پاکستان میں آتشزدگی کے بڑے سانحات کیسے رونما ہوئے؟

گزشتہ روز صبح اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں 14 نومولود جاں بحق ہوگئے۔ یہ سانحہ بہت بڑا ہے، لیکن پاکستان کی تاریخ میں آتشزدگی کے ایسے متعدد واقعات گزرے ہیں جن میں درجنوں سے لے کر سیکڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ان واقعات میں صنعتی اداروں، فیکٹریوں، ہوٹلوں، شادی کی تقریبات، مسافر بسوں، ٹرینوں، بازاروں اور دیگر عمارتوں میں لگنے والی آگ شامل ہے۔ کئی سانحات میں ناقص برقی نظام، گیس یا ایندھن، آتش گیر سامان، ہنگامی راستوں کی عدم دستیابی، غیر قانونی تعمیرات اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد نہ ہونا نمایاں عوامل کے طور پر سامنے آئے۔

کراچی گل پلازا شاپنگ سینٹر سانحہ

جنوری 2026 میں کراچی کا گل پلازا ایک انتہائی تباہ کن آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ آگ ہفتے کی رات شروع ہوئی اور کئی گھنٹوں تک عمارت کو اپنی لپیٹ میں لیے رہی۔ عمارت میں کپڑے، کاسمیٹکس، پلاسٹک اور دیگر آتش گیر سامان موجود تھا، جس سے آگ تیزی سے پھیلی۔ متعدد لاشیں بری طرح جھلسنے کے باعث شناخت کے قابل نہیں رہیں اور ڈی این اے کے ذریعے شناخت کا عمل شروع کیا گیا۔ بعد کے سرکاری اعداد و شمار میں ہلاکتیں کم از کم 67 تک پہنچیں، جبکہ کچھ افراد لاپتا رہے۔ ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ کا شبہ ظاہر کیا گیا، جبکہ بعد کی رپورٹنگ میں ایک مصنوعی پھولوں کی دکان سے ممکنہ طور پر آگ شروع ہونے کی بات بھی سامنے آئی۔

کراچی بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کا سانحہ

پاکستان کی صنعتی تاریخ کا سب سے ہولناک آتشزدگی کا سانحہ 11 ستمبر 2012 کو پیش آیا۔ کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں علی انٹرپرائزز گارمنٹس فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی اور سیکڑوں مزدور اندر پھنس گئے۔ عمارت میں ہنگامی اخراج کے راستے انتہائی ناقص تھے، کئی دروازے بند تھے اور کھڑکیوں پر لوہے کی سلاخیں موجود تھیں۔ نتیجتاً بہت سے مزدور آگ کے شعلوں کے بجائے زہریلے دھوئیں اور دم گھٹنے سے جاں بحق ہوئے۔ بعد میں عدالتی کارروائی میں اس واقعے کو محض حادثہ نہیں بلکہ دانستہ آتش زنی قرار دیا گیا اور 2 افراد کو سزائے موت سنائی گئی۔

لاہور جوتوں کی فیکٹری میں آگ

کراچی بلدیہ فیکٹری میں لگنے والی آگ والے دن ہی لاہور میں ایک جوتوں کی فیکٹری بھی آگ کی لپیٹ میں آگئی۔ بجلی کے جنریٹر سے نکلنے والی چنگاریوں نے قریب موجود کیمیکل کو آگ لگا دی۔ عمارت کا داخلہ و اخراج محدود ہونے کے باعث کئی کارکن اندر پھنس گئے۔ کراچی اور لاہور کی ان دونوں فیکٹری آتشزدگیوں میں مجموعی ہلاکتیں 300 سے تجاوز کر گئی تھیں۔

