ہر نزلہ زکام یا بخار میں اینٹی بائیوٹک دوا کھانا صحت کے لیے خطرناک

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہر بخار، کھانسی یا نزلہ زکام میں خود سے اینٹی بائیوٹک گولیاں کھا لینا جسم کے اندرونی نظام، ہاضمے اور قوت مدافعت کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

اینٹی بائیوٹک ادویات نے طبی دنیا میں ایک بڑا انقلاب برپا کیا ہے اور ان کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کی جانیں بچائی جا چکی ہیں۔ یہ دوائیاں خطرناک بیماریوں کے علاج، بڑے آپریشنوں کو محفوظ بنانے اور کینسر جیسے علاج میں ڈاکٹروں کی بہت مدد کرتی ہیں۔ لیکن اگر ان کا استعمال ضرورت سے زیادہ یا بغیر وجہ کے کیا جائے تو یہ فائدے کے بجائے بڑا نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

ماہرین نے اس حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اینٹی بائیوٹک ادویات صرف اسی وقت کھانی چاہئیں جب کوئی مستند ڈاکٹر ان کا مشورہ دے۔

یہ دوائیاں صرف بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی بیماریوں کو ختم کرتی ہیں، جبکہ عام نزلہ، زکام، کھانسی یا فلو وائرس کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ وائرس سے ہونے والی بیماریوں پر یہ دوائیاں بالکل اثر نہیں کرتیں اور ایسی صورت میں انہیں کھانا جسم کو بلاوجہ خطرے میں ڈالنے کے برابر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم میں اربوں فائدہ مند بیکٹیریا ہوتے ہیں جنہیں مائیکرو بایوم کہا جاتا ہے۔ یہ اچھے جراثیم کھانا ہضم کرنے، ضروری وٹامن بنانے اور بیماریوں سے لڑنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔

جب ہم کوئی اینٹی بائیوٹک دوا کھاتے ہیں تو وہ بیماری پھیلانے والے نقصان دہ جراثیم کے ساتھ ساتھ ان اچھے اور مددگار جراثیم کو بھی مار دیتی ہے۔ اس سے پیٹ کا قدرتی نظام بگڑ جاتا ہے اور بار بار یہ دوائیاں کھانے سے انسان کے ہاضمے پر برے اثرات پڑتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو اینٹی بائیوٹک کھانے کے دوران یا بعد میں پیٹ درد، مروڑ، گیس، الٹی یا دست کی شکایت ہو جاتی ہے۔ جب پیٹ کے اچھے جراثیم ختم ہو جاتے ہیں تو برے جراثیموں کو پھلنے پھولنے کا موقع مل جاتا ہے، جو بعض اوقات سنگین بیماری کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بار بار ان ادویات کے استعمال سے انسان کی اندرونی طاقت یعنی بیماریوں سے لڑنے والا نظام کمزور ہو جاتا ہے، جس سے الرجی اور دمہ جیسی بیماریاں لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ نقصان بچوں کے لیے اور بھی زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ بچپن میں ان کے جسم کا دفاعی نظام اور پیٹ کے فائدہ مند بیکٹریا ابھی بن رہے ہوتے ہیں۔ اگر بچوں کو معمولی سی بیماری پر بھی اینٹی بائیوٹک دی جائے تو ان کی صحت کا قدرتی توازن بگڑ سکتا ہے جو بڑے ہو کر بھی انہیں پریشان کر سکتا ہے۔ اسی لیے ماہرین اطفال ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ بچوں کو یہ دوائیاں صرف اسی وقت دیں جب بہت زیادہ ضرورت ہو اور ڈاکٹر تجویز کرے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دوائیاں بہت قیمتی اور جان بچانے والی ہیں، اس لیے انہیں چھوڑنا نہیں ہے بلکہ سمجھداری سے استعمال کرنا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دوا صرف ڈاکٹر کے کہنے پر ہی خریدی جائے، ڈاکٹر نے جو کورس تجویز کیا ہے اسے پورا کیا جائے اور پرانی بچی ہوئی دوائیاں خود سے دوبارہ کبھی نہ کھائی جائیں۔ جب ہم ان کا صحیح استعمال کریں گے تو یہ دوائیاں اثر بھی کریں گی اور ہمارا جسم بھی محفوظ رہے گا۔

Share On Social Media

KARACHI

پاکستان اور کینیڈا کے معاشی تعلقات کا نیا باب، کراچی کے لیے بڑے منصوبے کا عندیہ

پاکستان اور کینیڈا نے اہم معدنیات، قابل تجدید توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ

Read More

ینگ مسلم فٹبال گراؤنڈ اورنگی ٹاؤن ویسٹ کے وفد کی ڈپٹی کمشنر ویسٹ سے اہم ملاقات

کراچی: یوتھ اسپورٹس اور کھیلوں کے فروغ کے سلسلے میں ینگ مسلم فٹبال گراؤنڈ اورنگی

Read More

TECHNOLOGY

جان کا خطرہ: کھُلنے کے ایک مہینے بعد دوائی کو پھینک دینا کیوں ضروری ہے؟

اکثر لوگ دوا کی بوتل یا پیکٹ پر لکھی ہوئی ایکسپائری ڈیٹ دیکھ کر مطمئن

Read More

گلوبل اے آئی گورننس کی جانب اہم پیش قدمی، پاکستان ’ وائیکو ‘ کا بانی رکن بن گیا

پاکستان نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.