ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات پر کوئی ٹائم فریم دینے سے انکار، معاشی دباؤ اور فوجی کارروائی مؤثر قرار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے کسی بھی وقت کا تعین کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن تہران پر معاشی دباؤ اور فوجی کارروائی، دونوں کو مؤثر سمجھتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے جلدی میں نہیں اور امریکا پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔

الجزیرہ کو دیے گئے ایک مختصر انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے ان کے پاس کوئی ٹائم شیڈول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تہران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے انتظار کر سکتے ہیں، جبکہ جاری تنازع اپنے چھٹے ماہ کے قریب پہنچ رہا ہے۔

ٹرمپ نے اس سوال کے جواب میں کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں فوجی کارروائی سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہیں یا نہیں، کہا کہ دونوں طریقے مؤثر ہیں۔ انہوں نے ایران کی معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو شدید مہنگائی کا سامنا ہے اور اس کی معیشت تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے۔

امریکی صدر نے ایران پر اپنی ہی عوام کے ساتھ ناروا سلوک کا الزام بھی عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے اور بہت سے مظاہرین کو ہلاک کیا گیا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایران کے جوہری تنازع کو حل کرنے کے لیے سفارتکاری اب بھی ترجیح ہے، تاہم مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی کا آپشن موجود ہے۔ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ امریکا کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے اور کسی ایسے معاہدے تک پہنچنا ضروری ہے جس کے تحت تہران جوہری اسلحے کی تیاری سے دستبردار ہو۔

رائٹ نے کہا کہ امریکا سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر ضروری ہوا تو ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے یہ ریمارکس ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے جس میں امریکی صدر نے تہران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے جلدی نہ ہونے کا عندیہ دیا تھا۔

ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا امکان برقرار رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن اس وقت معاشی دباؤ کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم آبنائے ہرمز سمیت کسی بھی مقام پر فوجی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا۔

ایران نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے واشنگٹن کی نئی پابندیوں کو ’معاشی دہشتگردی‘ قرار دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی یکطرفہ پابندیوں اور دوسرے ممالک پر ایران کے ساتھ جائز تجارتی تعلقات ختم کرنے کے لیے دباؤ کی مذمت کرے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ امریکا جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا اور اب معاشی دباؤ کے ذریعے وہی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی امریکی پابندیوں کو بے اثر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن معاشی دباؤ کے ذریعے کچھ حاصل نہیں کر سکے گا۔ ان کے بقول ایران ماضی کی طرح آئندہ بھی معاشی دباؤ کا مقابلہ کرتا رہے گا۔

اس دوران ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے اثرات آبنائے ہرمز میں بھی نمایاں ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں معمولی اضافہ ہوا، تاہم یہ گزشتہ 10 روز کی اوسط سے بدستور کم رہی۔ ایک ٹینکر کو جمعرات کی صبح آبنائے ہرمز میں نامعلوم سمت سے آنے والے ایک پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم بعد میں آگ پر قابو پا لیا گیا اور تمام عملہ محفوظ رہا۔

Share On Social Media

KARACHI

وزارت خزانہ نے یورو بانڈ اور پانڈا بانڈ سے متعلق رپورٹس کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا

وزارتِ خزانہ نے پاکستان کے خودمختار فنانسنگ معاملات، جن میں یورو بانڈ اور پانڈا بانڈ

Read More

وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کے سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لیے

وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے

Read More

TECHNOLOGY

گوگل کا اینڈرائیڈ صارفین کیلئے اہم فیچر پر کام جاری!

ایک نئی رپورٹ کے مطابق گوگل اینڈرائیڈ صارفین کے لیے ایسے نئے فیچر پر کام

Read More

سعودی محققین کی بڑی کامیابی، پاس ورڈ کے بغیر ڈیوائسز کی شناخت کرنے والی جدید ٹیکنالوجی تیار

سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین نے ایک ایسی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.