سعودی محققین کی بڑی کامیابی، پاس ورڈ کے بغیر ڈیوائسز کی شناخت کرنے والی جدید ٹیکنالوجی تیار


سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین نے ایک ایسی جدید ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے، جس کے ذریعے ڈیجیٹل ڈیوائسز اپنی منفرد جسمانی خصوصیات کی بنیاد پر خود اپنی شناخت ثابت کر سکیں گی۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں روایتی پاس ورڈز اور سیکیورٹی کیز کا محفوظ اور تیز رفتار متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔

سعود پریس ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنس دانوں نے ڈیجیٹل سیکیورٹی کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے ایسی جدید ٹیکنالوجی تیار کی ہے، جس سے کمپیوٹر، سرورز اور دیگر منسلک ڈیوائسز اپنی منفرد جسمانی خصوصیات کے ذریعے خود اپنی شناخت کی تصدیق کر سکیں گی۔

یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے ’نیچر الیکٹرانکس‘ میں شائع ہوئے ہیں۔ اس نئی ٹیکنالوجی کا مقصد کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور باہم منسلک ڈیجیٹل نیٹ ورکس میں سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا ہے، جہاں ہر ڈیوائس کی اصل شناخت کی تصدیق انتہائی اہم ہوتی جا رہی ہے۔

تحقیقی ٹیم نے اس مقصد کے لیے نہایت چھوٹے لیزر آلات استعمال کیے، جو ہر ڈیوائس کے لیے ایک منفرد نوری پیٹرن یا ’ڈیجیٹل فنگر پرنٹ‘ تیار کرتے ہیں۔ جس طرح 2 انسانوں کے فنگر پرنٹس ایک جیسے نہیں ہوتے، اسی طرح ہر لیزر کا روشنی کا نمونہ بھی منفرد ہوتا ہے، جسے شناخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

محققین نے اس نظام کو مصنوعی ذہانت سے بھی جوڑا، جس کی مدد سے یہ منفرد فنگر پرنٹس انتہائی کم وقت میں پہچانے اور تصدیق کیے جا سکتے ہیں۔

تحقیق کی سربراہ اسسٹنٹ پروفیسر یاتنگ وان نے کہا کہ آج ہر منسلک ڈیوائس کی شناخت عام طور پر پاس ورڈ یا سیکیورٹی کیز پر منحصر ہوتی ہے، تاہم ان کی تحقیق اس تصور کو فروغ دیتی ہے کہ ڈیوائس اپنی اندرونی جسمانی خصوصیات کے ذریعے خود کو محفوظ انداز میں شناخت کروا سکے۔

یونیورسٹی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ایسے بڑے ڈیجیٹل نیٹ ورکس میں استعمال کی جا سکتی ہے جہاں لاکھوں سرورز، سینسرز اور دیگر ڈیوائسز کو محفوظ انداز میں ایک دوسرے سے رابطہ کرنا ہوتا ہے۔ ان میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت کا بنیادی ڈھانچہ، صنعتی نظام اور روزمرہ استعمال کی اسمارٹ ڈیوائسز شامل ہیں۔

لیبارٹری تجربات میں یہ نظام نہایت تیز رفتاری سے شناخت کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہا، جبکہ اس نے انتہائی کم توانائی استعمال کی، جو اسے مستقبل کے جدید کمپیوٹنگ سسٹمز کے لیے ایک مؤثر اور قابل اعتماد حل بناتی ہے۔

تحقیقی ٹیم اس ٹیکنالوجی کو مستقبل کے کمپیوٹنگ اور مواصلاتی نظام میں شامل کرنے کے طریقوں پر مزید تحقیق کر رہی ہے تاکہ زیادہ محفوظ، قابل اعتماد اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بنیاد رکھی جا سکے۔

Share On Social Media

KARACHI

سندھ حکومت کا سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کرانے کا اعلان

سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرانے کا اعلان

Read More

سانحہ گل پلازہ؛ گورنر کا جوڈیشل کمیشن کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس

Read More

TECHNOLOGY

کیا جیفری ایپسٹین بِٹ کوائن کا گمنام بانی تھا؟ خفیہ ای میلز نے تہلکہ مچا دیا

سوشل میڈیا پر گردش کرتی کچھ خفیہ ای میلز نے ایک بار پھر یہ بحث

Read More

پاکستانی اے آئی اسٹارٹ اپ کی امریکی کمپنی کو کامیاب فروخت

ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان کے ابھرتے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کو عالمی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.