور پلیٹ فارمز کے ذریعے بچوں سے کس نوعیت کی نازیبا گفتگو کرتے ہیں اور یہ رابطے کس طرح انہیں استحصال کا نشانہ بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق بچوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے کام کرنے والے برطانوی ادارے ’نیشنل سوسائٹی فار دی پریوینشن آف کرولٹی ٹو چلڈرن‘ (این ایس پی سی سی) کی جانب سے شروع کرائی گئی ہے جس کی ذمہ داری اینگلیا رسکن یونیورسٹی کو سونپی گئی ہے۔

تحقیق کے تحت برطانیہ کے مختلف سیکنڈری اسکولوں میں زیرِ تعلیم 12 سے 18 سال کی عمر کے تقریباً 1500 نوجوانوں سے ایک آن لائن سروے کیا جائے گا۔ اس سروے میں شریک نوجوانوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی تاکہ وہ اپنے تجربات اور مشاہدات بلاجھجک بیان کرسکیں۔

تحقیق کا بنیادی مقصد یہ جاننا ہے کہ بچوں اور بالغ افراد کے درمیان نجی پیغام رسانی کے ذریعے جنسی نوعیت کی گفتگو کتنی عام ہے، یہ کن حالات میں ہوتی ہے اور اس کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

اینگلیا رسکن یونیورسٹی کے انٹرنیشنل پولیسنگ اینڈ پبلک پروٹیکشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر پروفیسر سمانتھا لنڈریگن نے اس تحقیق کو بچوں کے خلاف نقصان دہ رویوں کی روک تھام کے لیے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نجی پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنانے کے عمل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے جرائم پیشہ افراد کو بچوں اور نوجوانوں تک براہِ راست رسائی حاصل ہوجاتی ہے۔ اس رابطے سے انہیں بچوں کو اپنے جال میں پھنسانے اور دیگر نقصان دہ رویوں کے مواقع ملتے ہیں۔

پروفیسر سمانتھا کے مطابق تحقیق کے ذریعے قابلِ اعتماد شواہد جمع کرکے یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے گی کہ بچوں کو کس طرح نقصان پہنچایا جاتا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

بچوں کے تجربات کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟

این ایس پی سی سی کی آن لائن سیفٹی کی سربراہ رانی گووندَر نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ اینگلیا رسکن یونیورسٹی کے ساتھ اس اہم تحقیق میں شراکت پر خوش ہے۔

ان کے مطابق یہ بات سامنے آچکی ہے کہ جرائم پیشہ افراد نجی پیغام رسانی کی سہولتوں کو بڑے پیمانے پر بچوں سے رابطے اور انہیں اپنے جال میں پھنسانے کے لیے استعمال کررہے ہیں، جس کے بچوں کی حفاظت اور ذہنی و جسمانی بہبود پر طویل المدتی اور تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کے خلاف ایسے جرائم کی مؤثر روک تھام کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نجی پیغامات کے ذریعے انہیں کس طرح نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے خود نوجوانوں کی بات سننا اور ان کے تجربات کو سمجھنا انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

رانی گووندَر کے مطابق نوجوانوں کے تجربات ہی ایسے حل تیار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جن کے ذریعے بچوں کو آن لائن محفوظ بنایا جاسکے۔ تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج نجی پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز کے لیے زیادہ محفوظ معیارات متعارف کرانے کی کوششوں میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔

آن لائن تحفظ کے قوانین اور حکومتی اقدامات میں مدد

اس تحقیقی منصوبے کا ایک اہم مقصد برطانیہ میں آن لائن تحفظ کے حوالے سے جاری پالیسی سازی اور قانون سازی کی کوششوں کو شواہد فراہم کرنا بھی ہے۔

تحقیق کے نتائج این ایس پی سی سی کی جانب سے برطانوی میڈیا ریگولیٹری ادارے آف کام اور حکومت کے ساتھ جاری رابطوں اور مطالبات میں استعمال کیے جائیں گے تاکہ بچوں کے لیے آن لائن تحفظ کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔

اس تحقیق کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ نجی پیغام رسانی کی سہولتیں بچوں کے استحصال کے لیے کس طرح استعمال ہورہی ہیں اور ان پلیٹ فارمز پر بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کن عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

واٹس ایپ ویب پر بڑی مشکل آسان، نئے فیچرز متعارف

واٹس ایپ ویب ایک اہم اپ ڈیٹ کی تیاری کر رہا ہے، جس کے تحت

Read More

بیرون ملک سے پرانے اور استعمال شدہ برانڈڈ موبائل فونز کی درآمد پر نئی کسٹمز ویلیوز مقرر

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے بیرون ملک سے پرانے اور استعمال شدہ برانڈڈ

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.