امریکا میں اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والی یونیورسٹیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا بل منظور

امریکی ایوانِ نمائندگان نے اسرائیل کے بائیکاٹ میں شامل ہونے والی جامعات کے خلاف کارروائی سے متعلق ایک بل منظور کرلیا ہے۔ بل کے تحت ایسی جامعات کو وفاقی حکومت کی جانب سے ملنے والی مالی امداد روکنے کی راہ ہموار ہوگی۔ یہ اقدام غزہ جنگ کے معاملے پر امریکی جامعات میں جاری احتجاج اور اسرائیل کے بائیکاٹ کی مہم کے درمیان سامنے آیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی اکثریت رکھنے والے ایوانِ نمائندگان میں ’پروٹیکٹ اکنامک اینڈ اکیڈمک فریڈم ایکٹ‘ کے حق میں 237 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 169 نے مخالفت کی۔ بل کو قانون بننے کے لیے اب سینیٹ سے بھی منظوری درکار ہوگی۔

ووٹنگ میں زیادہ تر ارکان نے اپنی جماعت کے مؤقف کے مطابق ووٹ دیا۔ صرف 2 ریپبلکن ارکان نے بل کی مخالفت کی جبکہ 33 ڈیموکریٹ ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔

یہ قانون ایسے وقت میں منظور کیا گیا ہے جب غزہ میں جنگ کے باعث فلسطینیوں کی شہادتوں پر امریکا میں اسرائیلی حکومت کے خلاف تنقید بڑھ رہی ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 73 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

غزہ کی جنگ کے بعد امریکا کی متعدد جامعات میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہوئے اور اسرائیل کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بعض جامعات کے خلاف تحقیقات شروع کرنے اور وفاقی فنڈز روکنے کی دھمکیاں بھی دیں۔

امریکی حکومت اور کانگریس میں کئی ریپبلکن ارکان کا مؤقف ہے کہ بعض احتجاجی سرگرمیوں میں یہود مخالف رویے اور انتہا پسندی شامل ہے۔ تاہم مظاہرین اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت اور غزہ میں ہونے والی تباہی پر اعتراض کو یہود مخالف سوچ یا انتہا پسندی کی حمایت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکنِ ایوانِ نمائندگان جیرولڈ نڈلر نے ووٹنگ سے قبل کہا کہ وہ اسرائیل کے خلاف عالمی ’بائیکاٹ، ڈائی ویسٹمنٹ اینڈ سینکشنز‘ یعنی بی ڈی ایس تحریک کی حمایت نہیں کرتے، لیکن اس کے باوجود بل کے خلاف ووٹ دیں گے کیونکہ وہ امریکی شہریوں کے آزادیٔ اظہار کے حق کو اہم سمجھتے ہیں۔

جیرولڈ نڈلر نے کہا کہ یہی واحد طریقہ ہے جس سے یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ جس اظہارِ رائے سے میں اتفاق کرتا ہوں، اسے بھی اسی طرح تحفظ حاصل ہو۔

بی ڈی ایس تحریک اسرائیل پر فلسطینیوں کے ساتھ برتاؤ کے معاملے پر دباؤ بڑھانے اور اسرائیل کو اقتصادی و سیاسی طور پر الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد جامعات میں علمی بحث یا اظہارِ رائے کو روکنا نہیں بلکہ اسرائیل یا یہودیوں کے خلاف امتیازی سلوک کو روکنا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

ماہرین آثارِ قدیمہ کا موئن جو دڑو میں نئی تحقیق اور شہر کی فصیل کی نقل تعمیر کرنے کا مطالبہ

 ماہرین آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے ماہرین نے موئن جو دڑو میں نئی آثارِ

Read More

زہرہ زاہد کی زی لرننگ انیشی ایٹو نے اورنگی ٹاؤن کی طالبات کی گرینڈ گریجویشن تقریب کی میزبانی کی

خواتین کو بااختیار بنانے اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ

Read More

TECHNOLOGY

چین میں روبوٹس کے لیے منفرد اسکول، روزگار کے لیے تیار کیے جانے لگے

چین کے مشرقی شہر ہینگژو میں قائم ایک جدید قومی تربیتی مرکز میں روبوٹس کو

Read More

اینڈرائیڈ فون کے 3 سیفٹی فیچرز آپ کی جان بچا سکتے ہیں، ابھی آن کریں

آج کل موبائل فون ہماری زندگی کا سب سے اہم حصہ بن چکا ہے۔ فون

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.