کیا ایف آئی اے کو شہریوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک براہِ راست رسائی مل گئی؟


زنیرہ رفیع

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے ہونے والے جرائم کی تحقیقات میں تیزی لانے کے لیے میٹا ایشیا پیسیفک کے ساتھ گزشتہ ماہ براہِ راست رابطہ قائم کر لیا۔

نئے طریقہ کار کے تحت فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے قانونی درخواستیں ایک مخصوص رابطے کے ذریعے میٹا کو بھیجی جا سکیں گی۔

ایف آئی اے کے مطابق اس سے قبل فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی قانونی معاونت یا انٹرپول کے ذریعے درخواستیں بھیجی جاتی تھیں، جس کے باعث اس عمل میں کئی ماہ لگ سکتے تھے۔ اس تاخیر کے نتیجے میں بعض سائبر جرائم کی تحقیقات بھی متاثر ہوتی تھیں۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ میٹا کے ساتھ براہِ راست رابطے کے بعد معلومات کے حصول کا عمل پہلے کی نسبت تیز ہو گیا ہے۔

قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز میں مخصوص افسر مقرر

نئے نظام کے تحت ایف آئی اے کے قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز میں ایک مخصوص افسر کو میٹا کے ساتھ رابطے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

اب فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ سے متعلق معلومات کے لیے آنے والی قانونی درخواستیں اسی مقررہ افسر کے ذریعے میٹا تک پہنچائی جائیں گی۔

ایف آئی اے کے مطابق تمام درخواستیں ایک مقررہ راستے سے بھیجنے کا مقصد کارروائی میں تیزی، نگرانی اور جواب دہی کو یقینی بنانا ہے۔

کن معلومات کے لیے درخواست دی جا سکتی ہے؟

دستیاب معلومات کے مطابق کسی مقدمے کی تحقیقات کے دوران ایف آئی اے میٹا سے مختلف نوعیت کی معلومات طلب کر سکتا ہے۔

ان میں صارف کے اکاؤنٹ کی بنیادی معلومات، اکاؤنٹ بناتے وقت فراہم کی گئی معلومات، انٹرنیٹ کے ذریعے اکاؤنٹ میں لاگ اِن ہونے کا ریکارڈ، مطلوبہ معلومات محفوظ رکھنے کی درخواست اور ہنگامی حالات میں معلومات فراہم کرنے کی درخواست شامل ہو سکتی ہے۔

کسی مخصوص مواد کو ہٹانے کے لیے بھی قانونی درخواست بھیجی جا سکتی ہے۔

درخواست براہِ راست کیسے جاتی ہے؟

ایف آئی اے کے مطابق کسی مقدمے کی تحقیقات کرنے والا افسر پہلے مطلوبہ معلومات اور متعلقہ قانونی دستاویزات تیار کرتا ہے۔

درخواست کی جانچ اور منظوری کے بعد اسے مقررہ افسر کے ذریعے میٹا تک پہنچایا جاتا ہے۔

اس طریقہ کار کا مقصد معلومات کے حصول کے لیے آنے والی تمام درخواستوں کا باقاعدہ ریکارڈ برقرار رکھنا اور ان کی نگرانی یقینی بنانا ہے۔

کیا ایف آئی اے کو شہریوں کے اکاؤنٹس تک براہِ راست رسائی مل گئی ہے؟

نئے رابطے کے حوالے سے ایک اہم وضاحت یہ ہے کہ ایف آئی اے کو فیس بک، انسٹاگرام یا واٹس ایپ کے تمام صارفین کے اکاؤنٹس تک براہِ راست اور غیر محدود رسائی حاصل نہیں ہوئی۔

کسی مخصوص مقدمے میں مطلوبہ معلومات کے حصول کے لیے میٹا کو قانونی درخواست بھیجنا ہوگی اور معلومات کے حصول کا عمل اسی درخواست کے ذریعے آگے بڑھے گا۔

سنگین جرائم کی تحقیقات میں مدد کی توقع

ایف آئی اے کے سربراہ ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق میٹا کے ساتھ براہِ راست رابطہ ان مقدمات میں کارروائی تیز کرنے میں مدد دے گا جن میں فوری معلومات درکار ہوتی ہیں۔

