پاکستانی فلمیں عالمی پلیٹ فارمز تک کیوں نہیں پہنچ پاتیں؟

فلم ’نایاب‘ کو ملنے والے حالیہ بین الاقوامی اعزازات اور ملک گیر پسندیدگی کے بعد اب ہر جگہ ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ ہم یہ فلم کب اور کہاں دیکھ سکتے ہیں اور کیا یہ انٹرنیٹ پر دیکھنے کے لیے دستیاب ہوگی۔ یہ سوال ظاہر کرتا ہے کہ فلم کی تعریف لوگوں تک پہنچ چکی ہے، لیکن ناظرین کے پاس اسے دیکھنے کا کوئی سیدھا راستہ موجود نہیں ہے۔ آج کے دور میں کسی بھی تخلیقی کام کی کامیابی کا پہلا قدم ناظرین کی اس تک آسان رسائی ہے۔

ہمارے خطے میں انٹرنیٹ پر فلمیں دکھانے والے بڑے عالمی اداروں کا تمام تر انتظام پڑوسی ملک کے دفاتر سے چلایا جاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کا بہترین تخلیقی کام بھی وہاں کی کاروباری ترجیحات، قوانین اور سیاسی حالات کی نذر ہو جاتا ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین سیاسی سرد مہری کے باعث ہمارے منصوبوں میں بلاوجہ تاخیر کی جاتی ہے، فیصلے لٹکا دیے جاتے ہیں اور ہمارے کام کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، وہاں کی عام معیار کی فلمیں بھی بہت آسانی سے دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچ جاتی ہیں۔

یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ فلمیں صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتیں، بلکہ یہ دنیا کے سامنے کسی بھی معاشرے کا بیانیہ پیش کرتی ہیں۔ جب دنیا پاکستان کے بارے میں صرف دوسروں کی بنائی ہوئی فلمیں دیکھتی ہے، تو ہمارے ملک کے بارے میں ایک مخصوص اور یکطرفہ تاثر قائم ہو جاتا ہے۔ ہمارے پاس بہترین کہانیاں اور جدید ترین تکنیکی صلاحیت موجود ہے، لیکن کمی صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کا براہ راست راستہ نہیں رکھتے

اس تعطل کو توڑنے کے لیے حکومتِ پاکستان کو سب سے پہلے عالمی نشریاتی اداروں کے مرکزی دفاتر سے براہ راست رابطہ قائم کرنا چاہیے تاکہ کسی تیسرے ملک پر ہمارا انحصار ختم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی ایک ایسا سرکاری انتظام کرنا ضروری ہے جہاں دنیا بھر کے خریداروں کو بلا کر پاکستانی فلمیں اور ہمارے شائقین کی تعداد کے اعداد و شمار پیش کیے جا سکیں۔

ہمیں اپنی فلموں کی کم لاگت کو ایک کاروباری طاقت کے طور پر پیش کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان میں ایک بہترین فلم دنیا کے مقابلے میں انتہائی کم سرمائے میں تیار ہو جاتی ہے۔ آخر میں، ہمیں فلموں کی فروخت اور تقسیم سے وابستہ عالمی نمائندوں کے لیے پاکستان میں ایک بڑا اجلاس منعقد کرنا چاہیے تاکہ وہ ہمارے مقامی فلم سازوں سے براہ راست معاہدے کر سکیں اور ہماری فلمیں بغیر کسی رکاوٹ کے دنیا بھر میں دیکھی جاسکیں۔

سینما کسی بھی قوم کی تہذیب، خوابوں اور سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ جب تک ہم اپنی فلموں کو دنیا تک پہنچانے کے لیے قومی سطح پر مستقل اور مضبوط حکمتِ عملی نہیں اپنائیں گے، ہماری آواز عالمی منظر نامے پر دبتی رہے گی۔

Share On Social Media

KARACHI

شدید گرمی، جسم کا درجہ حرارت 106 ڈگری تک جا سکتا ہے، این آئی ایچ نے ہیٹ اسٹروک سے بچنے کا علاج بتادیا

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث شدید گرمی

Read More

راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی مبینہ فائرنگ، قانون نافذ کرنے والے چار اہلکار شہید

آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم قرار دی

Read More

TECHNOLOGY

مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار

مکہ مکرمہ کی مایہ ناز اور تاریخی درسگاہ ’ام القریٰ یونیورسٹی‘ کے کلچرل فرنٹ نے

Read More

گوگل اور اسپیس ایکس کے درمیان 30 ارب ڈالر کا تاریخی اے آئی معاہدہ

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مسابقت کے دوران گوگل نے ایلون مسک کی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.