سوئیڈن: دنیا کا وہ ملک جہاں خود کو ’خاص‘ سمجھنا پسند نہیں کیا جاتا

سویڈن میں برابری کو خاص اہمیت حاصل ہے، اپنی کامیابیوں کا ڈھنڈورا پیٹنا پسند نہیں کیا جاتا اور کسی محفل میں خود کو دوسروں سے بہتر ظاہر کرنا بھی معیوب سمجھا جا سکتا ہے مگر یہی لوگ اپنی انفرادیت اور تہوار منانے کے لیے بھی مشہور ہیں۔ آخر اس بظاہر تضاد کی وجہ کیا ہے؟

اگر آپ سویڈن جائیں اور کسی سویڈش شہری کی انگریزی کی تعریف کریں تو ممکن ہے وہ فوراً آپ کی تعریف کو مسترد کرتے ہوئے کہہ دے کہ ’نہیں، میری انگریزی کہاں اتنی اچھی ہے‘۔

اگر کسی سویڈش شخص کی کامیابی کو بہت زیادہ سراہا جائے تو وہ بھی شاید بے آرام ہوجائے۔

یہ رویہ محض شرم یا کم اعتمادی کا معاملہ نہیں بلکہ سویڈش معاشرت میں جڑی ایک قدیم ثقافتی سوچ سے بھی منسلک ہے جسے ’قانونِ یانتے‘ کہا جاتا ہے۔

’یہ مت سمجھو کہ تم کوئی خاص ہو‘

قانونِ یانتے کی بنیاد 1933 میں ڈینش-ناروے کے مصنف ایکسل ساندموسے کے طنزیہ ناول اے فیوجٹو کراسز ہز ٹریکس میں ملتی ہے۔

ناول میں ’یانتے‘ نامی ایک فرضی قصبے کے معاشرتی رویوں پر طنز کرتے ہوئے 10 ایسے اصول بیان کیے گئے جو ہر اس شخص کو دوبارہ اپنی جگہ یاد دلاتے ہیں جو خود کو دوسروں سے غیر معمولی یا برتر سمجھنے لگے۔

ان میں ایک مشہور اصول کا مفہوم ہے کہ ’یہ مت سمجھو کہ تم کوئی خاص ہو۔’

ایک اور اصول یہ ہے کہ انسان خود کو دوسروں سے زیادہ ذہین نہ سمجھے۔

یہ اصول دراصل معاشرے میں حد سے زیادہ خود نمائی اور برتری کے احساس پر طنز تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ’قانونِ یانتے‘ سویڈن سمیت اسکینڈینیویا کے بعض معاشروں میں عاجزی، برابری اور سماجی توازن کی علامت بن گیا۔

کامیابی ہو تو بھی اسے زیادہ نمایاں نہ کریں

سویڈش معاشرے میں عہدے، دولت یا کامیابی کی بنیاد پر دوسروں سے خود کو نمایاں کرنا پسند نہیں کیا جاتا۔

وسطی سویڈن یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر اسٹیفن ڈالبری کے مطابق قانونِ یانتے کو آج کسی باقاعدہ قانون یا سخت ضابطے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ ایسے سماجی اصولوں کے لیے ایک مختصر اصطلاح ہے جو روزمرہ زندگی میں نظر آتے ہیں۔

ان کے مطابق سویڈن میں سماجی مرتبے کے فرق کو عموماً کم اہمیت دی جاتی ہے، تعلقات نسبتاً غیر رسمی ہوتے ہیں اور کھلے عام اپنی کامیابی یا حیثیت کا اظہار منفی انداز میں لیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: نوبیل امن انعام 2026 کے لیے 287 نامزدگیاں موصول، ٹرمپ، زیلینسکی اور گریٹا تھنبرگ بھی شامل

سویڈش اداکار الیگزینڈر اسکارسگارڈ نے بھی ایک امریکی ٹی وی پروگرام میں مذاقاً قانونِ یانتے کو اس وجہ کے طور پر بیان کیا تھا کہ وہ اپنے اداکاری کے اعزازات نمایاں جگہ پر رکھنے سے گریز کرتے ہیں تاکہ یہ تاثر نہ ملے کہ وہ اپنی کامیابیوں پر فخر جتا رہے ہیں۔

لیکن سویڈش لوگ انفرادی بھی ہیں

یہاں سے سویڈش معاشرے کا ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے۔

ایک طرف دوسروں سے زیادہ نمایاں ہونے سے گریز کیا جاتا ہے مگر دوسری طرف سویڈش معاشرہ انفرادی آزادی اور ذاتی انتخاب کو بھی خاص اہمیت دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق قانونِ یانتے کا مطلب یہ نہیں کہ سویڈن میں ہر شخص کو اپنی صلاحیت چھپانی پڑتی ہے۔ اس تصور کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ کوئی شخص صرف دولت، کامیابی یا بڑے عہدے کی وجہ سے دوسروں سے بہتر نہیں ہوجاتا۔

