’اسلام آباد ایم او یو‘ کیا امن کا عارضی وقفہ ہے، آبنائے ہرمز کا معاملہ سب سے زیادہ اہمیت کیوں اختیار کر گیا ہے؟

18 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر الیکٹرانک دستخط کے بعد بہت سے عالمی مبصرین کی رائے تھی کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی انتہائی نازک ہے، دونوں طرف اعتماد کا شدید فقدان اور تنازعے کے اصل محرکات اب بھی موجود ہیں۔

یہ تجزیہ اس وقت درست ثابت ہوا جب 26 اور 27 جون کو امریکا نے مبینہ طور پر ایران کے میزائل اور ڈرون ٹھکانوں پر بمباری کی اور الزام لگایا کہ ایران نے ایک پانامہ کے پرچم والے جہاز پر ڈرون سے حملے کیے تھے، جبکہ ایران نے مال بردار بحری جہاز کو ایرانی بحری قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا۔

ایرانی نژاد امریکی مبصر ولی نصر کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مذاکرات کے لیے ایک فیصلہ کن لیوریج سمجھتا ہے وہ جنگ بندی کو خطرے میں ڈال کر کے بھی اس لیوریج کو نہیں چھوڑے گا۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت آج 29 جون کو ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے تفصیلات طے کرنے کے لیے عمان کے دارالحکومت مسقط میں اجلاس ہوا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ مسقط کے دورے کے دوران عمان کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عبدالعزیز الہنائی کے ساتھ آبنائے ہرمز مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں آبنائے ہرمز سے متعلق موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا، جبکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق 5 اور ساحلی ریاستوں کے خودمختار حقوق کے تناظر میں آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام و انصرام پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

لیکن عمان میں مذاکرات سے قبل امریکا نے ایران کی فوجی تنصیبات جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا گیا اور صورتحال ایک بار پھر کافی کشیدہ ہوگئی تھی۔

’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے بعد واشنگٹن میں قائم عرب سینٹر نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ’جنگ بندی دراصل بحران کے خاتمے کے بجائے ایک نئے سفارتی عمل کا آغاز ہے۔ یہ کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے، اگرچہ ان سب کے واضح جوابات ابھی سامنے نہیں آئے۔ ان سوالات میں جنگ کی قانونی حیثیت اور اس کے اثرات، ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل، اقتصادی پابندیوں میں ممکنہ نرمی، خلیجی خطے کی سلامتی اور لبنان اور حزب اللہ کا آئندہ کردار شامل ہیں۔ ساتھ ہی یہ امکان بھی برقرار ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت شاید اس تنازع کو مستقل طور پر ختم کرنے کے بجائے صرف وقتی طور پر روکنے کا ذریعہ ثابت ہو، کیونکہ اس تنازع کی بنیادی وجوہات اور محرکات اب بھی بڑی حد تک اپنی جگہ موجود ہیں۔‘

غیریقینی صورتحال

18 جون کو ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی معاہدے کو ایک بڑی کامیابی گردانا گیا لیکن اس کے بعد 26 اور 27 جون کو دونوں ممالک ایک بار پھر آمنے سامنے نظر آئے۔ چند گھنٹوں کے اندر صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، بحری انشورنس کے ریٹس میں غیر معمولی اضافہ اور خلیجی ریاستوں میں سیکیورٹی خدشات ایک بار پھر نمایاں ہوگئے، لیکن اسی کشیدہ ماحول میں ایک اہم سفارتی پیشرفت سامنے آئی جب دونوں ممالک نے قطرکے دارالحکومت دوحہ میں دوبارہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی۔

چند گھنٹوں میں دوبارہ مذاکرات پر اتفاق کیسے ہوگیا؟

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر اسلام آباد ایم او یو موجود تھا تو پھر تصادم کیوں ہوا؟ اور اگر جنگ چھڑنے کے آثار پیدا ہو چکے تھے تو چند ہی گھنٹوں بعد مذاکرات پر اتفاق کیسے ممکن ہوا؟

اسلام آباد ایم او یو دراصل کئی ہفتوں کی پس پردہ سفارت کاری کا نتیجہ تھا، جس میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ، اعتماد سازی کے اقدامات اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنے کا خاکہ پیش کیا گیا تھا۔

اس معاہدے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ دونوں ممالک براہ راست فوجی تصادم سے گریز کریں اور اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کریں، تاہم معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد خصوصاً آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی انتظامات اور بحری نگرانی کے طریقہ کار پر اختلافات سامنے آنا شروع ہوگئے۔

پس پردہ سفارتکاری ایک بار بھر متحرک

عسکری کارروائیوں کے بعد بظاہر یہ تاثر پیدا ہوا کہ اسلام آباد ایم او یو عملاً ناکام ہو چکا ہے، لیکن پس پردہ سفارت کاری کا سلسلہ جاری رہا۔ قطر، عمان اور دیگر علاقائی ممالک نے دونوں فریقوں سے مسلسل رابطے برقرار رکھے تاکہ کشیدگی کو مکمل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔

اسی سفارتی کوشش کے نتیجے میں امریکا اور ایران نے دوحہ میں دوبارہ مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد صرف جنگ بندی کو بحال کرنا نہیں بلکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حمل کے طریقہ کار، مستقبل میں فوجی تصادم کی روک تھام اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے اگلے مرحلے کا تعین بھی ہے۔

’اعتماد کا فقدان بدستور باقی ہے‘

اس وقت اگرچہ امریکا اور ایران دونوں مذاکرات کی میز پر واپس آ چکے ہیں، لیکن اعتماد کا بحران بدستور موجود ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر اسلام آباد ایم او یو کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں اور ہر فریق اپنے اقدامات کو دفاعی قرار دے رہا ہے۔ اس صورتحال میں دوحہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا دونوں ممالک آبنائے ہرمز کے حوالے سے قابل عمل اور قابل اعتماد سیکیورٹی فریم ورک پر اتفاق کر پاتے ہیں یا نہیں۔

’دوحہ میں مذاکرات اسلام آباد معاہدے کی کامیابی کے لیے ضروری ہیں‘

30 جون کو ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے تو اسلام آباد ایم او یو، جو بظاہر شدید دباؤ کا شکار دکھائی دیتا ہے، ایک بار پھر خطے میں امن کی بنیاد بن سکتا ہے، لیکن اگر دوحہ میں بھی اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا تو آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر عالمی طاقتوں کے درمیان خطرناک محاذ آرائی کا مرکز بن سکتا ہے، جس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سلامتی بھی اس سے شدید متاثر ہوگی۔

گارڈین اخبار نے لکھا ہے کہ ’اسلام آباد مفاہمتی معاہدے نے جہاں کشیدگی میں وقتی کمی کی امید پیدا کی، وہیں اسرائیل اور امریکی ریپبلکن پارٹی کے سخت گیر حلقوں میں شدید ناراضی بھی دیکھی گئی۔ بعض ناقدین نے اسے ایران کے حق میں رعایت قرار دیتے ہوئے یہ تک کہاکہ ٹرمپ نے ایران کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔‘

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

واٹس ایپ ویب پر بڑی مشکل آسان، نئے فیچرز متعارف

واٹس ایپ ویب ایک اہم اپ ڈیٹ کی تیاری کر رہا ہے، جس کے تحت

Read More

بیرون ملک سے پرانے اور استعمال شدہ برانڈڈ موبائل فونز کی درآمد پر نئی کسٹمز ویلیوز مقرر

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے بیرون ملک سے پرانے اور استعمال شدہ برانڈڈ

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.