نئے صوبوں کیلئے قومی ڈائیلاگ ناگزیر،ایم کیو ایم کی سیاسی جماعتوں کو دعوت

     متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے نئے صوبوں کے قیام کے لیے سیاسی جماعتوں کو قومی ڈائیلاگ کرنے کی دعوت دے دی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے بہادرآباد مرکز میں ڈاکٹر مصطفی کمال اور ڈاکٹر فاروق ستار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے لیے قومی ڈائیلاگ کی  رورت ہے ، ہم نے جو تجویز پیش کی اس پر ملک کی مختلف جماعتیں آواز سے آواز ملارہی ہیں، ملک بھر کے افراد سے کہتے ہیں آئیں سیاسی اختلافات بھلا کر اس پر ڈائیلاگ شروع کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ملک میں نئے صوبے آبادی کی بنیاد پر بنائے جانے چاہئیں اور سندھ میں نئے صوبوں کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے ، صوبے بنانا اگر غلط اور غداری ہے تو پھر آئین پاکستان میں اس کا ذکر کیوں موجود ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے آئین میں ترمیم کرائی اور جب عمل نہ ہوا تو سپریم کورٹ بھی گئے ، نئے صوبوں کے لیے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے ، اس کے لیے وکلا سے بات کر لی ہے ۔انہوں نے اعلان کیا کہ بلدیاتی اداروں کو آئینی اختیارات دینے کے معاملے پر بھی ایم کیو ایم دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔

