کتاب انسان نے لکھی یا اے آئی نے؟ اب لیبل بتائے گا

مصنفین کی جانب سے چوری چھپے مصنوعی ذہانت سے کتابیں لکھنے کے کئی اسکینڈلز سامنے آنے کے بعد اب ایسی کتابوں کو لیبل دینے کا سلسلہ زور پکڑ رہا ہے جو واقعی انسانوں نے لکھی ہوں۔

اس ہفتے فرینکفرٹ میں دنیا کے سب سے بڑے بک فیئر میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت کئی لیبلنگ اسکیمیں پیش کی گئیں جہاں اے آئی سے درپیش چیلنجز پر گرما گرم بحث ہوئی۔

مصنفین کی جانب سے مبینہ طور پر اے آئی کے استعمال کے حالیہ کیسز میں سب سے نمایاں کیس ہیٹی نژاد کینیڈین مصنف تھیلیسن اوریلین کا ہے، جس نے فرانسیسی ادب کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔

سیلف پبلشنگ کمپنی اور لٹریری ایجنسی لائبری نووا کی شریک بانی شارلٹ ایلیبرٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ معاملہ فرانسیسی بک ٹریڈ کے لیے ایک ’حقیقی زلزلہ‘ تھا۔

فرانسیسی گروپ ایک اسکیم چلاتا ہے جس کے تحت مصنفین معمولی فیس کے عوض اپنی کتابوں کا جائزہ لے کر انہیں ’انسانی تخلیق‘ کے لیبل کے ساتھ تصدیق کرا سکتے ہیں اب تک تقریباً 200 کتابوں کو یہ اسٹیمپ دیا جا چکا ہے۔

لیبل کے خواہشمند مصنفین کی کتابوں کو اے آئی ڈیٹیکشن سافٹ ویئر سے گزارا جاتا ہے اور ایک آڈیٹر کے ساتھ انٹرویو لیا جاتا ہے جو کتاب کو ذاتی طور پر بھی چیک کرتا ہے۔

ایلیبرٹ نے کہا کہ مصنفین کے لیے یہ جان کر اطمینان ہوتا ہے کہ ہم اس مسئلے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ مصنفین کو اے آئی کے استعمال کے شبے کا خوف ہے بلکہ یہ خوف خود اشاعت کرنے والے مصنفین کو تو اور بھی زیادہ لاحق ہے۔

ایک اور اسکیم برطانوی اسٹارٹ اپ بکس بائی پیپل کی ہے جس نے اس ہفتے اعلان کیا کہ انسانی تصنیف کردہ کاموں کے لیے اس کا سرٹیفیکیشن مارک ملک کے انٹلیکچوئل پراپرٹی آفس میں رجسٹر ہو گیا ہے۔

اسٹیمپ حاصل کرنے کے لیے کتابوں کو گروپ کے ’آرگینک لٹریچر‘ معیارات پر پورا اترنا ہوتا ہے جس کے تحت تحریر مصنف کی اپنی ہونی چاہیے جبکہ اسپیلنگ یا گرامر چیک جیسے کاموں کے لیے اے آئی کے محدود استعمال کی اجازت ہے۔

اس اقدام کی شریک بانی ایسمی ڈینس نے اے ایف پی کو بتایا ہم ایک جامع، شفاف، قابل اعتماد فریم ورک بنانا چاہتے ہیں جس پر پبلشرز اور مصنفین بھروسہ کر سکیں حالیہ مہینوں میں غیر ظاہر شدہ اے آئی کے استعمال کے بارے میں بے چینی بڑھی ہے ہمیں دنیا بھر سے بہت زیادہ دلچسپی مل رہی ہے۔

پبلشرز فیس ادا کر کے اس اسکیم میں شامل ہوتے ہیں اور پھر اپنے مصنفین کی کتابوں پر بکس بائی پیپل کا مارک لگانے کی درخواست کر سکتے ہیں۔ اس اسکیم کا آغاز پانچ آزاد پبلشرز کے ساتھ ہوا اور آنے والے مہینوں میں مزید اراکین کا اعلان کیا جائے گا۔

امریکا میں رائٹرز گروپ آتھرز گلڈ نے ’ہیومن آتھرڈ‘ سرٹیفیکیشن مارک متعارف کرایا ہے۔ یہ ایک سیلف سرٹیفیکیشن سسٹم ہے جس کے لیے مصنفین کو لائسنس معاہدے پر دستخط کرنا ہوتے ہیں، اور اب تک تقریباً 6,500 کتابوں کو یہ اسٹیمپ مل چکا ہے۔