یعنی ’تم دوسروں سے بہتر نہیں‘ کو اس طرح بھی پڑھا جاسکتا ہے کہ ’دوسرے بھی تم سے بہتر نہیں صرف اس لیے کہ وہ زیادہ امیر، کامیاب یا بااثر ہیں۔‘

سویڈش لوگ اجنبیوں سے بات کیوں نہیں کرتے؟

سویڈن آنے والے غیر ملکیوں کے لیے یہی سماجی اصول کبھی کبھی الجھن کا باعث بن سکتے ہیں۔

مثلاً کسی خاموش ٹرین میں کسی اجنبی سے اچانک آنکھیں ملا کر ’ہیلو، کیسے ہیں؟‘ کہنا سویڈش شہری کے لیے قدرے غیر معمولی تجربہ ہوسکتا ہے۔

سویڈن میں طویل عرصے سے رہنے والی نائجیریا نژاد امریکی مصنفہ اور فوٹوگرافر لولا اکِن میڈے اوکرستروم کے مطابق سویڈن بیک وقت دنیا کا سب سے کھلا معاشرہ مگر انتہائی نجی مزاج رکھنے والے لوگوں کا ملک محسوس ہوسکتا ہے۔

ان کے مطابق اجنبیوں سے فاصلہ رکھنا لازماً سرد مہری نہیں بلکہ دوسرے شخص کی نجی حدود اور ذاتی جگہ کا احترام بھی ہوسکتا ہے۔

البتہ دوستی قائم ہوجائے تو معاملہ مختلف ہوتا ہے۔ سویڈش ثقافت کی ماہر یونوے گوسنر کے مطابق سویڈش لوگ عموماً دوستیاں قائم ہونے کے بعد انتہائی وفادار اور قابلِ اعتماد ثابت ہوتے ہیں۔

اسی لیے وہ غیر ملکیوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ سویڈش لوگوں سے دوستی کے لیے پہلا قدم اٹھانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔

دوستی کا آسان راستہ ’فیکا‘

سویڈش ثقافت میں ’فیکا‘ ایک ایسا موقع ہے جو لوگوں کو بغیر کسی دباؤ کے ایک دوسرے کے قریب آنے میں مدد دیتا ہے۔

فیکا بنیادی طور پر کافی یا چائے کے ساتھ کچھ میٹھا کھانے اور دوسروں کے ساتھ وقت گزارنے کی روایت ہے۔

مثلاً دارچینی کی خوشبو والے بن کے ساتھ ایک کپ کافی پر ملاقات کسی اجنبی کے ساتھ سڑک پر رسمی گفتگو کرنے کے مقابلے میں سویڈش سماج میں زیادہ فطری انداز ہوسکتا ہے۔

غیر ملکیوں کے لیے سویڈش معاشرت کو سمجھنے کا ایک آسان اصول بھی یہی ہے کہ وقت کی پابندی کریں، دوسروں کی نجی حدود کا خیال رکھیں اور ضرورت سے زیادہ اپنی تعریف نہ کریں۔

ایک گھنٹے کی تاخیر اور ’بہت زیادہ‘ کھانا

سویڈش سماجی آداب میں وقت کی پابندی کی اہمیت سمجھنے کے لیے ایک واقعہ خاصا دلچسپ ہے۔

سویڈش ثقافت کی ماہر یونوے گوسنر کے مطابق جنوبی امریکا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سویڈن میں ایک دعوت پر ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچیں۔ وہ اپنے ساتھ بڑی مقدار میں کھانا بھی لے کر گئیں تاکہ میزبان کو حیران کرسکیں۔

لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ جب وہ پہنچیں تو باقی مہمان کھانا کھا چکے تھے۔

گوسنر کے مطابق میزبان اس صورت حال سے خوش نہیں تھیں اور لایا گیا کھانا ایک کمرے میں رکھ دیا گیا۔

اس مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ سویڈش معاشرے میں اچانک بڑا تحفہ یا توقع سے زیادہ کوئی چیز پیش کرنا بھی بعض اوقات عجیب تاثر پیدا کرسکتا ہے۔ اگرچہ نیت اچھی ہو مگر اسے غیر ارادی طور پر اپنی چیز کو دوسروں سے بہتر ظاہر کرنے کے طور پر بھی لیا جاسکتا ہے۔

سویڈن میں تو ایک مذاق بھی مشہور ہے کہ ’شکریے کے پیغام کا بھی شکریہ ادا کرنا نہ بھولیں۔‘

پھر سویڈش لوگ اتنی خوشی سے جشن کیسے مناتے ہیں؟

اگر سویڈش ثقافت میں خود نمائی اتنی ناپسندیدہ ہے تو پھر کرسمس، ایسٹر، مڈسمر، سالگرہیں اور طلبہ کی تقریبات اتنی بھرپور کیوں ہوتی ہیں؟

