ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی: سیاحتی علاقوں میں ہنگامی صورتِ حال کے لیے کیا انتظامات کیے گئے ہیں؟

محکمہ موسمیات نے بالائی علاقوں میں مغربی ہواؤں کا سلسلہ داخل ہونے اور 2 جولائی 2026 سے بارشوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے، جس کے پیشِ نظر خیبر پختونخوا حکومت نے سیاحوں کو احتیاط کرنے اور انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قدرتی آفات: پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا نے جدید ڈرونز ریسکیو 1122 کے حوالے کردیے

پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا نے مون سون بارشوں کے پہلے اسپیل کے پیشِ نظر الرٹ بھی جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق 5 جولائی تک بارشوں کی پیشگوئی ہے، جس سے دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے الرٹ کے بعد مالاکنڈ ڈویژن میں حساس اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے دریاؤں کے کنارے جانے پر پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔

سیاحتی علاقوں میں کیا انتظامات کیے گئے ہیں؟

ترجمان خیبر پختونخوا ٹورازم اتھارٹی کے مطابق اس وقت صوبے کے بالائی علاقوں میں سیاحوں کا بہت زیادہ رش ہے، جس کی بڑی وجہ میدانی علاقوں میں درجۂ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جون کے آخری ہفتے میں 10 لاکھ سے زائد سیاح خیبر پختونخوا آئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بارشوں کے پیشِ نظر اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ٹورازم پولیس الرٹ ہے جبکہ ہیلپ لائن 24 گھنٹے فعال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیاحوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ موسم کو مدِنظر رکھ کر سفر کریں جبکہ رات کے وقت سفر سے گریز کریں۔

ٹورازم کے ایک اہلکار نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے اور محکمہ سیاحت نے اقدامات کی ہدایت کی ہے، لیکن سیاح ہدایات پر عمل نہیں کررہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں بارشوں نے تباہی مچا دی، 7 افراد جاں بحق، 33 زخمی

انہوں نے ناران واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ناران میں پابندی کے باوجود ایک سیاح نے گاڑی دریا میں اتار دی اور گاڑی بہہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت وہاں مقامی رافٹنگ کرنے والے موجود تھے جنہوں نے ریسکیو کر لیا۔ تاہم متعلقہ حکومتی ادارے کے اہلکار موجود نہیں تھے۔

کیا حکومتی اقدامات الرٹ تک محدود ہیں؟

پی ڈی ایم اے موسمی پیشگوئی کے بعد الرٹ جاری کرتا ہے لیکن اس پر عمل درآمد متعلقہ ضلعی انتظامیہ کا کام ہے، جبکہ پی ڈی ایم اے ضلعی انتظامیہ کو الرٹ کے علاوہ عمل درآمد کے لیے کچھ نہیں کر سکتا، جس کے باعث اکثر حکومتی اقدامات الرٹ جاری کرنے تک محدود رہتے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ان کے پاس الرٹ جاری کرنے کے علاوہ کوئی اور اختیار نہیں، جبکہ کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے۔ ’ناران میں جو واقعہ پیش آیا، وہ انتہائی غیر ذمہ داری ہے اور اس نے حکومتی انتظامات کا پول بھی کھول دیا۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر رافٹنگ کرنے والے موجود نہ ہوتے تو سوات میں جس طرح سیاح مدد کے انتظار میں موت کے منہ میں چلے گئے تھے، ناران میں بھی ایسا ہی ہوسکتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سیاحتی علاقوں میں انتظامات مؤثر ہونے چاہییں اور ان دنوں سیاحوں کو پانی کے قریب جانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ ’مسئلہ یہ ہے کہ یہ سیاحتی سیزن ہے اور سیاحوں کو روکنے سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے پاس بھی اتنے وسائل اور افرادی قوت نہیں ہے کہ ہر جگہ پہنچ سکے۔ ’بس انتظامات اور اقدامات کی بات کی جاتی ہے لیکن عملی طور پر اتنا کچھ نہیں ہوتا۔‘

