ایران نے خلیج میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا لیا

ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سکیورٹی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو زیرِ سمندر کیبلز سمیت مختلف اہداف کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق دو سینئر ایرانی سکیورٹی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تہران نے زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے تفصیلی منصوبے تیار کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ حملوں کے بعد کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش بھی کی جاسکتی ہے تاکہ انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی خدمات کی بندش طویل ہوسکے۔

ایک ایرانی عہدیدار نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کی صورت میں اہداف کے انتخاب پر کوئی پابندی باقی نہیں رہے گی۔ ان کے مطابق ایران کو زیرِ سمندر کیبلز تک رسائی حاصل ہے اور وہ انہیں تباہ کرسکتا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے سیاسی امور کے نائب سربراہ یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا تھا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو آبنائے ہرمز کے نیچے موجود انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

عالمی انٹرنیٹ پر ممکنہ اثرات

اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد حصہ زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔

تاہم ٹیلی کمیونیکیشن ریسرچ ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن کے مطابق آبنائے ہرمز سے عالمی بین الاقوامی انٹرنیٹ بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ گزرتا ہے، اس لیے وہاں کیبلز پر حملے کے عالمی اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر متعدد کیبلز کو نقصان پہنچا تو انٹرنیٹ کی رفتار کم ہونے کے ساتھ مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی خدمات بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔

مرمت میں مشکلات کا خدشہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران زیرِ سمندر کیبلز کی مرمت مشکل ہوسکتی ہے۔ انشورنس اخراجات میں اضافہ اور علاقائی پانیوں میں داخلے کے اجازت ناموں میں تاخیر بھی بحالی کے عمل کو متاثر کرسکتی ہے۔ خدمات پر پڑنے والے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ انٹرنیٹ ٹریفک کو متبادل کیبلز پر کس حد تک منتقل کیا جاسکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ امریکا کی جانب سے نئی فوجی کارروائی کی صورت میں پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔

ایرانی سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی بھی اس ماہ خبردار کرچکے ہیں کہ دوبارہ جنگ چھڑنے کی صورت میں خلیجی خطے میں امریکی مفادات سے منسلک ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

واشنگٹن کے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ میں ایران پروگرام کے سربراہ الیکس واتانکا کے مطابق ایسے بیانات کا مقصد نئی جنگ کو روکنا اور خلیجی ممالک اور امریکی کمپنیوں کو اپنے سرمایہ کاری منصوبوں کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کرکے واشنگٹن پر دباؤ بڑھانا ہوسکتا ہے۔

رپورٹ میں بحیرہ احمر کو بھی زیرِ سمندر کیبلز کے لیے ممکنہ طور پر اہم ہدف قرار دیا گیا ہے، خصوصاً اگر ایران کو یمن میں حوثی اتحادیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم ایران نے بحیرہ احمر میں کیبلز کو نشانہ بنانے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا۔

Share On Social Media

KARACHI

سانحہ گل پلازہ میں کے ایم سی کی کوئی غفلت نہیں، میونسپل کمشنر

کراچی(کورٹ رپورٹر) سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن میں میونسپل کمشنر کے ایم سی نے ذمہ

Read More

بھارت نے چھیڑا تو انجام دیکھ لیا، مودی آج تک منہ چھپاتا پھر رہا ہے، گورنر سندھ

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے نمائش چورنگی پر نجی این جی او کی جانب

Read More

TECHNOLOGY

ایران پر حملوں کے لیے استعمال کی گئی امریکی اے آئی ٹیکنالوجی ’پیلینٹیر ماون‘ کیا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سافٹ ویئر کمپنی ’پلانٹیر ٹیکنالوجیز‘ کی تعریف کے

Read More

میٹا نے اپنے انجنیئرز نئی اے آئی ٹیم میں منتقل کردیے، ملازمین کی برطرفی کا امکان

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے مصنوعی ذہانت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے اہم قدم

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.