اے آئی نے کتابیں پڑھیں تو مصنفین عدالت پہنچ گئے: آخر کتابوں کے کاپی رائٹ کا مالک کون؟

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک بنیادی سوال اب عدالتوں کے سامنے ہے کہ اگر کسی اے آئی نظام کو انسانوں کی لکھی ہوئی لاکھوں کتابیں پڑھا کر تربیت دی جائے تو کیا یہ جائز ہے اور اگر ان کتابوں کے مصنفین کو نہ اجازت دی گئی ہو اور نہ معاوضہ، تو کیا اے آئی کمپنیاں ان تحریروں کو اپنے تجارتی ماڈلز کی بنیاد بنانے کا حق رکھتی ہیں؟

یہ سوال اب محض نظری بحث نہیں رہا۔ امریکا میں مصنفین اور بڑے پبلشرز نے اے آئی کمپنیوں کے خلاف متعدد مقدمات دائر کر رکھے ہیں جبکہ کچھ مقدمات میں عدالتوں کے ابتدائی فیصلوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو جزوی کامیابی دی ہے۔ دوسری طرف ایسے ہی مقدمات میں کتابوں کے غیر قانونی حصول یا ذخیرہ کرنے کو خلاف قانون قرار دیا گیا ہے۔

یوں اصل قانونی جنگ صرف اس بات پر نہیں کہ اے آئی نے کتابیں استعمال کیں یا نہیں بلکہ اس پر بھی ہے کہ کتابیں کہاں سے حاصل کی گئیں، انہیں کس طرح کاپی کیا گیا، تربیت میں ان کا استعمال کس مقصد کے لیے ہوا اور کیا اس پورے عمل سے مصنفین کی اپنی مارکیٹ کو نقصان پہنچا۔

اینتھروپک کا 1.5 ارب ڈالر کا مقدمہ

اس قانونی جنگ کی سب سے بڑی مثال اے آئی کمپنی این تھروپک اور مصنفین کے درمیان مقدمہ ہے۔

سنہ2024 میں مصنفین نے الزام عائد کیا کہ این تھروپک نے بڑی تعداد میں کتابیں غیر قانونی ذرائع سے حاصل کرکے اپنے اے آئی نظام کلاڈ کی تربیت کے لیے استعمال کیں۔ مقدمے میں لاکھوں کتابوں کی مبینہ غیر مجاز نقل اور ذخیرہ کرنے کا معاملہ سامنے آیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالت نے اس معاملے میں 2 مختلف پہلوؤں کو الگ الگ دیکھا۔ ایک مرحلے پر جج نے قرار دیا کہ کتابوں کو اے آئی ماڈل کی تربیت کے لیے استعمال کرنا امریکی قانون کے تحت منصفانہ استعمال یعنی فیئر یوز کے دائرے میں آ سکتا ہے۔ لیکن کتابوں کو غیر قانونی ذرائع سے حاصل کرنا اور ان کی غیر مجاز کاپیاں ذخیرہ کرنا الگ معاملہ تھا۔

بالآخر جولائی 2026 میں امریکی وفاقی عدالت نے مصنفین کے ساتھ اینتھروپک کے 1.5 ارب ڈالر کے تصفیے کی منظوری دے دی۔ اسے امریکا میں کاپی رائٹ سے متعلق اب تک کے سب سے بڑے تصفیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ عدالت کے مطابق معاوضے کا بڑا حصہ ان کتابوں سے متعلق تھا جنہیں غیر قانونی طور پر حاصل کیا گیا تھا۔

یہ فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے ایک پیچیدہ قانونی فرق سامنے آتا ہے کہ اے آئی کو کتاب سے سکھانا اور وہ کتاب غیر قانونی طریقے سے حاصل کرنا 2 الگ قانونی سوالات ہیں۔

گوگل بھی کتابوں کے مقدمے میں گھِر گیا

یہ تنازع صرف اینتھروپک تک محدود نہیں رہا۔ جولائی 2026 میں معروف پبلشرز ہیچیٹ، سینگج اور ایلسیویر اور معروف مصنف اسکاٹ ٹورو نے گوگل کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ ان کا الزام ہے کہ گوگل نے لاکھوں کاپی رائٹ شدہ تحریری کام اپنے جیمنی اے آئی ماڈلز کی تیاری اور تربیت کے لیے استعمال کیا۔

Share On Social Media

KARACHI

وفاقی وزرا کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے آزاد کشمیر کا معاملہ پیچیدہ ہورہا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے حالیہ بحران

Read More

کراچی پورٹ کا ایک اور اعزاز، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو ہزار الیکٹرک گاڑیاں پہنچ گئیں

کراچی پورٹ کو ایک اور اعزاز حاصل ہوگیا ہے جہاں گاڑیوں کی ترسیل کرنے والا

Read More

TECHNOLOGY

انسانی اشارے سمجھنے والا انوکھا فون تیار، استعمال کا طریقہ بھی بدل جائے گا

آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی دنیا میں ایک بڑا انقلاب دستک دے رہا ہے جہاں

Read More

جان کا خطرہ: کھُلنے کے ایک مہینے بعد دوائی کو پھینک دینا کیوں ضروری ہے؟

اکثر لوگ دوا کی بوتل یا پیکٹ پر لکھی ہوئی ایکسپائری ڈیٹ دیکھ کر مطمئن

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.