اقرار الحسن کی گرفتاری یا اغوا؟ اہلِ خانہ کے تہلکہ خیز انکشافات، سنگین الزامات سامنے آگئے!

معروف ٹی وی اینکر اقرار الحسن کو لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اہلکار رات گئے گھر میں داخل ہوئے اور اس دوران توڑ پھوڑ کے علاوہ اہلِ خانہ کے موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار کے مطابق کارروائی کے دوران اہلکاروں کے ہمراہ خواتین اہلکار بھی موجود تھیں جن کے بیجز پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) درج تھا۔

فرح اقرار کا کہنا ہے کہ گھر کے تمام افراد رات کے وقت سو رہے تھے کہ اسی دوران نامعلوم افراد گھر کے مرکزی گیٹ اور دروازے توڑ کر زبردستی اندر داخل ہوئے۔ ان کے مطابق اہلکار دروازے توڑتے ہوئے کمروں تک پہنچے، موبائل فونز اور آئی پیڈ اپنے ساتھ لے گئے۔ فرح اقرار نے دعویٰ کیا کہ ان سے بھی موبائل فون چھین لیا گیا۔

اہلیہ کے مطابق کارروائی کے دوران گھر میں نصب ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر (ڈی وی آر) اور سکیورٹی سسٹم کو بھی نقصان پہنچایا گیا جس کے باعث واقعے کی ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ نہ رہنے کے خدشات پیدا ہوئے۔

دوسری جانب اقرار الحسن کی گرفتاری کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ متعدد صارفین نے مبینہ کارروائی کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں کسی معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کرنا مقصود تھا تو باقاعدہ نوٹس دے کر بھی بلایا جا سکتا تھا، رات گئے اس انداز میں کارروائی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

سوشل میڈیا صارف نجیب اللہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ جس طریقے سے انہیں گرفتار کیا گیا، وہ گرفتاری نہیں بلکہ اغوا معلوم ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ غیر قانونی اور انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے۔

کئی صارفین یہ سوال کرتے نظر آئے کہ آخر گرفتاری کی وجوہات کیا ہیں؟

اقرار الحسن کی پہلی اہلیہ قرۃ العین نے کہا کہ ’رات دو بجے فیز 8 ہمارے گھر میں 5 سے 7 مرد اور 2 عورتیں زبردستی گھسیں اور میرے شوہر اقرار الحسن کو زبردستی اغوا کر کے دو گاڑیوں میں لے گئے۔ ​ڈی ایچ اے سیکیورٹی موجود تھی لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور 15 پر کال کرنے کے باوجود پولیس ڈیڑھ گھنٹے بعد پہنچی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’​جب ہم تھانے گئے تو پولیس نے یہ کہہ کر رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا کہ ’وائی فائی نہیں آ رہا‘، انہوں نے مزید کہا کہ ​’جو شخص پچھلے 20 سال سے پاکستان میں طاقتور اور بااثر لوگوں کو بے نقاب کرتا آ رہا ہے آج اسی کے گھر میں یہ سب ہوا اور اس کا معصوم بیٹا یہ سب دیکھ رہا ہے‘۔

اقرار الحسن کی اہلیہ قرۃ العین نے مریم نواز سے اپیل کی کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور انتظامیہ کو الرٹ کریں کہ جلد از جلد اقرار کو بازیاب کرایا جائے۔ کیونکہ آج ایک مشہور صحافی کے ساتھ ہوا ہے کل کسی بھی عام شہری کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں اور اقرار الحسن کی بازیابی کے لیے آواز اٹھائیں۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

آئی فون کی فروخت نے تاریخ کی بلند ترین سطح حاصل کر لی

ایپل نے اپنی مالی سال کی شروعات مضبوط انداز میں کی ہے اور بتایا ہے

Read More

چینی کمپنی گی اسپیِس اور پاک سیٹ کے درمیان سیٹلائٹ کنیکٹیوٹی کے فروغ کا معاہدہ

چین کی کمرشل اسپیس کمپنی گی اسپیِس نے پاکستان کی سیٹلائٹ کمیونیکیشن آپریٹر پاک سیٹ

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.