مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے اپنے نئے اے آئی ماڈل چیٹ جی پی ٹی ورک نامی پلیٹ فارم متعارف کرا دیا ہے جس کا مقصد دفتری امور، کوڈنگ، دستاویزات کی تیاری اور دیگر روزمرہ کاموں کو خودکار بنانا ہے۔GPT-5.6 اور
کمپنی کے مطابق GPT-5.6 تین مختلف ماڈلز Sol، Terra اور Luna پر مشتمل ہے، جنہیں کارکردگی، رفتار اور کم لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ فلیگ شپ ماڈل Sol پیچیدہ تجزیاتی اور پروگرامنگ کاموں کے لیے بنایا گیا ہے، جبکہ Terra روزمرہ استعمال اور Luna تیز رفتار اور کم لاگت والے آپریشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اوپن اے آئی نے ساتھ ہی ChatGPT Work بھی متعارف کرایا ہے جو صرف ایک چیٹ بوٹ نہیں بلکہ ایک ایسا اے آئی معاون ہے جو متعدد دفتری کام خود انجام دے سکتا ہے۔ یہ دستاویزات تیار کرنے، اسپریڈ شیٹس کا تجزیہ کرنے، کوڈ لکھنے، پریزنٹیشنز بنانے اور Slack، Gmail، Google Drive سمیت مختلف ورک پلیٹ فارمز کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ پلیٹ فارم طویل اور متعدد مراحل پر مشتمل ورک فلو کو محدود انسانی نگرانی میں مکمل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جس سے ملازمین کو مختلف ایپس کے درمیان بار بار منتقل ہونے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔
GPT-5.6 کی عوامی ریلیز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مقابلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ اوپن اے آئی کے حریف Anthropic اور Google بھی ایسے اے آئی سسٹمز پر کام کر رہے ہیں جو صارفین کی جانب سے پیچیدہ دفتری کام انجام دے سکیں۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف سوالات کے جواب دینے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مستقبل میں پریزنٹیشنز تیار کرنے، اسپریڈ شیٹس اپ ڈیٹ کرنے، کوڈ کا جائزہ لینے اور مکمل دفتری ورک فلو سنبھالنے جیسے کام بھی انجام دے سکے گی۔




