بہاولپور آئل ٹینکر سانحہ

25 جون 2017 کو کراچی سے آنے والا آئل ٹینکر ضلع بہاولپور کے علاقے احمد پور شرقیہ کے قریب الٹ گیا۔ ٹینکر سے پیٹرول بہنے لگا تو آس پاس کے دیہات سے بڑی تعداد میں لوگ تیل جمع کرنے کے لیے موقع پر پہنچ گئے۔ اچانک آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں افراد شعلوں کی لپیٹ میں آگئے۔ شدید جھلسنے کے باعث متعدد لاشوں کی شناخت بھی مشکل ہوگئی اور اس سانحے میں ہلاکتوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی۔

تیزگام ایکسپریس ٹرین میں آتشزدگی

31 اکتوبر 2019 کو کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی 3 بوگیاں آگ کی لپیٹ میں آگئیں۔ ابتدائی طور پر بتایا گیا کہ مسافروں کے کھانا پکانے کے لیے استعمال کیے جانے والے گیس سلنڈر/چولہے میں دھماکے سے آگ لگی، تاہم بعد کی تحقیق میں بجلی کے شارٹ سرکٹ کو بھی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔ کئی مسافر چلتی ٹرین سے کودنے پر مجبور ہوئے، جبکہ 75 افراد جھلس کر جاں بحق ہوئے۔

شادی کی تقریب میں آتشزدگی

ڈیرہ غازی خان کے قریب جھوک اُترا میں 17 دسمبر 2006 کو شادی کی تقریب کے دوران خواتین اور بچوں سے بھرے ایک بڑے خیمے میں آگ لگ گئی۔ اس وقت خیمے میں 100 سے زائد خواتین اور بچے موجود تھے۔ تیز روشنی والے برقی بلب/لائٹ سے خیمے میں آگ بھڑکی۔ آگ سے بچنے کی کوشش میں بھگدڑ مچ گئی اور قریب موجود نئی تعمیر شدہ دیوار بھی گر گئی۔ مجموعی طور پر 20 خواتین اور 7 بچے جاں بحق ہوئے۔ بعض افراد جھلسنے، جبکہ کچھ بھگدڑ اور دیوار گرنے کے نتیجے میں جان سے گئے۔

کراچی سائٹ ایریا فیکٹری میں آگ
جنوری 2007 میں کراچی کے سائٹ صنعتی علاقے میں ایک کپاس/فیکٹری کی خوفناک آگ بجھانے کے دوران فائر فائٹرز بھی اس سانحے کا شکار ہوئے۔ عمارت کا حصہ آگ کے باعث منہدم ہوا اور امدادی کارروائی میں موجود اہلکار دب گئے یا جھلس گئے۔ دستیاب ریکارڈ میں ہلاکتوں کے تعداد میں اختلاف پایا جاتا ہے، اسی لیے اسے محتاط طور پر متعدد فائر فائٹرز کی ہلاکت کے طور پر درج کیا جاتا ہے۔

کراچی کے قریب بس اور آئل ٹینکر تصادم
کراچی سپر ہائی وے/گلشنِ حدید کے علاقے میں 11 جنوری 2015 کو مسافر بس اور آئل ٹینکر میں خوفناک تصادم کے بعد دونوں گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ بس میں سوار خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں مسافر آگ میں پھنس گئے۔ اس سانحے میں ہلاکتوں کی تعداد 62 تھی۔

کراچی ریجنٹ پلازا ہوٹل میں آگ
5 دسمبر 2016 کو کراچی کے ریجنٹ پلازا ہوٹل میں صبح کے وقت آگ لگی۔ آگ کے ساتھ دھواں تیزی سے عمارت میں پھیل گیا۔ بہت سے افراد نے کھڑکیوں سے چادروں کی مدد سے نیچے اترنے کی کوشش کی۔ ہوٹل میں فائر ایگزٹ اور فائر سیفٹی کے انتظامات میں سنگین خامیاں موجود تھیں۔ اس سانحے میں 12 افراد کی ہلاکتیں ہوئیں۔

