اسلام آباد کی سفارتی کوششیں کامیاب، امریکا اور ایران نے پاکستان کی ثالثی میں ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے جس کے تحت 110 روز سے جاری تنازع کے خاتمے اور خطے میں امن کی نئی راہ ہموار ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
امریکا اور ایران نے پاکستان کی ثالثی سے تیار کردہ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 110 روز سے جاری کشیدگی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے سفارتی حل کے عزم کا مظہر ہے۔
وزیراعظم کے مطابق یادداشت پر امریکا اور ایران کے صدور نے دستخط کیے جبکہ بطور ثالث انہوں نے بھی اس کی توثیق کی۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے پہلے مرحلے کے طور پر ایران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولے گا جبکہ امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔
پاکستان اور شریک ثالث قطر 19 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں معاہدے کی باضابطہ تقریب کی میزبانی کریں گے، جہاں معاہدے کی یاد منائی جائے گی اور تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ انہوں نے مذاکرات میں پاکستان اور قطر سمیت ثالثوں کے کردار کو سراہا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اب مذاکرات کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور توجہ معاہدے پر عمل درآمد پر مرکوز ہوگی۔
یہ معاہدہ اس تنازع کے خاتمے کی علامت ہے جو 28 فروری کو شروع ہوا تھا اور جس کے دوران خلیجی خطے میں فوجی کشیدگی، آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ اور مختلف محاذوں پر جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔
بحران کے دوران پاکستان نے امریکا، ایران، خلیجی ممالک اور دیگر عالمی شراکت داروں کے درمیان رابطوں میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلام آباد نے براہِ راست مذاکرات کی میزبانی بھی کی اور قطر کے تعاون سے جنگ بندی کو مستقل سفارتی معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششیں کیں۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے معاہدے کے بعد کہا کہ “امن کامیاب ہو گیا ہے” اور وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔


































