چین کا جدید مصنوعی ذہانت ماڈلز تک غیر ملکی رسائی محدود کرنے پر غور

چینی حکومت اپنی جدید ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کو اسٹریٹجک اثاثہ قرار دیتے ہوئے غیر ملکی صارفین کی رسائی محدود کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے گزشتہ ایک ماہ کے دوران حکام نے ملک کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے متعدد اجلاس کیے ہیں، جبکہ امریکا بھی قومی سلامتی کے خدشات کے باعث اپنی جدید اے آئی ٹیکنالوجی پر برآمدی پابندیاں سخت کر چکا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیجنگ نے حالیہ ہفتوں میں ملک کی نمایاں ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مشاورت شروع کی ہے تاکہ چین کے جدید ترین مصنوعی ذہانت ماڈلز تک بیرونِ ملک رسائی محدود کرنے کے لیے ممکنہ پالیسی تیار کی جا سکے۔ یہ اقدام اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت چین حساس اے آئی ٹیکنالوجی کو ملک کے اندر محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ڈیپ سیک کے آر-1 ماڈل کی کامیابی کے بعد کم لاگت اور بہتر کارکردگی کے باعث چینی اے آئی ماڈلز دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہوئے ہیں۔ تاہم اگر چین ان ماڈلز تک غیر ملکی رسائی محدود کرتا ہے تو عالمی اے آئی مارکیٹ پر اس کے نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور متعدد کمپنیوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی کا غیر مناسب استعمال قومی سلامتی کے قوانین کی خلاف ورزی بن سکتا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت اس امکان کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ ملکی اے آئی اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کرنے والوں پر نئی پابندیاں عائد کی جائیں۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ قواعد کا دائرہ کار ابھی زیر غور ہے اور امکان ہے کہ ان کا اطلاق صرف آئندہ آنے والے جدید اے آئی ماڈلز پر ہو۔

دوسری جانب امریکا بھی مصنوعی ذہانت کو قومی سلامتی سے جوڑ رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ امریکی اے آئی ماڈلز کو چین، روس اور دیگر ممالک عسکری یا انٹیلی جنس مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، جس کے باعث جدید اے آئی ٹیکنالوجی کی برآمد اور رسائی پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔

اسی سلسلے میں امریکی کمپنی اینتھروپک نے حال ہی میں اپنے نئے اے آئی ماڈلز Fable 5 اور Mythos 5 تک رسائی محدود کرنے کا اعلان کیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکی برآمدی ضوابط کی پابندی اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بعض غیر ملکی صارفین کے لیے ان ماڈلز کی دستیابی محدود کی جا رہی ہے۔

ادھر چینی حکام نے مقامی اے آئی کمپنیوں، جن میں Manus بھی شامل ہے، کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انہوں نے برآمدی کنٹرول کے قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔ اس کے علاوہ جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجیز کو سکیورٹی جائزے سے گزارنے اور بعض انتہائی جدید ماڈلز کی عوامی سطح پر دستیابی محدود کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

مونال، نسلہ اور بھٹو کی پھانسی: سپریم کورٹ کے وہ فیصلے جو وقت کے ساتھ بدل گئے

وفاقی آئینی عدالت نے رواں ماہ دو انتہائی ہائی پروفائل مقدمات میں سپریم کورٹ کے

Read More

150 تولے سونا اور لاکھوں کی نقدی؛ کراچی میں رواں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی

کراچی کے علاقے گڈاپ سٹی میں رواں سال کی بڑی ڈکیتی کی واردات سامنے آئی

Read More

TECHNOLOGY

جان کا خطرہ: کھُلنے کے ایک مہینے بعد دوائی کو پھینک دینا کیوں ضروری ہے؟

اکثر لوگ دوا کی بوتل یا پیکٹ پر لکھی ہوئی ایکسپائری ڈیٹ دیکھ کر مطمئن

Read More

گلوبل اے آئی گورننس کی جانب اہم پیش قدمی، پاکستان ’ وائیکو ‘ کا بانی رکن بن گیا

پاکستان نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.