میر رضا کیس میں کردارکشی کا الزام، شرجیل میمن کی شکایت پر 4 افراد سائبر کرائم میں طلب

میر رضا ہلاکت کیس میں شرجیل میمن اور ان کے بیٹے کی مبینہ کردار کشی کے معاملے پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے چار افراد کو تفتیش کے لیے طلب کر لیا ہے۔

ایجنسی کی جانب سے یہ اقدام سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنے اور اپنے بیٹے راول میمن کے خلاف ”ہتک آمیز اور من گھڑت مواد کی تشہیر“ کے خلاف درج کرائی گئی باقاعدہ شکایت پر اٹھایا گیا ہے۔

سائبر کرائم ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق جن چار افراد کو طلب کیا گیا ہے ان میں سید عبداللہ، امین قریشی، بلال وارثی اور عبید قریشی شامل ہیں۔

ان تمام افراد کو 13 اگست کو صبح ساڑھے گیارہ بجے این سی سی آئی اے کراچی کے دفتر میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نوٹس کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ چاروں افراد پیشی کے وقت اپنے اصل شناختی کارڈ، متعلقہ شواہد، دستاویزات، اپنے دفاع کا ریکارڈ اور اپنی ڈیجیٹل ڈیوائسز بھی لازمی طور پر ساتھ لے کر آئیں۔

اس پورے تنازع کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب سوشل میڈیا پر یہ الزامات وائرل ہوئے کہ کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں واقع وہ مشکوک گیسٹ ہاؤس جہاں میر علی رضا کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا، وہ مبینہ طور پر شرجیل انعام میمن کی ملکیت ہے۔

ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے 9 اگست کو ایجنسی کے پاس تحریری شکایت جمع کرائی۔

انہوں نے اپنے موقف میں کہا کہ نامعلوم افراد مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا سہارا لے کر ان کی اور ان کے بیٹے کی عزت اور شہرت کو جان بوجھ کر نقصان پہنچا رہے ہیں، لہذا اس معاملے کی ایک آزادانہ انکوائری کرائی جائے تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔

دوسری جانب، صوبائی وزیر کے بیٹے راول شرجیل میمن نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں پاکستان سے فرار ہونے کی افواہوں کو سختی سے مسترد کیا اور واضح کیا کہ وہ پاکستان میں ہی موجود ہیں۔

متعلقہ گیسٹ ہاؤس سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے راول شرجیل میمن نے کہا کہ یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ گلستانِ جوہر میں واقع متعلقہ گیسٹ ہاؤس ان کے والد شرجیل انعام میمن یا ان کی ملکیت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر جاری مہم بظاہر دو سوشل میڈیا پیجز سے شروع ہوئی، جن میں ’کراچی اسٹوریز‘ شامل ہے۔

انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ بغیر کسی ثبوت کے کسی فرد کا نام اتنے سنگین معاملے میں شامل کرے، اور جس کسی نے یہ مہم شروع کی اسے گرفتار کرکے جواب دہ بنایا جائے کیونکہ سوگوار خاندان کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

Share On Social Media

KARACHI

سانحہ گُل پلازہ: 61 ہلاکتوں کی تصدیق، 88 افراد تاحال لاپتا، فائنل سرچ آپریشن کا حکم

کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گُل پلازہ میں پیش آنے والے

Read More

گُل پلازا میں آتشزدگی کے بعد ملحقہ رمپا پلازا غیر محفوظ قرار

کراچی کے گل پلازا میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد اس

Read More

TECHNOLOGY

دنیا کے 40 فیصد اینڈرائیڈ فونز نئے سائبر حملوں کے خطرے سے دوچار

گوگل نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تقریباً 40 فیصد

Read More

یوٹیوب نے فری صارفین کے لیے بیک گراؤنڈ ویڈیو چلانے کا راستہ بند کر دیا

اگر آپ موبائل پر براؤزر کو منی مائز کر کے یا اسکرین لاک کر کے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.