امریکا اور ایران کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کا متن منظر عام پر آگیا

امریکا اور ایران کے مابین برسوں پرانی دشمنی کو دوستی اور امن میں بدلنے کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والی ابتدائی ’مفاہمتی یادداشت ‘ کا مکمل متن باضابطہ طور پر جاری کر دیا ہے، جسے ’ریاست ہائے متحدہ امریکا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔

یہ دستاویز ایک ایسے وقت میں پبلک کی گئی ہے جب گزشتہ چند روز سے معاہدے کی تفصیلات خفیہ رکھنے پر عالمی سطح پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اس ’بڑے بریک تھرو‘ کا اعلان کیا تھا، تاہم بدھ کو فرانس میں جی7 سربراہی اجلاس کے اختتام پر انہوں نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اس کے اہم مندرجات سے پردہ اٹھایا۔

امریکی میڈیا کے مطابق اعلیٰ امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی بنیاد پر معاہدے کا متن اور مندرجات جاری کر دیے ہیں، امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق معاہدے کے لیک مندرجات سےمتعلق ایران کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

تمام محاذوں اور ’لبنان‘ میں فوری مستقل جنگ بندی کا فیصلہ

اعلیٰ امریکی حکام کی جانب سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی گئی بریفنگ کے مطابق اس معاہدے کا سب سے پہلا اور اہم ترین نکتہ تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی ہے۔

دستاویز کے تحت امریکا اور ایران ’تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کرتے ہیں، بشمول لبنان میں اور دونوں فریقین نے یہ عہد کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف کسی قسم کی نئی جنگ یا فوجی آپریشن شروع نہیں کریں گے۔ اس اقدام کا مقصد مڈل ایسٹ میں جاری دہائیوں پرانی جنگ کی آگ کو بجھانا ہے۔

حتمی معاہدے کے لیے ’60 دن’ کی ڈیڈ لائن اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ

مفاہمتی یادداشت کے مطابق اس ابتدائی فریم ورک پر جمعہ کے روز باقاعدہ دستخط متوقع ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کو ایک مکمل، جامع اور حتمی معاہدہ طے کرنے کے لیے 60 دن کا وقت ملے گا، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

دستخط کے ساتھ ہی امریکا خلیج فارس میں ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شروع کرے گا جو حتمی معاہدے کے 30 دن بعد ‘مکمل طور پر ختم’ کر دی جائے گی، جبکہ تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کیا جائے گا۔

جواباً ایران بھی خلیج فارس سے بحیرہ عمان تک 60 دن تک تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے اپنی بہترین کوششیں کرے گا اور اس دوران کوئی ‘راہداری فیس’ وصول نہیں کی جائے گی۔ حتمی معاہدے کے 30 دن بعد امریکی افواج ایران کے اطراف کے علاقوں سے واپس چلی جائیں گی۔

ایران کا ‘جوہری ہتھیار’ نہ بنانے کا عزم اور پابندیوں کا خاتمہ

معاہدے کے تحت ایران نے یہ بڑا اور اصولی وعدہ کیا ہے کہ وہ ’کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل یا ترقی نہیں کرے گا‘۔ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے اور اسے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں غیر مؤثر بنایا جائے۔

ادھر صدر ٹرمپ نے بھی پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایران امریکا کے ساتھ ‘قریبی تعاون’ کرے گا تاکہ افزودہ مواد فراہم کیا جا سکے۔ بدلے میں امریکا نے ایران پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا اصولی وعدہ کیا ہے، جس کا حتمی شیڈول آئندہ 60 دنوں کے مذاکرات میں طے ہوگا۔

300 ارب ڈالر کا ‘تاریخی تعمیرِ نو فنڈ’ اور ٹرمپ کا وضاحتی بیان

معاہدے کی سب سے حیران کن شق ایران کی اقتصادی بحالی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر پر مشتمل ایک بہت بڑے ‘تعمیرِ نو اور اقتصادی ترقی فنڈ’ کا قیام ہے۔

یہ فنڈ امریکا اپنے علاقائی شراکت داروں (بشمول خلیجی ممالک) کے ساتھ مل کر قائم کرے گا جس کا مقصد ایران کے بنیادی ڈھانچے کو دوبارہ کھڑا کرنا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ’امریکا براہِ راست اس فنڈ میں کوئی مالی حصہ نہیں ڈالے گا‘ بلکہ اس کے علاقائی امیر شراکت دار یہ رقم فراہم کریں گے۔

۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اگلی دو مائیوں میں یہ مذاکرات کامیاب رہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا رخ موڑ دے گا۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

ایپل فروری میں سری کا جدید ورژن متعارف کرائے گا

ایپل کی جانب سے فروری کے وسط میں سری کے نئے ورژن پیش متعارف کیے

Read More

48 ملین جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز لیک ہوگئے

سائبر سیکیورٹی کے ایک بڑے انکشاف میں تقریباً 48 ملین جی میل صارفین کے یوزرنیم

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.