کراچی کیمیکل فیکٹری میں آتشزدگی
کراچی کی کثیر المنزلہ کیمیکل فیکٹری میں 27 اگست 2021 کو آگ لگنے سے 16 مزدور دم گھٹنے کے باعث جاں بحق ہوئے۔ حکام اور عینی شاہدین کے مطابق ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ کو آگ کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا۔ عمارت دھوئیں سے بھر گئی اور مزدوروں کے لیے باہر نکلنا مشکل ہوگیا۔

فیصل آباد گوند/کیمیکل فیکٹری میں آگ
21 نومبر 2025 کو فیصل آباد میں گوند بنانے والی ایک فیکٹری کے بوائلر میں زوردار دھماکا ہوا، جس کے بعد عمارت میں شدید آگ لگ گئی۔ دھماکے کی شدت سے فیکٹری مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور قریبی مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔ پولیس نے ممکنہ گیس لیکیج کو وجہ قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کیں۔ حکام کے مطابق فیکٹری رہائشی علاقے میں قائم تھی، جس نے تعمیراتی اور حفاظتی ضوابط پر سوالات اٹھا دیے۔

لاہور کے انڈیگو ہوٹل میں آگ
24 جنوری 2026 کو لاہور کے گلبرگ علاقے میں انڈیگو ہوٹل کے تہہ خانے میں آگ لگنے سے کم از کم 3 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے۔ تقریباً 180 مہمانوں اور عملے کو بحفاظت نکالا گیا۔ حکام نے ممکنہ گیس لیکیج کو آگ لگنے کی وجہ قرار دیا۔

ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں مہلک آتشزدگیوں کی کئی بنیادی وجوہات بار بار سامنے آتی رہی ہیں۔ شارٹ سرکٹ، گیس یا کیمیکل، آتش گیر سامان کا غیر محفوظ ذخیرہ، ہنگامی اخراج کے راستوں کی کمی، عمارتوں میں غیر قانونی تبدیلیاں، فائر الارم اور فائر ایگزٹ کا ناقص انتظام، اور حفاظتی قوانین پر کمزور عمل درآمد کے باعث اموات کی تعداد زیادہ ہوتی رہی ہے۔

2012 کے بلدیہ فیکٹری سانحے، 2017 کے احمد پور شرقیہ آئل ٹینکر سانحے، 2019 کے تیزگام ٹرین سانحے، 2026 کے گل پلازا سانحے اور آج اسلام آباد کے پی آئی ایم ایس نرسری واقعے نے یہ سوال دوبارہ نمایاں کیا ہے کہ حادثہ ہونے کے بعد امداد پہنچانا کافی نہیں، اصل ضرورت یہ ہے کہ عمارتوں، فیکٹریوں، بازاروں، ٹرانسپورٹ اور اسپتالوں میں آگ سے بچاؤ کے حفاظتی نظام کی باقاعدہ جانچ اور سسٹم کے مؤثر نفاذ یقینی بنایا جائے۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا ایک اور واقعہ۔

پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کراچی کے جنرل سیکرٹری راشد احمد صدیقی کے بیٹے سے

Read More

پراپرٹی سیکٹر کے ٹیکسوں میں بڑی کمی، ڈیلرز نے قیمتوں میں مزید اضافے کی پیشگوئی کردی

حکومت کی جانب سے بجٹ میں پراپرٹی سیکٹر کے لیے بڑے ریلیف پیکج اور خرید

Read More

TECHNOLOGY

گوگل نے میٹا پر جیمینائی اے آئی ماڈلز کے استعمال کی حد مقرر کردی

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے میٹا کی جانب سے زیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت طلب کیے جانے

Read More

سستے اسمارٹ گلاسز مارکیٹ میں لانے کی تیاریاں، کیا اب اسمارٹ فونز کا دور ختم ہونے والا ہے؟

میٹا پلیٹ فارمز اور ایسِلس لکسوٹیکا نے اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس سستے اسمارٹ شیشوں

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.