یہ قانونِ یانتے کا ایک اور دلچسپ پہلو ہے۔

سویڈش معاشرے میں اجتماعی تقریبات کے دوران عام دنوں کی خاموشی اور محتاط رویہ خاصا بدل سکتا ہے۔ روایتی گیت، تقریریں اور خوشی منانے کے مختلف طریقے لوگوں کو زیادہ کھل کر اظہار کرنے کی گنجائش دیتے ہیں۔

جمعے کی شام خاندان یا دوستوں کے ساتھ سادہ اور آرام دہ وقت گزارنے کی روایت ’فریڈگز میس‘ اور ہفتے کے روز بچوں کو میٹھی چیزیں کھانے کی اجازت دینے کی روایت ’لوردگز گوڈِس‘ بھی سویڈش زندگی کے اسی نسبتاً سادہ مگر خوشگوار پہلو کی عکاسی کرتی ہیں۔

سویڈن میں تقریبات کے دوران چھوٹے قومی پرچم سالگرہ کے کیک، دکانوں کی اشیا اور طلبہ کی تقریبات میں بھی نظر آسکتے ہیں۔

ماہر بشریات اور ماہر ثقافت اوروار لوفگرین کے مطابق سویڈش لوگ خود کو غیر قوم پرست سمجھنا پسند کرتے ہیں لیکن حقیقت میں قومی پرچم لہرانے سے بھی خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق سویڈش لوگ جشن منانے میں بھی بہت آگے ہیں اور کرسمس، ایسٹر، مڈسمر، سالگرہوں اور طلبہ کی تقریبات میں بعض دوسرے یورپی معاشروں کے مقابلے میں زیادہ جوش و خروش دکھاتے ہیں۔

سویڈن کے سرخ گھر بھی یہی کہانی سناتے ہیں

یہ سادگی صرف لوگوں کے رویوں تک محدود نہیں۔ سویڈن کے دیہی علاقوں میں نظر آنے والے روایتی سرخ رنگ کے موسم گرما کے گھروں میں بھی یہی ثقافتی انداز دکھائی دیتا ہے۔

لوفگرین کے مطابق سویڈن میں تقریباً نصف آبادی کو کسی نہ کسی موسم گرما کے گھر تک رسائی حاصل ہے لیکن یہ گھر عموماً دولت اور حیثیت دکھانے کے لیے بنائے گئے پرتعیش مکانات نہیں ہوتے۔

ان میں دیہی زندگی، فطرت اور سادگی کو ترجیح دی جاتی ہے حتیٰ کہ دولت مند لوگ بھی عموماً اس انداز کو برقرار رکھتے ہیں۔

یوں قانونِ یانتے کو سویڈش معاشرے کی مکمل تصویر سمجھنا درست نہیں لیکن یہ اس ثقافت کو سمجھنے کی ایک دلچسپ کھڑکی ضرور فراہم کرتا ہے۔

یہ ہمیں بتاتا ہے کہ سویڈن میں دوسروں سے بہتر نظر آنے کی کوشش کے بجائے برابر رہنا، دوسروں کی حدود کا احترام کرنا اور اجتماعی خوشیوں میں شریک ہونا زیادہ اہم سمجھا جاسکتا ہے۔

شاید اسی لیے سویڈش معاشرہ بیک وقت انتہائی نجی بھی دکھائی دیتا ہے اور انتہائی کھلا بھی، خاموش بھی اور جشن منانے والا بھی، انفرادی بھی اور اجتماعی بھی۔

اور اگر کبھی کسی سویڈش شہری سے مل کر اس کی بہت زیادہ تعریف کرنے کا دل کرے تو شاید قانونِ یانتے کو یاد رکھنا بہتر ہوگا: ’خود کو خاص نہ سمجھو… اور دوسروں کو بھی اپنے سے کم نہ سمجھو۔‘

Share On Social Media

KARACHI

رکشوں میں ڈیجیٹل میٹر نصب کرنے کا فیصلہ

کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی زیرِ صدارت ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے )

Read More

میر رضا علی قتل کیس: کراچی پولیس کو ایپل واچ سے اہم ترین ڈیٹا مل گیا

کراچی میں نوجوان میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے

Read More

TECHNOLOGY

آپ کے بچے کے نام پر بھی ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھل سکتا ہے، طریقہ کیا ہے؟

ایزی پیسہ نے 12 سے 17 سال کی عمر کے بچوں اور نوجوانوں کے لیے

Read More

ایمازون اور ٹیمو سمیت 42 کمپنیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، نیویارک کے میئر نے قانونی نوٹس جاری کردیے

نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے ایمیزون، والمارٹ، ٹارگٹ، وے فیئر اور ٹیمو کی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.