وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کے سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لیے

وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے 2018 اور 2019 کے احکامات واپس لے لیے۔

عدالت نے قرار دیا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا اختیار بنیادی طور پر صوبائی حکومت کا ہے، عدلیہ کا نہیں۔ عدالتیں اپنے سامنے موجود تنازع تک محدود رہیں، غیر ضروری معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ نے زیرِ سماعت مقدمے سے آگے بڑھ کر وسیع احکامات جاری کیے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی رپورٹس کی بنیاد پر قانونی تقاضے پورے کیے بغیر مسماری کے احکامات نہیں دیے جا سکتے۔ منصفانہ قانونی کارروائی (ڈیو پروسیس) ہر مقدمے میں لازمی آئینی تقاضا ہے۔

مزید یہ کہ عدالت کا مقصد غیر قانونی تعمیرات کو قانونی تحفظ دینا نہیں، صرف قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ عدالت کے مطابق کراچی میں غیر قانونی تعمیرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانونی نظام اور متعلقہ ادارے پہلے سے موجود ہیں۔ سندھ حکومت اور متعلقہ ادارے غیر قانونی تعمیرات کی نگرانی اور کارروائی کے آئینی و قانونی طور پر پابند ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 21 دسمبر 2018 اور 22 جنوری 2019 کے سپریم کورٹ کے احکامات اور ان کے تحت ہونے والی کارروائیاں واپس لے لیں۔

جسٹس سید ارشد حسین شاہ کا اضافی نوٹ

فیصلے میں جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور عوامی سہولیات کاتحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے ۔ پارکس، کھیل کے میدان، گرین بیلٹس، فٹ پاتھ، ساحل اور دیگر عوامی مقامات کو غیر قانونی قبضوں اور تبدیلیوں سے محفوظ رکھا جائے۔

Share On Social Media

KARACHI

مونال، نسلہ اور بھٹو کی پھانسی: سپریم کورٹ کے وہ فیصلے جو وقت کے ساتھ بدل گئے

وفاقی آئینی عدالت نے رواں ماہ دو انتہائی ہائی پروفائل مقدمات میں سپریم کورٹ کے

Read More

150 تولے سونا اور لاکھوں کی نقدی؛ کراچی میں رواں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی

کراچی کے علاقے گڈاپ سٹی میں رواں سال کی بڑی ڈکیتی کی واردات سامنے آئی

Read More

TECHNOLOGY

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.