خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان کی چیئرمین شپ کے مضبوط امیدوار کون ہیں؟

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اندرونی تنظیمی معاملات اور طاقت کی کشمکش ایک بار پھر موضوعِ بحث ہیں۔ پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور سینیئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفیٰ کمال کے مابین اختیارات کی تقسیم، تنظیمی فیصلوں اور پارٹی پر کنٹرول کے معاملے پر اختلافات سنگین رخ اختیار کر چکے ہیں، جس کے باعث تحریک کے اندر دھڑے بندی واضح نظر آ رہی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے ایک ذریعے کے مطابق پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے ایم کیو ایم میں انضمام کے بعد سے دونوں رہنماؤں کے درمیان سرد جنگ جاری تھی، تاہم حالیہ دنوں میں مصطفیٰ کمال کے ایک سخت بیان نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے پارٹی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ ایم کیو ایم کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اکیلے تمام فیصلے کر سکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔ ان کا یہ بیان براہِ راست خالد مقبول صدیقی اور ان کے قریبی حلقے کی جانب اشارہ سمجھا جا رہا ہے، جس کے بعد پارٹی میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حمید سومرو کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ جب سے پاک سرزمین پارٹی ایم کیو ایم پاکستان میں ضم ہوئی ہے، تب سے 2 گروپ آمنے سامنے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا ایم کیو ایم پر اثر و رسوخ بھی اختلافات کی ایک بڑی وجہ ہے۔

حمید سومرو کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ پارٹی کے اندر انتخابات کا ہے۔ ان کے مطابق جب الیکشن کمیشن نے جماعتی انتخابات کے حوالے سے جواب طلب کیا تو خالد مقبول صدیقی نے علاقائی کشیدگی اور جنگی صورتحال کو تاخیر کی وجہ قرار دیا، جبکہ مصطفیٰ کمال گروپ جلد انتخابات کا خواہاں ہے کیونکہ وہ خود کو نسبتاً مضبوط پوزیشن میں سمجھتا ہے۔

ان کے بقول یہ بھی ممکن ہے کہ خالد مقبول صدیقی کو اپنی چیئرمین شپ برقرار رکھنے کی فکر ہو، جبکہ مصطفیٰ کمال کو چیئرمین شپ حاصل ہونے کی امید ہو۔

حمید سومرو کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال دراصل چیئرمین شپ کی دوڑ ہے اور اس دوڑ میں کامران خان ٹیسوری کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق جس طرح وہ گورنر سندھ بنے تھے، اسی طرح یہ امکان بھی موجود ہے کہ وہ ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین بن جائیں۔

موجودہ کشیدہ صورتحال کے حوالے سے حمید سومرو کا کہنا ہے کہ اختلافات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر بحران بڑھتا ہے تو مقتدر حلقوں کی مداخلت بھی خارج از امکان نہیں، اور ایسی صورت میں کامران خان ٹیسوری کو چیئرمین شپ دی جا سکتی ہے، جسے دونوں دھڑے قبول کرلیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الوقت حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، البتہ سیاسی حلقوں میں ایسی چہ مگوئیاں ضرور موجود ہیں۔

رکنِ قومی اسمبلی اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما حسان صابر نے اس معاملے پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے وی نیوز کو بتایا کہ اختلافات کسی بھی سیاسی جماعت کا حصہ ہوتے ہیں اور یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض لوگ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ بجٹ اجلاس کے دوران خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی ملاقات نہیں ہوئی، حالانکہ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ کئی کئی گھنٹوں پر مشتمل اجلاسوں میں ہر شخص ہر وقت ہر کسی سے نہیں مل سکتا۔

حسان صابر کے مطابق دونوں رہنما ایک دوسرے سے اتنا ہی رابطہ رکھتے ہیں جتنا پہلے رکھتے تھے، اور ایم کیو ایم پاکستان متحد ہے اور متحد رہے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس وقت ایم کیو ایم پاکستان کے اندر 2 واضح کیمپ بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک بہادر آباد کیمپ ہے جو ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور روایتی تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ کھڑا ہے، جبکہ دوسرا سابق پی ایس پی کیمپ ہے جو مصطفیٰ کمال کی قیادت میں پارٹی کے اندر اپنی فیصلہ کن پوزیشن اور تنظیمی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار سمیت دیگر سینیئر رہنما فی الحال محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ وہ خود کو اس تنازع سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بحران بڑھنے کی صورت میں مصالحتی کردار ادا کر سکیں۔

مبصرین کے مطابق اگر اختلافات میں مزید شدت آتی ہے تو ایم کیو ایم پاکستان کو ایک نئے تنظیمی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم پارٹی قیادت اب بھی اس تاثر کو مسترد کر رہی ہے کہ جماعت کسی بڑے انتشار کی طرف بڑھ رہی ہے۔


وقاص خان

Share On Social Media

KARACHI

راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی مبینہ فائرنگ، قانون نافذ کرنے والے چار اہلکار شہید

آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم قرار دی

Read More

فکسڈ ٹیکس اسکیم میں شامل ہونے سے چھوٹے دکانداروں کو کیا فائدہ ہوگا؟

حکومت نے ملک بھر کے چھوٹے دکانداروں کے لیے ایک آسان ٹیکس نظام متعارف کرا

Read More

TECHNOLOGY

کیا انسان نما روبوٹس میدان جنگ میں اترنے والے ہیں؟

مصنوعی ذہانت یا اے آئی اور روبوٹکس کی تیز رفتار ترقی نے ایک ایسا سوال

Read More

واٹس ایپ نے کاروباری چیٹس کو خودکار بنانے کے لیے جدید ترین اے آئی اسسٹنٹ متعارف کرا دیا

دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنے کاروباری صارفین کے لیے ایک

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.