پہلے برآمد، پھر درآمد، پاکستان میں چینی بحران کا پرانا چکر

پاکستان میں چینی کی صنعت ایک بار پھر حکومت سے ایک ملین ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگ رہی ہے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کا دعویٰ ہے کہ ملک میں ایک لاکھ نہیں بلکہ تقریباً 10 لاکھ 30 ہزار ٹن اضافی چینی موجود ہے اور نومبر میں گنے کی نئی کرشنگ شروع ہونے سے قبل یہ ذخیرہ ختم کرنا ضروری ہے۔

شوگر ملز کے مطابق اضافی چینی کی برآمد سے گودام خالی ہوں گے، ملز کو مالی وسائل دستیاب ہوں گے اور وہ نئی گنے کی فصل خرید سکیں گی۔ صنعت کا اندازہ ہے کہ ایک ملین ٹن چینی کی برآمد سے تقریباً 60 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوسکتا ہے۔

تاہم حکومت کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ملک میں واقعی اتنی مقدار میں اضافی چینی موجود ہے؟ گزشتہ برس کا تجربہ اس معاملے کو مزید حساس بنا دیتا ہے، جب حکومت نے تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی، لیکن بعد میں ملک میں قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں اور بعض مارکیٹوں میں چینی 180 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔

صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت نے بعدازاں تقریباً 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کی، جس پر لگ بھگ 15 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے۔ یوں پاکستان نے پہلے چینی برآمد کی اور پھر مقامی قلت دور کرنے کے لیے اسے دوبارہ درآمد کیا۔

رواں سال بھی حکومت محتاط دکھائی دیتی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے پاس موجود ایک لاکھ 8 ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کے لیے بین الاقوامی ٹینڈرز طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ وہی چینی ہے جو گزشتہ سال قلت کے دوران درآمد کی گئی تھی۔

پی ایس ایم اے کے صدر زکا اشرف کے مطابق شوگر ملز کے تمام ذخائر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے نظام کے ذریعے مانیٹر کیے جا رہے ہیں اور ہر بوری کا حساب موجود ہے، اس لیے دوبارہ فزیکل تصدیق کی ضرورت نہیں۔ تاہم ایسوسی ایشن کے اپنے اعداد و شمار میں تبدیلی نے سوالات پیدا کیے ہیں۔ جولائی میں مختلف مواقع پر چینی کے ذخائر اور متوقع سرپلس کے الگ الگ اعداد و شمار پیش کیے گئے۔

شوگر ملز کا کہنا ہے کہ گوداموں میں موجود چینی نے ان کے لیے لیکویڈیٹی بحران پیدا کردیا ہے، جس کے باعث بینک قرضوں کی ادائیگی اور کسانوں کو واجبات کی ادائیگی متاثر ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب کسان تنظیمیں بھی برآمد کے معاملے پر تقسیم ہیں۔

پاکستان کسان اتحاد نے ایک ملین ٹن چینی فوری برآمد کرنے کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اضافی ذخیرہ برقرار رہنے سے ملز نئی فصل خریدنے کے قابل نہیں رہیں گی اور کسانوں کو نقصان ہوسکتا ہے۔

اس کے برعکس پی ٹی آئی کسان ونگ نے برآمد کی مخالفت کرتے ہوئے آزادانہ فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ ماضی میں برآمد کے بعد قلت اور قیمتوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی؛ ڈمپر کی ٹکر سے خاتون سمیت 2 افراد زخمی، بے قابو ٹرالر بینک میں جا گھسا

شہر قائد میں بے لگام ٹینکرز، ٹرالرز سے ہونے والے حادثات تھمنے کا نام نہیں

Read More

صدر مملکت کی نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری، کامران ٹیسوری کا فون، مبارکباد

صدرِ مملکت نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل 48

Read More

TECHNOLOGY

اوپن اے آئی بچوں کی خفیہ فنڈنگ کے الزام کی زد میں

اوپن اے پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے بچوں کی حفاظت سے

Read More

نیا اے آئی ٹول انتہا پسندی روکنے اور مدد فراہم کرنے کے لیے تیار

نیوزی لینڈ کی کمپنی تھرو لائن ایک نیا ٹول تیار کررہی ہے جو صارفین میں

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.