امریکا کا مائیکرو سافٹ سمیت بھارتی کمپنیوں کو ایچ ون بی پروگرام کے تحت معطل کرنے کا فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ٹیکنالوجی جائنٹ مائیکرو سافٹ سمیت بھارتی آئی ٹی کمپنیوں اور امریکی جامعات کو ایچ ون بی ویزہ پروگرام کے تحت معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے مائیکروسافٹ سمیت آٹھ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر غیر ملکی ملازمین کے لیے گرین کارڈ پروگرام کے غلط استعمال کا الزام لگاتے ہوئے ان کی شرکت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ان کمپنیوں کی بھرتیوں سے امریکی شہریوں کے روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مائیکروسافٹ نے امریکی ملازمین کو ملازمتوں سے نکالنے کے باوجود بڑی تعداد میں غیر ملکی کارکنوں کے لیے ویزے اور گرین کارڈ حاصل کیے۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ مائیکروسافٹ نے گزشتہ برس تقریباً 6 ہزار امریکی ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کیا، جبکہ اسی عرصے میں کمپنی نے غیر ملکی کارکنوں کے لیے 6 ہزار 300 ایچ ون بی ویزے حاصل کیے اور تقریباً 3 ہزار گرین کارڈ بھی حاصل کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو مائیکروسافٹ نے ہر ایک امریکی ملازم کو نکالنے کے مقابلے میں ڈیڑھ غیر ملکی کارکن کو ملازمت دینے کا انتظام کیا۔

جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ مائیکروسافٹ ایک عظیم امریکی کمپنی ہے، لیکن اسے بہترین امریکی کارکنوں کو ملازمت دینی چاہیے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ گرین کارڈ کے لیے درخواست دینے سے پہلے کمپنیوں کو امریکی اخبارات میں ملازمتوں کے اشتہارات دینے کی شرط پوری کرنا ہوتی ہے۔ ان کے مطابق بعض کمپنیاں چھوٹے شہروں کے اخبارات میں اشتہار دیتی ہیں اور پھر یہ کہہ کر غیر ملکی کارکنوں کو بھرتی کرنے کی اجازت حاصل کر لیتی ہیں کہ انہیں مقامی افراد کی جانب سے درخواستیں موصول نہیں ہوئیں۔

وینس نے کہا کہ اس طریقے کے ذریعے امریکی کارکنوں کی جگہ غیر ملکی ملازمین کو لایا جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملازمت سے محروم ہونے والے ایچ ون بی ویزا رکھنے والے افراد کو امریکا چھوڑنے کا خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔

تاہم مائیکروسافٹ نے ان الزامات کے جواب میں کہا کہ گزشتہ مالی سال میں کمپنی کی جانب سے جمع کرائی گئی تقریباً 6 ہزار ایچ ون بی ویزا درخواستوں میں سے 80 فیصد پہلے سے کام کرنے والے ملازمین کے ویزوں کی مدت بڑھانے یا ان کی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے تھیں۔

مائیکروسافٹ نے وضاحت میں کہا کہ یہ درخواستیں نئے لوگوں کو بھرتی کرنے کے لیے نہیں تھیں۔

مائیکروسافٹ نے مزید کہا کہ نئے ملازمین کے لیے جمع کرائی گئی باقی درخواستیں بھی ایسے افراد سے متعلق تھیں جو پہلے ہی قانونی طور پر امریکا میں موجود تھے اور کمپنی میں کام کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ کمپنی کے مطابق یہ افراد امریکا آنے والے نئے تارکین وطن نہیں تھے اور ان کی تعداد امریکا میں مائیکروسافٹ کے مجموعی ملازمین کا صرف ایک فیصد تھی۔

مائیکروسافٹ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایچ ون بی ویزے کے لیے صرف ایسے افراد کی درخواستیں جمع کراتا ہے جو اس ویزا کی مقررہ شرائط پر پورا اترتے ہیں۔

جے ڈی وینس کے مطابق مائیکروسافٹ کے علاوہ ایڈوب، کاگنیزنٹ، انفوسس، ٹاٹا، وِپرو، ایچ سی ایل اور کیپجیمنی کے خلاف بھی یہی کارروائی کی جا رہی ہے۔

ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ وہ غیر ملکی ملازمین کی بھرتی کے لیے دستیاب امیگریشن پروگراموں کا غلط استعمال کر رہی ہیں۔ تاہم ان کمپنیوں نے فوری طور پر الزامات پر کوئی تبصرہ جاری نہیں کیا۔

امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز کے اعداد و شمار کے مطابق، ایچ ون بی ویزے حاصل کرنے والے امریکی اداروں میں مائیکروسافٹ پانچویں نمبر پر ہے، جبکہ ایمیزون پہلے نمبر پر ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایچ ون بی ویزا امریکا میں ایسے غیر ملکی ماہرین کو ملازمت دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے جن کی مہارت کی ضرورت ہو۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں اس پروگرام سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتی ہیں اور اس ویزے کے تحت منظور ہونے والی تقریباً تین چوتھائی درخواستیں بھارت سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کی ہوتی ہیں۔

