استنبول، ترکیے (نامہ نگار خصوصی، سید رضوان حیدر بخاری، روزنامہ جذبہ نیوز انٹرنیشنل )
سیاسی سفارتکاری کے ساتھ ساتھ وزیرِاعظم پاکستان کاروباری و اقتصادی سفارتکاری کیلئے بھی کوشاں، پاکستان اور ترکیے کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے استنبول میں پاکستان۔ترکیے بزنس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکومتی نمائندوں، سرمایہ کاروں، صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔

















کانفرنس کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو فروغ دینا تھا، جبکہ توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹرانسپورٹ، معدنی وسائل، دفاعی صنعت اور بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ترک نائب صدر جودت یلماز نے اپنے خطاب میں کہا کہ ترکیے اور پاکستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبے کے درمیان روابط میں اضافہ خطے کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا اور ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان توانائی، انفراسٹرکچر، زراعت، ٹیکنالوجی اور صنعت کے شعبوں میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع فراہم کر رہا ہے۔
کانفرنس کے دوران پاکستانی وفد میں شامل مختلف وزراء نے اپنے اپنے شعبوں میں سرمایہ کاری اور نجکاری کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی، ان وزراء میں وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ اور ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار شامل تھے۔
کانفرنس کے دوران متعدد کاروباری ملاقاتیں بھی ہوئیں، جن میں دونوں ممالک کی کمپنیوں نے باہمی تعاون، مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی۔ شرکاء نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اس فورم سے پاکستان اور ترکیے کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کا ایک نیا باب کھلے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان۔ترکیے بزنس کانفرنس نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو فروغ دے گی بلکہ خطے میں پائیدار اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری اور صنعتی اشتراک کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔




































