پاکستانی شوبز انڈسٹری میں اے آئی کے بڑھتے خطرات، اداکار ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ کے لیے متحرک

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے استعمال نے پاکستان کی ٹیلی ویژن اور فلم انڈسٹری میں اداکاروں کی ڈیجیٹل شناخت اور حقوق سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں کئی فنکار اپنی’ڈیجیٹل نقل‘ کے ممکنہ غلط استعمال اور کنٹرول کے ضائع ہونے پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔

اداکارہ حرا ترین کی جانب سے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ایک معاملے نے اس بحث کو مزید شدت دے دی ہے، جس میں مبینہ طور پر ایسے معاہدوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں اداکار کی شکل، آواز، حرکات اور اداکاری کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر نقل کرنے کی اجازت شامل تھی۔ فنکاروں کے مطابق بعض معاہدوں میں ان ڈیجیٹل ورژنز کے استعمال پر مستقل اور عالمی حقوق تک دینے کی شقیں بھی موجود تھیں۔

رپورٹ کے مطابق بعض معاہدوں میں اداکاروں کو اس ڈیجیٹل استعمال کے بدلے کسی اضافی مالی معاوضے یا رائلٹی کی فراہمی کا ذکر بھی نہیں کیا گیا، جس پر انڈسٹری میں تحفظات بڑھ گئے ہیں۔ کچھ فنکاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس عمل سے اداکار اپنی ہی ’ڈیجیٹل شناخت‘ پر کنٹرول کھو سکتے ہیں۔

اداکارہ فاخرہ حسن سمیت بعض فنکاروں نے ایسے معاہدوں پر دستخط کرنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بغیر واضح شرائط، مدت اور معاوضے کے ڈیجیٹل حقوق دینا قابل قبول نہیں۔

دوسری جانب پروڈکشن ہاؤسز کی نمائندگی کرتے ہوئے بعض ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اے آئی کے حوالے سے پیدا ہونے والا تنازع غلط فہمیوں کا نتیجہ ہے اور ابتدائی مسودوں میں شامل کچھ شقیں حتمی معاہدوں کا حصہ نہیں رہیں۔ ان کے مطابق اے آئی کا استعمال فی الحال زیادہ تر ایڈیٹنگ، پوسٹرز اور پروموشنل مواد تک محدود ہے۔

تاہم اداکاروں اور تخلیق کاروں کا مؤقف ہے کہ مسئلہ صرف موجودہ استعمال تک محدود نہیں بلکہ مستقبل میں ڈیجیٹل ڈبلز اور مصنوعی کارکردگی کے ممکنہ تجارتی استعمال سے متعلق ہے، جس سے اداکاروں کی آمدن اور روزگار متاثر ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں، بلکہ عالمی سطح پر بھی اس پر بحث جاری ہے۔ ہالی ووڈ میں اسکرین ایکٹرز گلڈ اور دیگر تنظیموں نے اے آئی کے استعمال کے لیے واضح اصول طے کیے ہیں جن میں اداکار کی اجازت، معاوضہ اور محدود استعمال کی شرائط شامل ہیں۔

پاکستانی فنکاروں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اے آئی سے متعلق ایک علیحدہ قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے، جس میں واضح طور پر ڈیجیٹل حقوق، استعمال کی مدت، معاوضہ اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

ادبی اور تخلیقی حلقوں میں یہ رائے بھی سامنے آ رہی ہے کہ اگر بروقت قواعد و ضوابط نہ بنائے گئے تو فنکاروں کی ڈیجیٹل شناخت ایک ایسا اثاثہ بن سکتی ہے جس پر ان کا اپنا کنٹرول محدود ہو جائے گا، اور مستقبل میں یہ تنازع مزید پیچیدہ صورت اختیار کرسکتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

شدید گرمی، جسم کا درجہ حرارت 106 ڈگری تک جا سکتا ہے، این آئی ایچ نے ہیٹ اسٹروک سے بچنے کا علاج بتادیا

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث شدید گرمی

Read More

راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی مبینہ فائرنگ، قانون نافذ کرنے والے چار اہلکار شہید

آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم قرار دی

Read More

TECHNOLOGY

حکومت کا 10 لاکھ نوجوانوں کو مفت ’اے آئی‘ ٹریننگ دینے کا اعلان

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن (آئی ٹی ) شزا فاطمہ خواجہ نے

Read More

مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار

مکہ مکرمہ کی مایہ ناز اور تاریخی درسگاہ ’ام القریٰ یونیورسٹی‘ کے کلچرل فرنٹ نے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.