خیبر پختونخوا کے کون سے علاقے حساس ہیں؟

پی ڈی ایم اے کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن اور ہزارہ ڈویژن میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ترجمان کے مطابق گزشتہ روز چترال میں بارشوں سے کئی علاقوں میں سیلاب آیا، جس کی وجہ سے رابطہ سڑکیں منقطع ہوگئیں، جبکہ ہزارہ ڈویژن کے مختلف علاقوں میں بھی بارش شروع ہوگئی ہے۔ حکام کے مطابق مون سون کے دوران معمولی بارشوں سے بھی سیلاب آ جاتے ہیں۔

حکام کے مطابق گزشتہ روز چترال میں کچھ دیر تیز بارش کے بعد مختلف مقامات پر سیلاب آنے سے سڑکیں بند ہوئیں، جس سے سیاحوں اور عام مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ٹورازم اتھارٹی کے مطابق اس وقت صوبے کے تمام سیاحتی مقامات کھلے ہیں اور سیاحوں کی بڑی تعداد اب بھی مختلف سیاحتی علاقوں میں موجود ہے۔ ان کے مطابق سوات، کمراٹ اور ہزارہ ڈویژن میں سیاحوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ترجمان کے مطابق ملک کے دیگر شہروں میں شدید گرمی کے باعث بالائی علاقوں میں رش بڑھ گیا ہے، جبکہ بارشوں کے اسپیل کے باعث پریشانی بھی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت ناران، کاغان، چترال اور کمراٹ سمیت تمام علاقوں کے راستے کھلے ہیں، لیکن بارشوں کے دوران یہ علاقے حساس ہوتے ہیں اور ان میں سیلابی صورتِ حال پیدا ہوسکتی ہے۔

کیا حکومتی ادارے بروقت سرگرم ہوتے ہیں؟

خیبر پختونخوا کے سیاحتی علاقے اپر اور لوئر چترال میں حالیہ بارشوں سے کئی گاؤں سیلاب سے متاثر ہوئے۔

ایک متاثرہ گاؤں کے رہائشی عدنان احمد نے بتایا کہ ابھی تک کوئی حکومتی ادارہ مدد کے لیے نہیں آیا۔ انہوں نے بتایا کہ دور افتادہ علاقوں میں رسائی بھی مشکل ہوتی ہے، جس کا بہانہ بنا کر متعلقہ ادارے اکثر متاثرہ علاقوں میں کئی روز بعد پہنچتے ہیں۔’ہم اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کی مدد کررہے ہیں۔ جن کے گھر متاثر ہوئے ہیں، وہ رشتہ داروں کے پاس رہ رہے ہیں، جبکہ حکومت کا کوئی نمائندہ نہیں آیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ اداروں کی کارکردگی صرف سوشل میڈیا تک محدود ہے، جبکہ عملی طور پر کوئی کام نہیں ہوتا۔

موسم کیسا رہے گا؟

محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں مغربی ہواؤں کی لہر داخل ہوگئی ہے، جس سے بیشتر علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے 5 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

تاجروں کا سانحہ گل پلازہ پر سوگ کا اعلان

سانحہ گل پلازہ پر کراچی تاجر اتحاد نے پیر کو یوم سوگ اور کراچی موبائل

Read More

TECHNOLOGY

واٹس ایپ بیٹا صارفین کے لیے نیا فیچر، چینل اپڈیٹس کی کارکردگی جانچنا آسان

واٹس ایپ نے اینڈرائیڈ بیٹا صارفین کے لیے ایک نیا اور اہم فیچر متعارف کرا

Read More

واک کرنے والوں اور سائیکل سواروں کو گوگل نے بڑی خوشخبری سنادی

گوگل نے اپنے جیمینی مصنوعی ذہانت (AI) اسسٹنٹ کی گوگل میپس میں رسائی بڑھاتے ہوئے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.