ایک ہی دوا مختلف قیمتوں پر کیوں فروخت ہوتی ہے؟ ڈریپ نے وجہ بتا دی

پاکستان میں ایک ہی دوا مختلف میڈیکل اسٹورز پر مختلف قیمتوں میں فروخت ہونے کا معاملہ مریضوں کے لیے شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ ایک ہی دوا کے نرخوں میں ہزاروں روپے کے فرق نے نہ صرف مریضوں بلکہ ان کے اہلخانہ کو بھی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ ادویات کی قیمتوں کے تعین اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

پلیٹ لیٹس کی کمی کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا ’الٹروم‘ اس کی نمایاں مثال بن گئی ہے۔ مختلف فارمیسیوں پر یہی دوا 15 ہزار روپے سے لے کر 30 ہزار روپے تک فروخت کی جا رہی ہے جس کے باعث یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ایک ہی دوا کی قیمت میں آخر اتنا بڑا فرق کیوں ہے اور اس کی نگرانی کون کر رہا ہے؟

اس معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے وی نیوز نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) سے رابطہ کیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ملک میں ادویات کی قیمتوں کا تعین کس طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے اور ایک ہی دوا مختلف فارمیسیوں پر مختلف قیمتوں میں کیوں فروخت ہوتی ہے۔

ڈریپ کے ڈائریکٹر پرائسنگ ڈاکٹر امان اللہ نے وی نیوز کو بتایا کہ ڈریپ صرف ان ادویات کی زیادہ سے زیادہ ریٹیل قیمت (ایم آر پی) پر عملدرآمد یقینی بناتا ہے جنہیں حکومت ضروری (ایسینشل) ادویات قرار دیتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت ان ادویات کی زیادہ سے زیادہ قیمت مقرر کرتی ہے تاہم اگر کوئی کمپنی چاہے تو وہ اپنی دوا مقررہ قیمت سے کم نرخ پر بھی فروخت کر سکتی ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے کسی دوا کی زیادہ سے زیادہ قیمت 100 روپے مقرر کی ہے تو ایک کمپنی اسے 70 روپے میں جبکہ دوسری 40 روپے میں بھی فروخت کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق ڈریپ کی ذمہ داری صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی کمپنی حکومت کی مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ قیمت سے زائد رقم وصول نہ کرے۔

ڈاکٹر امان اللہ نے بتایا کہ پاکستان میں متعدد ایسی ادویات بھی موجود ہیں جن کی قیمت حکومت نے مقرر نہیں کی۔ ایسی ادویات کے نرخ طے کرنے کا اختیار ڈریپ کے پاس نہیں ہوتا جس کے باعث ان کی قیمتیں مختلف کمپنیوں، درآمدی لاگت اور مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی بیشتر ادویات بھی حکومتی قیمتوں کے نظام کے تحت ریگولیٹ نہیں ہوتیں۔ اانہوں نے مزید کہا کہ ایسی ادویات کی فروخت کی قیمت ہر میڈیکل اسٹور یا فارمیسی اپنی تجارتی پالیسی کے مطابق مقرر کرتی ہے جس کے نتیجے میں ایک ہی دوا مختلف مقامات پر مختلف قیمتوں میں دستیاب ہوتی ہے۔

ڈریپ حکام کے مطابق درآمدی ادویات خریدتے وقت صارفین کے پاس مختلف قیمتوں پر دستیاب مصنوعات میں سے اپنی استطاعت اور ترجیح کے مطابق انتخاب کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مریض ایک ہی دوا 10 ہزار روپے میں خرید لیتے ہیں جبکہ دوسرے مریض اسی دوا کے لیے 15 ہزار، 20 ہزار یا حتیٰ کہ 30 ہزار روپے تک ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

مطالعے کے بدلتے انداز: مصنوعی ذہانت نے اب کتابوں سے گفتگو بھی ممکن بنادی

مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی نئی ٹیکنالوجی کتابیں پڑھنے کے انداز میں بڑی

Read More

اسلام آباد اور کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی

محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں

Read More

TECHNOLOGY

اوپن اے آئی کے تجرباتی ماڈلز خو ہی ہیکر بن گئے، حقیقت کیا ہے؟

مصنوعی ذہانت  یا اے آئی کی دنیا میں اس ہفتے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا

Read More

ایپل کے نئے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس آخری مرحلے میں داخل

ایپل نے اپنے آئندہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کے ریلیز کینڈیڈیٹ ورژن جاری کر دیے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.