امریکی محکمہ خارجہ نے ایک ایسی نئی ہدایت کی تجویز دی ہے جس کے تحت امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کے پاسپورٹ کے لیے درخواست دیتے وقت والدین کو اپنی امریکی شہریت یا قانونی امیگریشن حیثیت کا ثبوت بھی پیش کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیدائشی شہریت کے دائرہ کار کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق محکمہ خارجہ کی تیار کردہ مجوزہ ہدایات میں بتایا گیا ہے کہ اگر یہ پالیسی نافذ ہوتی ہے تو والدین کو اپنے بچوں کے پاسپورٹ کے لیے درخواست دیتے وقت اپنی شہریت یا امریکا میں قانونی حیثیت ثابت کرنے والی دستاویزات بھی جمع کرانا ہوں گی۔
یہ مسودہ اس حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ اس سے پہلی مرتبہ تفصیل سامنے آئی ہے کہ محکمہ خارجہ صدر ٹرمپ کے 6 اگست کے صدارتی حکم پر عملی طور پر کیسے عمل درآمد کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے اس حکم کا ایک اہم مقصد نام نہاد ”برتھ ٹورازم“ کو روکنا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد ایسے غیر ملکی افراد کا امریکا آنا ہے جو اپنے بچے کی پیدائش امریکا میں کرانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ بچے کو امریکی شہریت حاصل ہو سکے۔ امریکا میں پیدائش کی بنیاد پر شہریت ایک طویل عرصے سے ملکی آئینی نظام کا حصہ رہی ہے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ اس کے دائرہ کار میں بعض تبدیلیاں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر سوالات محکمہ خارجہ کی جانب بھیج دیے ہیں۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ امریکی شہریت کے مفہوم اور اہمیت کے تحفظ کے حوالے سے واضح مؤقف رکھتے ہیں اور پاسپورٹ جاری کرنے کا عمل بھی اسی معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔
مجوزہ ہدایات کے تحت بچوں کے پاسپورٹ کی درخواست دینے والے تمام والدین یا قانونی سرپرستوں سے ان کی اپنی شہریت یا امیگریشن حیثیت کا ثبوت مانگا جا سکتا ہے۔ امریکی شہری والدین کو درست امریکی پاسپورٹ یا پیدائش کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا، جبکہ غیر امریکی والدین اپنی قانونی امیگریشن حیثیت ثابت کرنے کے لیے آئی-94 فارم یا مستقل رہائش کا کارڈ، جسے عام طور پر گرین کارڈ کہا جاتا ہے، پیش کر سکتے ہیں۔
محکمہ خارجہ کے مطابق یہ معلومات اس بات کا تعین کرنے کے لیے استعمال کی جائیں گی کہ آیا بچہ ٹرمپ کے 6 اگست کے صدارتی حکم کے تحت امریکی شہریت کا اہل ہے یا نہیں۔
اس وقت امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کے پاسپورٹ کے لیے والدین کو بنیادی طور پر بچے کے ساتھ اپنا رشتہ ثابت کرنا اور شناختی دستاویز پیش کرنا ہوتی ہے۔ درخواست میں والدین سے یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ آیا وہ امریکی شہری ہیں، لیکن فی الحال اس دعوے کے ساتھ اضافی دستاویز جمع کرانا لازمی نہیں ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پیدائشی شہریت محدود کرنے کی کوشش نئی نہیں ہے۔ صدر کے پہلے صدارتی حکم میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ امریکا میں پیدا ہونے والے بچے کو خودکار امریکی شہریت صرف اس صورت میں ملے جب اس کے والدین میں سے کم از کم ایک امریکی شہری یا قانونی مستقل رہائشی ہو۔
تاہم امریکی سپریم کورٹ نے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ عدالت کی اکثریت نے قرار دیا کہ یہ اقدام امریکی آئین کی 14ویں ترمیم میں موجود شہریت کی شق سے متصادم ہے۔
6 اگست کے نئے صدارتی حکم میں پیدائشی شہریت پر پابندی کا دائرہ پہلے حکم کے مقابلے میں محدود رکھا گیا ہے۔ اس کے تحت کچھ مخصوص حالات میں امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت نہ دینے کی بات کی گئی ہے۔ ان میں ایسے بچے شامل ہیں جن کے والدین میں سے کوئی امریکا میں کسی غیر ملکی حکومت کے لیے کام کرتا ہو، یا والدین نے بچے کو امریکی شہریت دلانے کے لیے فراڈ یا کسی مالی یا تجارتی طریقے کا سہارا لیا ہو۔ اس کے علاوہ ایسے والدین کے بچوں کو بھی اس دائرے میں شامل کیا گیا ہے جنہیں امریکی حکومت ”دشمن غیر ملکی“ قرار دے۔
تاہم یہ نیا صدارتی حکم بھی عدالت میں چیلنج کیا جا چکا ہے اور ممکن ہے کہ اس پر عمل درآمد روک دیا جائے۔ ان بچوں کی جانب سے دائر کیے گئے طبقاتی نوعیت کے مقدمات میں وکلا نے دو مختلف وفاقی ججوں سے درخواست کی ہے کہ حکم پر عمل درآمد روکا جائے۔
ان میں سے ایک مقدمہ میری لینڈ کی وفاقی عدالت میں جج ڈیبورا بورڈمین کے سامنے ہے، جنہیں سابق صدر جو بائیڈن نے مقرر کیا تھا۔ گزشتہ جمعے کو گرین بیلٹ، میری لینڈ میں سماعت کے دوران جج بورڈمین نے ٹرمپ کے حکم کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اس کے قانونی جواز پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے درخواست گزاروں کو اپنا مقدمہ مزید واضح کرنے کی اجازت بھی دی تاکہ یہ جائزہ لیا جا سکے کہ حکم پر عارضی طور پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے یا نہیں۔
امریکی محکمہ انصاف نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کیا ہے کہ فوری پابندی عائد کرنا مناسب نہیں ہوگا، کیونکہ اس وقت قانونی چیلنج قبل از وقت ہے۔ محکمہ انصاف کے مطابق وفاقی اداروں نے ابھی تک صدارتی حکم پر عمل درآمد کے لیے حتمی عوامی ہدایات جاری نہیں کی ہیں۔
اگر محکمہ خارجہ کی یہ مجوزہ ہدایات نافذ ہو جاتی ہیں تو بچوں کے پاسپورٹ کے لیے والدین کو پہلے کی طرح صرف بچے کے ساتھ اپنا رشتہ ثابت نہیں کرنا ہوگا بلکہ اپنی امریکی شہریت یا امریکا میں قانونی حیثیت کا ثبوت بھی دینا پڑے گا۔ تاہم ابھی یہ صرف ایک تجویز ہے اور اس پر عمل درآمد کے بارے میں حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اس معاملے پر عدالتوں میں بھی مقدمات جاری ہیں، اس لیے پالیسی کی حتمی شکل عدالتی فیصلوں اور حکومت کی جانب سے جاری ہونے والی آخری ہدایات پر منحصر ہوگی۔





































