سندھ کی تقسیم نامنظور، صوبائی اسمبلی میں قرارداد منظور، ایم کیو ایم کا واک آؤٹ

سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر بحث اختتام پذیر ہوگئی تاہم ایوان نے سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی جب کہ ایم کیو ایم اراکین نے ایوان سے واک آوٹ کردیا۔ دوسری طرف وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ اور صوبائی وزرا سمیت پیپلز پارٹی اراکین نے سندھ کی تقسیم کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ سندھ ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا، قومی اسمبلی بھی سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کرسکتی۔

جمعرات کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں نئے صوبوں کے خلاف تحریک التوا پر چوتھے روز مباحثے کے بعد پیپلز پارٹی کے رکن نثار کھوڑو نے ایوان میں اسپیکر اویس قادر شاہ کی اجازت کے بعد قرارداد پیش کی۔

قرارداد پیش ہونے سے قبل وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تقریر کی تو اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے ایم کیو ایم اراکین ایوان سے واک آؤٹ کرگئے اور متحدہ ارکان نے ایوان سے باہر نکلتے وقت سندھو دیش نامنظور کے نعرے بھی لگائے، جس کے بعد نثار کھوڑو نے اسپیکر سندھ اسمبلی سے قرارداد پیش کرنے کی اجازت طلب کی۔

نثار کھوڑو نے قرارداد پیش کی تو ایوان میں پیپلزپارٹی کے 105 اراکین موجود تھے جب کہ اپوزیشن کا ایک بھی رکن ایوان میں نہیں تھا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ تاریخی دھرتی اور ناقابل تقسیم ہے، سندھ نے قیام پاکستان کی قراداد منظور کی، سندھ کی اسمبلی نے پاکستان میں شمولیت قراداد منظور کی تھی۔ قراداد میں کہا گیا کہ سندھ میں کسی قسم کی تقسیم کو ایوان رد کرتا ہے، سندھ کی موجودہ حدود میں کوئی بھی تبدیلی نہیں ہوگی، سندھ ایک ہے ہمیشہ ایک رہے گا۔

قرراد کی منظوری پر پیپلزپارٹی کے اراکین بینچوں پر ہاتھوں میں ’سندھ دھرتی ماں‘ کے بینرز ہاتھوں میں لے کر کھڑے ہوئے اور نعرے بازی بھی کی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

سندھ اسمبلی میں نئے صوبے کے قیام سے متعلق تحریکِ التوا پر بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ سندھ کے معاملات اور مستقبل سے متعلق فیصلے سندھ کے منتخب نمائندے ہی کریں گے، سندھ اسمبلی جغرافیائی وحدت پر کسی صورت کمپرومائز نہیں کرے گی اور سندھ کی تقسیم کی کوئی بھی کوشش قابلِ قبول نہیں ہوگی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آج یہ واضح ہوجائے گا کہ کون سندھ کی تقسیم چاہتا ہے اور کون اس کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹ کے قیام پر اعتراض نہیں، تاہم اس معاملے پر ہر فریق کو اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔

مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ کی جغرافیائی وحدت کے معاملے پر سندھ اسمبلی اپنے آئینی حق سے دستبردار نہیں ہوگی۔ سندھ کی تقسیم سے متعلق کوئی بھی اقدام سندھ کے منتخب ایوان کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا، سندھ اسمبلی ہر دور میں سندھ کے مؤقف کا دفاع کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دیے گئے آئین کے مطابق سندھ اسمبلی نے ہر دور میں سندھ کے مؤقف کا دفاع کیا ہے۔ 2012، 2014، 2019 اور اب 2026 میں بھی جب سندھ کی تقسیم کی بات ہوئی تو سندھ اسمبلی نے اپنا مؤقف واضح کیا اور اصولی موقف پر قائم رہی۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ آئین میں ترمیم کرکے قومی اسمبلی کو صوبے کی حدود سے متعلق قانون سازی کا اختیار دیا گیا۔ آئینی ترمیم کے تحت صدرِ مملکت کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت کی شرط رکھی گئی جبکہ آئینی ترمیم میں اختیار اور منظوری کے طریقہ کار کو بھی تبدیل کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق آرٹیکل 239 میں یہ تبدیلی ایک آمر کے دور میں کی گئی تھی۔

سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صوبوں کے قیام کا فیصلہ آئینی فورم یعنی متعلقہ صوبائی اسمبلی ہی کرسکتی ہے، نہ ریفرنڈم سے، نہ سڑکوں پر اور نہ ٹاک شوز میں یہ فیصلہ ہوگا۔

صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ سندھ کی تقسیم نہیں ہوگی، انتظامی یونٹس کے نام پر سندھ کو تقسیم کرنے کی کوئی کوشش قبول نہیں۔

صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ سندھ کی تقسیم کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ فریال تالپور نے بھی سندھ کی تقسیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ایک ہے اور اسے تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔

اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے لیکن عوام کے مسائل کے حل کے لیے انتظامی یونٹس اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر سنجیدگی سے بات ہونی چاہیے۔

ایم کیو ایم نے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کے ساتھ انتظامی یونٹس کے قیام، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور کراچی کے مسائل کے حل پر زور دیا جب کہ ایم کیو ایم اراکین نے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے انتظامی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔

بحث کے اختتام پر ایوان میں نثار کھوڑو کی پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی جب کہ اسپیکر سندھ اسمبلی نے اجلاس کل جمعہ ڈھائی بجے تک ملتوی کردیا۔

Share On Social Media

KARACHI

گڈاپ کاٹھور ٹریفک حادثہ، جاں بحق 12 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا

گڈاپ کاٹھور پر ایک شدید ٹریفک حادثہ پیش آیا، جس میں 12 افراد جاں بحق

Read More

TECHNOLOGY

واٹس ایپ کا صارفین کیلئے نئے فیچر پر کام جاری

انسٹنٹ میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ اپنے صارفین کے لیے چیٹ کے انداز کو مزید جدید

Read More

’ایکس‘ نے صارفین کے لیے کمائی کے نئے فیچرز متعارف کرا دیے

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کو آمدنی کے مزید مواقع فراہم کرنے کے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.