یورپ میں موسمیاتی بحران شدت اختیار کر گیا، اسپین میں جنگلاتی آگ سے درجن بھر افراد ہلاک

اسپین کے جنوب مشرقی صوبے المیریا کے علاقے لوس گایاردوس  میں خوفناک جنگلاتی آگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 12 ہو گئی، جبکہ کم از کم 6 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق جنوبی یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر کے باعث اسپین، فرانس اور پرتگال میں متعدد مقامات پر جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی ہے۔

اندلس کی علاقائی حکومت نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ مزید 6 لاشیں ملنے کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 12 تک پہنچ گئی ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق بعض متاثرین کی لاشیں ان گاڑیوں سے برآمد ہوئیں جو آگ کی لپیٹ میں آ گئی تھیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آگ بجلی کی ایک ہائی ٹینشن لائن گرنے کے باعث لگی اور تیزی سے قریبی جنگلات تک پھیل گئی، تاہم حکام نے تاحال آگ لگنے کی وجہ کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

اندلس کے صدر خوانما مورینو نے واقعے کو ’ایک بڑا سانحہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ المناک حادثہ پورے خطے کے لیے گہرے صدمے کا باعث ہے۔

آگ پر قابو پانے کے لیے تقریباً 150 فائر فائٹرز علاقے بیدار (Bedar) میں مسلسل امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ زخمیوں میں ایک شخص دھواں زیادہ مقدار میں سانس کے ذریعے جسم میں جانے کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ ایک اور شخص جھلس گیا۔ مزید 4 افراد کو معمولی جھلسنے اور دھویں سے سانس لینے میں دشواری کے باعث موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی۔

جنگلاتی آگ کے باعث متعدد شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں، جبکہ ہنگامی امدادی اداروں کے مطابق تقریباً ایک ہزار افراد کو اپنے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ رواں موسم گرما میں جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ہنگامی آپریشن تعینات کیا جائے گا۔ اسپین کی ملٹری ایمرجنسی یونٹ (UME) نے بھی لوس گایاردوس میں آگ بجھانے کی کارروائیوں میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

رواں سال جون میں اسپین نے 1950 کے بعد اپنی بلند ترین اوسط یومیہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا، جبکہ بعض علاقوں میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

یورپی جنگلاتی آگ کی معلومات فراہم کرنے والے نظام EFFIS کے مطابق گزشتہ سال اسپین میں تقریباً 3 لاکھ 93 ہزار ہیکٹر رقبہ جنگلاتی آگ کی نذر ہوا، جو 2006 سے 2024 کے دوران ملک کی اوسط سے 6 گنا زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ یورپ دنیا کا وہ خطہ بن چکا ہے جہاں درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دو گنا تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

یورپی موسمیاتی ادارے کوپرنیکس کلائمیٹ سروس کے مطابق اسی رجحان کے باعث یورپ میں گرمی کی شدید لہریں، پانی کی قلت اور جنگلاتی آگ کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال یورپی یونین میں 2006 سے ریکارڈ شروع ہونے کے بعد جنگلاتی آگ کا بدترین سیزن دیکھنے میں آیا، جس کے دوران 10 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ جل کر خاکستر ہو گیا، جو تقریباً ویلز کے نصف رقبے کے برابر بنتا ہے۔

لندن کے امپیریل کالج سے وابستہ ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن گروپ کی تحقیق میں بھی بحیرہ روم کے خطے میں جنگلاتی آگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کو براہِ راست موسمیاتی تبدیلی سے جوڑا گیا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی رفتار برقرار رہی تو مستقبل میں یورپ کو مزید بار بار اور زیادہ شدید جنگلاتی آگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

ملازمت پیشہ افراد اور طلبہ کے لیے خوشخبری؛ اگست میں چھٹیاں ہی چھٹیاں

پاکستان میں سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین اور طلبہ کے لیے اگست کا مہینہ

Read More

مطالعے کے بدلتے انداز: مصنوعی ذہانت نے اب کتابوں سے گفتگو بھی ممکن بنادی

مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی نئی ٹیکنالوجی کتابیں پڑھنے کے انداز میں بڑی

Read More

TECHNOLOGY

چین میں روبوٹس کے لیے منفرد اسکول، روزگار کے لیے تیار کیے جانے لگے

چین کے مشرقی شہر ہینگژو میں قائم ایک جدید قومی تربیتی مرکز میں روبوٹس کو

Read More

اینڈرائیڈ فون کے 3 سیفٹی فیچرز آپ کی جان بچا سکتے ہیں، ابھی آن کریں

آج کل موبائل فون ہماری زندگی کا سب سے اہم حصہ بن چکا ہے۔ فون

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.