بجٹ 27-2026: تنخواہوں میں اضافے سمیت سینیٹ نے کن اہم تجاویز کی منظوری دی؟

وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کیے جانے کے بعد آئینی تقاضوں کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹیوں نے بجٹ تجاویز کا تفصیلی جائزہ مکمل کر لیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کی سفارشات سینیٹ سے منظور ہونے کے بعد اب قومی اسمبلی میں پیش کی جائیں گی جہاں منظوری کی صورت میں یہ تجاویز وفاقی بجٹ کا باقاعدہ حصہ بن جائیں گی۔

پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق بجٹ پیش ہونے کے بعد سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیاں مختلف وزارتوں، سرکاری اداروں اور متعلقہ شعبوں سے مشاورت کرتی ہیں۔ ان اجلاسوں میں وزیر خزانہ، چیئرمین ایف بی آر، سینیٹرز اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوتے ہیں، جبکہ مختلف شعبوں کی آرا اور تجاویز کی روشنی میں سفارشات مرتب کی جاتی ہیں۔

اس سال کی سفارشات میں سب سے نمایاں تجویز سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق سامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت نے بجٹ میں تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی تھی تاہم قائمہ کمیٹیوں نے اس اضافے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے 15 فیصد اضافے کی سفارش کی۔ یہ سفارش سینیٹ سے منظور ہو چکی ہے، تاہم اسے حتمی شکل ملنے کے لیے قومی اسمبلی کی منظوری درکار ہوگی۔

سینیٹ کی منظور شدہ سفارشات میں بڑی گاڑیوں اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں (الیکٹرک وہیکلز) پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز بھی شامل ہے جس کے نتیجے میں ان گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سفارشات میں ایک غیر معمولی تجویز یہ بھی دی گئی ہے کہ پاکستان میں رہائش پذیر یا وزٹ پر آنے والے غیر ملکی شہریوں کو ذاتی استعمال کے لیے شراب ساتھ لانے کی اجازت دی جائے۔

زرعی شعبے کی بہتری کے لیے سفارش کی گئی ہے کہ کھاد، بیج، کیڑے مار ادویات، ڈیزل اور زرعی مشینری پر تمام ٹیکس اور ڈیوٹیز ختم کرکے انہیں صفر کر دیا جائے تاکہ کاشتکاروں کے اخراجات میں کمی آئے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

سینیٹ کی سفارشات میں سرکاری اسپتالوں، بنیادی مراکزِ صحت، اعلیٰ تعلیم کے فنڈز اور طلبہ کے لیے اسکالرشپس کے بجٹ میں اضافے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کے لیے ٹیکس نظام کو آسان بنانے اور ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

قائمہ کمیٹیوں نے ضروری اشیائے خورونوش اور تنخواہ دار طبقے پر مجوزہ ٹیکس اقدامات پر نظرثانی کی سفارش بھی کی ہے۔ اسی طرح گھریلو اور کم آمدن والے صارفین کے بجلی بلوں میں شامل اضافی چارجز اور ٹیکس واپس لینے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ عوام پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔

آئی ٹی سیکٹر کی ترقی کے لیے سفارش کی گئی ہے کہ آئی ٹی ایکسپورٹرز اور فری لانسرز کو حاصل ٹیکس استثنیٰ میں مزید 10 سال کی توسیع دی جائے تاکہ ملکی برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو مزید فروغ مل سکے۔

پراپرٹی سیکٹر کے حوالے سے سفارش کی گئی ہے کہ کم شرح والا پراپرٹی ٹیکس صرف پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں تک محدود رکھا جائے جبکہ دوسری مرتبہ گھر خریدنے والے افراد اور سرمایہ کاری کے لیے پلاٹس رکھنے والوں پر پراپرٹی ٹیکس برقرار رکھا جائے۔

سینیٹ میں سفارشات کی منظوری کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اس بجٹ کو عوام دوست نہیں سمجھتی اور اسے قبول نہیں کرتی۔

اب تمام نظریں قومی اسمبلی پر مرکوز ہیں جہاں وزیر خزانہ سینیٹ کی سفارشات ایوان کے سامنے پیش کریں گے۔ قومی اسمبلی کی منظوری کی صورت میں یہ تجاویز مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کا باقاعدہ حصہ بن جائیں گی۔

Share On Social Media

KARACHI

شدید گرمی، جسم کا درجہ حرارت 106 ڈگری تک جا سکتا ہے، این آئی ایچ نے ہیٹ اسٹروک سے بچنے کا علاج بتادیا

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث شدید گرمی

Read More

راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی مبینہ فائرنگ، قانون نافذ کرنے والے چار اہلکار شہید

آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم قرار دی

Read More

TECHNOLOGY

واٹس ایپ نے کاروباری چیٹس کو خودکار بنانے کے لیے جدید ترین اے آئی اسسٹنٹ متعارف کرا دیا

دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنے کاروباری صارفین کے لیے ایک

Read More

حکومت کا 10 لاکھ نوجوانوں کو مفت ’اے آئی‘ ٹریننگ دینے کا اعلان

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن (آئی ٹی ) شزا فاطمہ خواجہ نے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.