اوریلین کے گرد تنازع گزشتہ ماہ اس وقت شروع ہوا جب ایک گمنام ایکس اکاؤنٹ نے الزام لگایا کہ 38 سالہ مصنف نے اپنا پہلا ناول اٹ واز آئیدر دیٹ اور ڈائی لکھنے کے لیے اے آئی کا استعمال کیا، یہ دعویٰ اے آئی ڈیٹیکشن ویب سائٹس کے ذریعے اقتباسات کے تجزیے پر مبنی تھا۔

انہوں نے دعوؤں کی تردید کی ہے اور ان کا ماننا ہے کہ ان کے کام پر حملے نسلی بنیادوں پر ہیں اگرچہ اس اسکینڈل کی وجہ سے انہیں فرانس کے ٹاپ ادبی انعام سے باہر کر دیا گیا۔

حالیہ دنوں میں کئی اور کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔ رواں سال کے شروع میں پبلشر ہاشٹ نے امریکا میں ہارر ناول شائی گرل از میا بیلارڈ کی اشاعت منسوخ کر دی اور برطانیہ میں اس کتاب کو فروخت سے واپس لے لیا جس کی وجہ اے آئی کے استعمال کے الزامات تھے۔

دی نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں بیلارڈ نے ذاتی طور پر اے آئی کے استعمال سے انکار کیا لیکن کہا کہ جس جاننے والے کو انہوں نے کتاب کی ایڈیٹنگ کے لیے رکھا تھا جو اصل میں سیلف پبلش ہوئی تھی اس نے اے آئی کا استعمال کیا تھا۔

بڑھتے ہوئے اسکینڈلز کے باوجود، بک ٹریڈ میں کچھ لوگ لیبلز کے خیال کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ موجودہ اسکیمیں زیادہ تر تحقیق اور گرامر چیک جیسے کاموں کے لیے اے آئی کے کم سے کم استعمال کی اجازت دیتی ہیں لیکن خدشہ ہے کہ اس کی تشریح مختلف انداز میں ہو سکتی ہے۔

یہ خدشات بھی ہیں کہ ان ابتدائی اقدامات میں چیک کو نظر انداز کرنا بہت آسان ہو سکتا ہے اور اے آئی سے تیار کردہ کتابوں کو انسانی تحریر کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

جرمن پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے سربراہ سیباسٹین گگولز نے کہا کہ بک ٹریڈ کو یہ طے کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کہ کیا رویہ اپنایا جائے۔

انہوں نے بک فیئر میں کہا ’کوئی سادہ ’اے آئی کے ساتھ‘ یا ’اے آئی کے بغیر‘ والا معاملہ نہیں ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی ٹائٹل کی تیاری میں کتنی اے آئی استعمال ہوئی اس کی درجہ بندی کرنے کی بنیادی اسکیمیں ناکافی ہو سکتی ہیں۔

سیباسٹین نے مزید کہا کہ سوال کو مزید گہرائی میں جانا ہوگا اور اسے ہر فرد اور پوری انڈسٹری سے پوچھنا ہوگا کہ ہم اپنے طریقوں کو شفاف کیسے بنانا چاہتے ہیں؟

Share On Social Media

KARACHI

’کسی پرنسز گلوریا کو نہیں جانتا‘: بلاول بھٹو کی منگنی کی خبروں کی تردید

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سوشل میڈیا پر

Read More

جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے تین ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان

Read More

TECHNOLOGY

ٹائپنگ کی چھٹی، گوگل کے جی میل ، ڈاکومینٹس اور کیپ کے لیے نئے لائیو اے آئی وائس فیچرز متعارف

گوگل نے جی میل، ڈاکومینٹس (ڈاکس) اور کیپ میں جدید ترین مصنوعی ذہانت پر مبنی

Read More

گوگل سرچ لائیو کا نیا ڈیزائن: آئیکنز کی تبدیلیاں اور منفرد اینیمیشن متعارف

گوگل اپنے ’سرچ لائیو‘ فیچر کے ویژول ڈیزائن میں ایک بار پھر دلچسپ تبدیلیاں کر

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.