مخصوص غذائیں گھٹنوں کے جوڑوں کی بیماری کا خطرہ کم کرسکتی ہیں، تحقیق

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ متوازن غذا، خصوصاً فائبر، ثابت اناج اور خمیر شدہ دودھ سے بنی اشیا کا استعمال گھٹنوں کے جوڑوں کی بیماری کا خطرہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 98 ہزار افراد پر کی گئی تحقیق میں غذائی عادات اور جوڑوں کی بیماری کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق میں خاص طور پر ایسی غذاؤں پر توجہ دی گئی جو آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کی افزائش اور صحت کے لیے فائدہ مند سمجھی جاتی ہیں۔

محققین نے دیکھا کہ فائبر، ثابت اناج اور خمیر شدہ دودھ سے بنی غذائیں استعمال کرنے والوں کی غذائی درجہ بندی بہتر تھی، جبکہ سرخ گوشت اور باریک پسے ہوئے اناج سے بنی اشیا کا زیادہ استعمال اس درجہ بندی کو کم کرتا تھا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق صحت بخش غذائیں زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں جوڑوں کی مجموعی بیماری کا خطرہ کم غذائیں کھانے والوں کے مقابلے میں 6 فیصد کم تھا، جبکہ گھٹنوں کے جوڑوں کی بیماری کا خطرہ 9 فیصد کم دیکھا گیا۔

محققین کے مطابق جسمانی وزن بھی اس فرق کی ایک اہم وجہ ہوسکتا ہے۔ اضافی وزن گھٹنوں پر دباؤ بڑھاتا ہے، جبکہ جسم میں توانائی کے استعمال کے عمل میں تبدیلیاں سوزش کا باعث بن سکتی ہیں۔

تاہم محققین نے واضح کیا کہ اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مخصوص غذا جوڑوں کی بیماری سے مکمل طور پر بچا سکتی ہے۔ اس لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے

ماہرین کے مطابق ثابت اناج، سبزیوں اور خمیر شدہ دودھ سے بنی غذاؤں کو معمول کا حصہ بنانا مجموعی صحت کے لیے مفید ہے، تاہم انہیں جوڑوں کے درد کا باقاعدہ علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی، خستہ حال سڑک کی ویڈیو بناتے ہوئے معروف یوٹیوبر کو ڈاکوؤں نے لوٹ لیا

شہر قائد میں معروف یوٹیوبر محسن اور ان کے کیمرہ مین کو فائیو اسٹار چورنگی

Read More

TECHNOLOGY

اب ’’YouTube‘‘ میں کوئی بھی ویڈیو اپنی زبان میں دیکھیں!

یوٹیوب نے صارفین کے لیے بڑی سہولت فراہم کر دی اب ناظرین کوئی بھی ویڈیو

Read More

نجی زندگی خطرے میں، چیٹ جی پی ٹی صارف کی خفیہ پروفائلز بنانے لگا

اوپن اے آئی کی ایک سابق محقق زوئی ہٹزِگ نے کمپنی چھوڑتے ہوئے خبردار کیا

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.