    انہوں نے کہا زیادہ آبادی کے باوجود یہ صوبے انتظامی یونٹ ہیں جبکہ آبادی کی رفتار سے زیادہ ملک بھر میں اضلاع بنا دیے گئے اور آبادی بڑھنے کے باوجود صوبے نہیں بنائے گئے ، صوبے نہ بنانے کے جو اثرات آئے ہیں اس پر بھی بات کرنی چاہیے ، ہم صرف اپنے لئے یہ نہیں کہہ رہے ہیں جہاں صوبوں کی ضرورت ہے وہاں بننے چاہئیں۔ انہوں نے کہا 18ویں ترمیم کے گناہ میں اسی لئے شامل ہوئے کہ جمہوریت کے اثرات ہر جگہ پہنچیں، موجودہ صوبے قانونی تقاضوں پر نہیں بنائے گئے تھے ، یہ صوبے لسانی بنیادوں پر بنائے گئے تھے ، ہم مختلف سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا ہم ارادی اور اختیاری سندھی اور ارادی و اختیاری پاکستانی ہیں، جو سندھی بھائیوں نے ہمارا خیر مقدم کیا ہے وہ قابل تعریف ہے ، اگر وہ کہیں گے تو ہم تھینکس گیون ڈے بھی منالیں گے اور ہم نے کسی کے گھر پر قبضہ نہیں کیا۔ہجرت کرکے آنے والے لوگوں کو سندھ کے عوام کی جانب سے محبت اور احترام ملا جسے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا شہری علاقوں میں آبادکاری ایک تاریخی حقیقت ہے اور وہاں بسنے والے لوگوں کے حقوق، شناخت اور بنیادی مسائل کا تحفظ بھی ضروری ہے ۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک چلانے والوں کو ادراک ہوگیا ہے ملک بچانے کا واحد راستہ انتظامی یونٹ بنانا ہے ، ہم نے یہ بات شروع نہیں کی، محسن نقوی پیپلز پارٹی کے بہت بڑے ساتھی ہیں۔ان کا کہنا تھا ہم بلدیاتی اداروں کو با اختیار بنانا چاہتے تھے ، سب مان گئے مگر پیپلز پارٹی نے لوکل باڈی ترامیم کی مخالفت کی، اب ہم ایڈمنسٹریٹو یونٹس بنانے کی ہر تحریک کا حصہ بنیں گے ۔انتظامی یونٹس بنانا سندھیوں کے خلاف نہیں بلکہ ان کے حق میں ہے ، یہ انتظامی یونٹس بنیں گے تو سندھ کے کسانوں کو بھی اختیار ملے گا،ہمیں وہ نظام چاہیے جہاں ہمارے حقوق اور مسائل حل ہوں، میرے پاس اختیار ہونا چاہیے کہ میں اپنا حکمران تبدیل کرسکوں۔ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا ہم کہتے رہے مگر انہوں نے طاقت کے نشے میں ہماری بات نہیں مانی، ہم نے یہ بات شروع نہیں کی، محسن نقوی پیپلز پارٹی کے بہت بڑے ساتھی ہیں، محسن نقوی کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بات کی تائید کی اور ہم محسن نقوی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے صوبوں پر بیان کی تائید کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا سندھ کے بھائیوں اور بہنوں کو کہنا ہے ان کے اصل دشمن وڈیرے اور جاگیردار ہیں ،ہمیں سندھ کے غریب عوام کو یہاں کے وڈیروں اور جاگیرداروں سے نجات دلانی ہے ۔انہوں نے کہا نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانا سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا عمل ہے ، سندھ کی ایک انچ زمین کسی دوسرے صوبے میں شامل نہیں ہوگی بلکہ انتظامی یونٹس کے قیام کا مقصد مقامی آبادی کو اپنے مسائل کے حل کا اختیار دینا ہے ، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر عوامی مسائل حل نہیں کیے جاسکتے ، لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنانے کے لیے آئینی ترمیم ناگزیر ہے ۔ انہوں نے کہا موجودہ نظام نے ملک کے مختلف علاقوں میں محرومی اور مایوسی کو جنم دیا ہے ، اس لیے انتظامی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں، وسائل کی منصفانہ تقسیم، بااختیار مقامی حکومتیں اور مؤثر انتظامی یونٹس عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    فاروق ستار نے کہا پاکستان میں مزید انتظامی یونٹس کے قیام کے بغیر پائیدار ترقی اور استحکام مشکل ہے ، غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور احساس محرومی کا خاتمہ کیے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، جبکہ بہتر حکمرانی، شفاف نظام اور مضبوط انتظامی ڈھانچہ ملکی ترقی کی بنیادی ضرورت ہیں، وڈیرے اور جاگیردار اپنے سیاسی فائدے کے لیے سندھی بھائیوں کو گمراہ نہ کریں، نئے انتظامی یونٹس سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ سندھ کے انتظامی ڈویژنز کی تقسیم ہے ، سکھر، لاڑکانہ اور میرپورخاس میں نئے انتظامی یونٹس ہوں گے ، ان انتظامی یونٹس کو چلانے والے حکمران اور افسران اسی علاقے سے ہوں گے ، سندھ کے بھائیوں اور بہنوں کو کہنا ہے ان کے اصل دشمن وڈیرے اور جاگیردار ہیں اور ہمیں سندھ کے غریب عوام کو یہاں کے وڈیروں اور جاگیرداروں سے نجات دلانی ہے ۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کا نام لیے بغیر کہا کہ تم نے ہمارا گورنر چھینا تھا، اب ہم تمہارا 7 کروڑ لوگوں کے سندھ کو چلانے کا یکطرفہ اختیار چھینیں گے ۔انہوں نے کہا پاکستان کی بقا اور سالمیت اب مزید انتظامی یونٹس کے قیام کے بغیر ناممکن ہے ، جاگیرداروں اور وڈیروں نے ہی یہ تاثر دیا کہ سندھ کی تقسیم ہو رہی ہے جو بالکل غلط ہے ، یہ سندھ کی بیٹیوں اور بھائیوں کے حقوق کی بحالی کی تحریک ہے ۔ ان کا کہنا تھا عوام کو بااختیار بنانے ، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بہتر طرز حکمرانی کے لیے انتظامی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔

    Share On Social Media

    KARACHI

    پاکستان میں کاروباری اعتماد بہتر، بجٹ پر تحفظات اور مہنگائی بدستور سب سے بڑا مسئلہ قرار

    پاکستان میں کاروباری اعتماد بہتر ہوا ہے، تاہم کاروباری طبقے کے بجٹ پر تحفظات اور

    Read More

    کراچی: 2 سالہ اذان کے اغوا کا ڈراپ سین، ملزمان والد کے قریبی نکلے

    کراچی میں ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس نے 2 سالہ آذان کے اغوا کیس کا معمہ حل

    Read More

    TECHNOLOGY

    اینڈرائیڈ فون کے 3 سیفٹی فیچرز آپ کی جان بچا سکتے ہیں، ابھی آن کریں

    آج کل موبائل فون ہماری زندگی کا سب سے اہم حصہ بن چکا ہے۔ فون

    Read More

    مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس اداروں کی سکیورٹی کا نظام تبدیل کررہے ہیں، ماہرین

    مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس خاموشی سے کاروباری اداروں کے نظام میں سب سے زیادہ فعال

    Read More

    TRENDING VIDEOS

    LATEST

    ENTERTAINMENT

    ENTERTAINMENT

    roznama jazba

    Roznama Jazba is a news updated with multiple news

    & informative blogs holding valueablle material for all class of society.