سابق امریکی انتظامیہ میں شہریت اور امیگریشن سروسز کے سینئر مشیر ڈگ رینڈ نے جے ڈی وینس کے اعلان کو غیر واضح قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی یہ سمجھتی ہے کہ ایچ ون بی ویزے پر کام کرنے والے افراد کا استحصال ہوتا ہے تو پھر کمپنیوں کو ان ملازمین کے لیے گرین کارڈ حاصل کرنے سے روکنا مناسب اقدام نہیں۔

ڈگ رینڈ نے کہا کہ جب آپ کے پاس گرین کارڈ آ جاتا ہے تو آپ اپنی امیگریشن حیثیت کے لیے اپنے آجر پر انحصار نہیں کرتے۔ آپ مستقل رہائشی بن جاتے ہیں اور ملازمت تبدیل کرنے کے ساتھ بہتر تنخواہ کے لیے بھی بات چیت کر سکتے ہیں۔

ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور ایچ ون بی پروگرام کے ناقد رون ہیرا نے مائیکروسافٹ کے خلاف کارروائی کو انتہائی اہم قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی کارکنوں کے تحفظ کے لیے یہ شرط موجود ہے کہ اگر کوئی کمپنی ایچ ون بی ویزے پر غیر ملکی ملازم رکھتی ہے تو اس سے اسی نوعیت کے کام کرنے والے امریکی ملازمین کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے، لیکن ان کے مطابق اس شرط پر مؤثر انداز میں عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی کارروائی صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ غیر ملکی طلبہ اور امریکی جامعات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے بدھ کو ایک تجویز پیش کی تھی جس کے تحت امریکا میں تعلیم حاصل کرنے والے بین الاقوامی طلبہ کو تعلیم کے دوران یا بعد میں متعلقہ شعبے میں کام کرنے کی اجازت دینے والے پروگرام کے لیے فی طالب علم 70 ہزار ڈالر فیس عائد کی جا سکتی ہے۔ اس تجویز کے تحت متعلقہ تعلیمی اداروں کو یہ فیس ادا کرنا ہوگی۔ تاہم یہ ایک مجوزہ اقدام ہے۔

جے ڈی وینس نے نو امریکی یونیورسٹیوں کے خلاف جے ون ویزا پروگرام میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ یہ ویزا غیر ملکی شہریوں کو تبادلے کے پروگراموں کے تحت عارضی طور پر امریکا میں تعلیم حاصل کرنے یا کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

جن جامعات کا نام لیا گیا ان میں ہارورڈ، ییل، اسٹینفورڈ، براؤن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف پٹسبرگ، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس، کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

اسٹینفورڈ یونیورسٹی نے کہا کہ وہ تحقیقات میں تعاون کرے گی، جبکہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس نے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر متعلقہ قواعد پر عمل درآمد کی تصدیق کرنے کی بات کی۔

ایم آئی ٹی، براؤن یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف پٹسبرگ نے بتایا کہ انہیں غیر ملکی کارکنوں سے متعلق پروگراموں کے بارے میں حکومتی سمن موصول ہوئے ہیں اور وہ ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ییل یونیورسٹی نے کہا کہ تحقیقاتی دستاویزات موصول ہونے کے بعد ان کا جائزہ لیا جائے گا۔

ایم آئی ٹی کی ترجمان کمبرلی ایلن نے کہا کہ ایم آئی ٹی میں جے ون ویزا رکھنے والے ہر فرد کی جانچ پڑتال امریکی حکومت نے کی ہے اور اسے یہاں آنے کی اجازت دی ہے۔ ہم امریکی قوانین پر عمل کرنے کی اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ان اقدامات کو امریکی ملازمین کے تحفظ اور امیگریشن نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ماہرین اور طلبہ کے لیے مواقع محدود کرنے سے امریکی اداروں کی عالمی صلاحیتوں کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ تاہم مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں کے خلاف عائد الزامات کے حتمی تعین کے لیے متعلقہ تحقیقات اور قانونی کارروائی اہم ہوں گی۔

Share On Social Media

KARACHI

150 تولے سونا اور لاکھوں کی نقدی؛ کراچی میں رواں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی

کراچی کے علاقے گڈاپ سٹی میں رواں سال کی بڑی ڈکیتی کی واردات سامنے آئی

Read More

وزارت خزانہ نے یورو بانڈ اور پانڈا بانڈ سے متعلق رپورٹس کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا

وزارتِ خزانہ نے پاکستان کے خودمختار فنانسنگ معاملات، جن میں یورو بانڈ اور پانڈا بانڈ

Read More

TECHNOLOGY

جان کا خطرہ: کھُلنے کے ایک مہینے بعد دوائی کو پھینک دینا کیوں ضروری ہے؟

اکثر لوگ دوا کی بوتل یا پیکٹ پر لکھی ہوئی ایکسپائری ڈیٹ دیکھ کر مطمئن

Read More

گلوبل اے آئی گورننس کی جانب اہم پیش قدمی، پاکستان ’ وائیکو ‘ کا بانی رکن بن گیا

پاکستان نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.