آزاد کشمیر میں انتخابات کے دو مراحل مکمل، کیا مسلم لیگ (ن) حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی؟

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 2026 کے 2 مراحل کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں۔ پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن جبکہ دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن اور پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 نشستوں پر پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد سیاسی منظر نامہ کافی حد تک واضح ہوگیا ہے۔

اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) 24 نشستوں کے ساتھ واضح برتری حاصل کر چکی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔

ان نتائج کے بعد مسلم لیگ (ن) بظاہر حکومت بنانے کی مضبوط ترین پوزیشن میں آگئی ہے۔

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مجموعی 45 جنرل نشستوں میں سے اب تک 30 نشستوں پر انتخابی عمل مکمل ہو چکا ہے، جن میں میرپور ڈویژن، مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین جموں و کشمیر کے 12 حلقے شامل ہیں۔

مظفرآباد کے حلقہ ایک ایل اے 27 میں آج پولنگ ہو رہی ہے، جبکہ حلقہ 2 لچھراٹ کی کچھ یونین کونسلز میں بھی آج ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، جہاں پولنگ عملہ بروقت نہ پہنچنے کے باعث 2 اگست کو الیکشن ملتوی کردیا گیا تھا۔

اس کے بعد اب پونچھ ڈویژن کی 11 نشستوں پر پولنگ باقی ہے، جو 10 اگست کو ہوگی۔ انہی نشستوں کے نتائج سے یہ فیصلہ ہوگا کہ آئندہ حکومت کتنی مضبوط ہوگی اور اپوزیشن کتنی مضبوط ہوگی۔

مسلم لیگ (ن) کو کتنی برتری حاصل ہے؟

پہلے دو مرحلوں کے انتخابی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) 24 نشستیں حاصل کر چکی ہے، جو کسی بھی جماعت کے لیے نمایاں برتری ہے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، اس کے علاوہ کوئی جماعت ایک نشست بھی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) آزاد کشمیر کے صدر سردار تنویر الیاس کو اپر نیلم سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد انہوں نے تیسرے مرحلے کے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا، تاہم اب مرکزی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ آئی پی پی انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لے گی۔

اگرچہ مسلم لیگ (ن) نے حکومت سازی کی جانب فیصلہ کن پیشرفت کر لی ہے، تاہم پونچھ ڈویژن کے انتخابات اس کی پارلیمانی طاقت میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔ اگر جماعت وہاں بھی بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہی تو اسے ایک مستحکم حکومت قائم کرنے میں بھی آسانی ہوگی۔

حکومت بنانے کے لیے کتنی نشستیں درکار ہیں؟

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے 27 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا ایوان 53 ارکان پر مشتمل ہے، جس میں 45 ارکان براہ راست منتخب ہوکر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کی 5 مخصوص نشستیں ہیں، جبکہ علما و مشائخ، ٹیکنو کریٹ اور اوورسیز کے لیے ایک ایک نشست رکھی گئی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر مسلم لیگ (ن) موجودہ برتری برقرار رکھنے کے ساتھ پونچھ ڈویژن سے بھی قابل ذکر نشستیں حاصل کر لیتی ہے تو مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بعد اس کی عددی قوت مزید مضبوط ہو جائےگی اور اسے حکومت سازی میں کسی کی حمایت درکار نہیں ہوگی۔

پونچھ ڈویژن کیوں اہم ہے؟

10 اگست کو پونچھ ڈویژن کی 11 نشستوں پر ہونے والی پولنگ پورے انتخابی عمل کا آخری اور اہم مرحلہ ہوگی۔ اس ڈویژن کو ہمیشہ سے آزاد کشمیر کی سیاست میں فیصلہ کن حیثیت حاصل رہی ہے۔

سیاسی جماعتوں نے اب اپنی تمام تر توجہ پونچھ ڈویژن پر مرکوز کر دی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اپنی برتری کو مزید مستحکم کرنا چاہتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی نتائج میں بہتری لا کر مقابلہ سخت بنانے کی کوشش کرے گی۔

انتخابی عمل مجموعی طور پر پرامن رہا

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کے مطابق دونوں مراحل میں مجموعی طور پر پولنگ کا عمل پرامن ماحول میں مکمل ہوا۔ حساس پولنگ اسٹیشنوں پر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے جبکہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے گئے۔

دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین جموں و کشمیر کے حلقوں میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ حوصلہ افزا رہا۔ بالخصوص مہاجرین کی نشستوں پر ووٹرز نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا، جسے سیاسی مبصرین جمہوری عمل پر اعتماد اور ان نشستوں کی اہمیت سے تعبیر کر رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے، اور کسی سیاسی جماعت کی حمایت کے بغیر اقتدار حاصل کرلے گی، تاہم اسے سب سے بڑا چیلنج ایکشن کمیٹی کا درپیش ہوگا، اور دیکھنا یہ ہوگا کہ مسلم لیگ ن ایکشن کمیٹی کو کیسے ہینڈل کرتی ہے۔

ن لیگ کے حق میں آنے والے نتائج غیر متوقع نہیں، جاوید ہاشمی

سینیئر صحافی جاوید اقبال ہاشمی نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آزاد کشمیر میں انتخابات کے پہلے دو مراحل مجموعی طور پر پرامن اور غیرجانبدار ہوئے ہیں، اور مسلم لیگ ن کے حق میں آنے والے نتائج کوئی غیرمتوقع نہیں۔

انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں اگر ایک ہی روز انتخابات ہوتے تو پھر بھی نتائج مسلم لیگ ن کے حق میں آتے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے مظفرآباد ڈویژن میں انتخابات کے روز الیکشن کے نتائج کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔

آزاد کشمیر میں فضا مسلم لیگ ن کے حق میں تھی، راجا کفیل احمد

سینیئر صحافی راجا کفیل احمد بھی جاوید ہاشمی سے اتفاق کرتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں فضا پہلے سے مسلم لیگ ن کے حق میں تھی اور اگر ایک ہی روز بھی انتخابات ہو جاتے تو پھر بھی مسلم لیگ ن کامیابی حاصل کرتی۔

انہوں نے کہاکہ ابھی پونچھ کے انتخابات ہونا باقی ہیں اور مسلم لیگ ن حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے جو بہت بڑی کامیابی ہے، اور اب ن لیگ کو حکومت بنانے کے لیے کسی سہارے کی ضرورت نہیں پڑےگی۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بے تحاشا کھپت، اوپن اے آئی نے حل ڈھونڈ لیا

اوپن اے آئی نے اسٹار گیٹ کمیونٹی منصوبہ پیش کیا ہے جس کا مقصد کمیونٹی

Read More

موبائل فون مرمت کے لیے دینے سے پہلے یہ احتیاط یقینی بنائیں

موبائل فون دکان یا سروس سینٹر پرمرمت کے لیے دیتے وقت آپ کی پرائیویسی اور

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.