ان میں دہشتگردی، بچوں کے استحصال اور دیگر سنگین جرائم سے متعلق تحقیقات شامل ہیں۔

شہریوں کی ذاتی معلومات کے تحفظ کا سوال

سائبر جرائم کی تحقیقات میں تیزی کے لیے اس اقدام کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ شہریوں کی ذاتی معلومات کے تحفظ کا سوال بھی موجود ہے۔

دوسری طرف شہریوں کا کہنا ہے کہ فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر ذاتی گفتگو، تصاویر، رابطوں اور دیگر حساس معلومات موجود ہوتی ہیں۔ اس لیے کسی سرکاری ادارے کی جانب سے ایسی معلومات طلب کیے جانے کے عمل میں واضح قانونی طریقہ کار اور مؤثر نگرانی ضروری ہے۔

یہ بھی اہم ہوگا کہ کسی شہری کی معلومات کس قانونی بنیاد پر طلب کی جاتی ہیں، ان کا استعمال کس مقصد کے لیے کیا جاتا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ان معلومات کو کس طرح محفوظ یا حذف کیا جاتا ہے۔

اسلام آباد کے رہائشی محسن خلیل کا کہنا تھا کہ فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں اور ان پر ہماری بہت سی ذاتی معلومات موجود ہوتی ہیں۔

ان کے بقول، ’ایسے میں کسی سرکاری ادارے کو ان معلومات تک رسائی حاصل ہونا ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ ضروری ہے کہ اس حوالے سے واضح ضابطے موجود ہوں اور کسی بھی شہری کی ذاتی معلومات کا غلط استعمال نہ ہو۔ ‘

سائبر سیکیورٹی کی طالبہ عائشہ رضا نے کہا کہ خواتین کے لیے ذاتی معلومات کا تحفظ خاص اہمیت رکھتا ہے۔

ان کے مطابق، ’آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور ذاتی تصاویر کے غلط استعمال کے واقعات پہلے ہی سامنے آتے رہتے ہیں۔ اگر کسی خاتون کی ذاتی معلومات غلط ہاتھوں میں چلی جائیں تو اس کے نتائج بہت سنگین ہو سکتے ہیں، اس لیے ایسے معاملات میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔‘

علی عمران کے مطابق ہر شہری کی ذاتی معلومات محفوظ ہونی چاہئیں۔

انہوں نے کہا، ’کسی بھی ادارے کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ بغیر کسی واضح قانونی طریقہ کار کے کسی شہری کی معلومات دیکھ سکے۔ اگر کسی مقدمے میں معلومات حاصل کرنا ضروری بھی ہو تو اس کے لیے باقاعدہ اجازت اور نگرانی کا نظام ہونا چاہیے۔ ‘

ڈیجیٹل حقوق کی کارکن صدف خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ابھی تک ذاتی معلومات کے تحفظ کا جامع قانون موجود نہیں ہے۔

ان کے مطابق جب مختلف قوانین، معاہدوں یا پالیسیوں کے تحت شہریوں کے ڈیٹا تک رسائی کی بات کی جاتی ہے تو ضروری ہے کہ اس پورے عمل کے لیے واضح حفاظتی نظام موجود ہو۔

Share On Social Media

KARACHI

مارشینلگ ایریا میں ملک بھر سے قربانی کے جانوروں سے لدے ٹرکوں ،ہیوی ٹریلرز کی قطاریں

کراچی عوام دوست منڈی میں قربانی کے جاانوروں کی آمد کا 18 واں روز کراچی:آج

Read More

مشرقِ وسطیٰ کے تزویراتی منظرنامے اور عالمی اثرات

اکیسویں صدی مشرقِ وسطیٰ کے اس تپتے ہوئے صحرا میں ہے جہاں کی ریت اب

Read More

TECHNOLOGY

پاس ورڈ کو خیرباد کہیں اور پاس کیز اپنائیں، اب یہ کیا معاملہ ہے؟

برطانیہ کے سائبر سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ جہاں ممکن ہو

Read More

ایلون مسک کی ‘اسپیس ایکس’ کا پاکستانی نژاد انٹرپرینیور کی کمپنی سے 60 ارب ڈالر کا معاہدہ

مصنوعی ذہانت کے ذریعے کمپیوٹر کوڈ لکھنے والی کمپنی ”کرسر“ نے ایک بڑی پیش رفت

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.