مودی کو بڑا تجارتی دھچکا، جاپان نے بھارتی آموں کی درآمد معطل کردی

جاپان نے قریباً 20 برس بعد پہلی بار بھارت سے آموں کی درآمد معطل کر دی ہے۔ یہ فیصلہ بھارت میں آموں کی برآمد کے لیے منظور شدہ ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ (وی ایچ ٹی) مرکز کے معائنے کے دوران سامنے آنے والی تکنیکی اور حفظانِ صحت سے متعلق خامیوں کے بعد کیا گیا۔

اس پابندی سے بھارت کی متعدد معروف اور اعلیٰ معیار کی اقسام متاثر ہوں گی، جن میں الفانسو، کیسر، لنگڑا، بنگان پلی، چونسہ اور مالیکا شامل ہیں۔ یہ اقسام عموماً اپریل سے جون کے دوران جاپان کو برآمد کی جاتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جاپانی قرنطینہ حکام نے مارچ میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے رحمان پور میں واقع وی ایچ ٹی مرکز کا معائنہ کیا، جہاں دھونی کاری اور جراثیم کشی کے طریقۂ کار میں بعض خامیاں پائی گئیں۔ دوطرفہ برآمدی معاہدے کے تحت جاپان بھیجے جانے والے تمام آموں کے لیے وی ایچ ٹی عمل سے گزرنا لازمی ہے تاکہ پھل کیڑوں اور فروٹ فلائی کے لاروؤں سے پاک ہو۔

معائنے کے بعد جاپان کی یوکوہاما پلانٹ پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ 25 مارچ 2026 کے بعد جاری ہونے والے تصدیقی سرٹیفکیٹس کے حامل آموں کی کھیپ قبول نہیں کی جائے گی۔ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک جاپانی حکام مطمئن نہیں ہو جاتے کہ متعلقہ مرکز مطلوبہ عملی اور نباتاتی معیار پر پورا اترتا ہے۔

یہ فیصلہ بھارتی آم برآمد کنندگان کے لیے ایک نئے چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ریاست مہاراشٹر کے کونکن خطے میں شدید گرمی کی لہر نے اس سال الفانسو آم کی پیداوار اور معیار کو متاثر کیا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث بحری مال برداری کے اخراجات، ترسیل میں تاخیر اور کنٹینرز کی قلت بھی برآمد کنندگان کے لیے مشکلات بڑھا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق بھارت نے مالی سال 25-2024 کے دوران قریباً 30 ہزار ٹن آم عالمی منڈیوں کو برآمد کیے، جن سے لگ بھگ 5 کروڑ 65 لاکھ ڈالر آمدنی حاصل ہوئی۔ جاپان کو تازہ اور پراسیس شدہ آموں کی برآمدات کا حجم قریباً 15 لاکھ 40 ہزار ڈالر رہا، جس میں گجرات کے کیسر آم کا حصہ سب سے زیادہ تھا۔

اگرچہ جاپان برآمدی حجم کے لحاظ سے بھارت کی بڑی منڈیوں میں شامل نہیں، تاہم اسے اعلیٰ معیار اور سخت غذائی تحفظ کے ضوابط کی وجہ سے ایک نہایت اہم اور منافع بخش منڈی سمجھا جاتا ہے، جہاں خریدار معیاری پھل کی زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ جاپان نے 1986 میں بھی فروٹ فلائی کے خدشات کے باعث بھارتی آموں پر پابندی عائد کی تھی۔ طویل سائنسی جائزوں، نگرانی کے نظام اور وی ایچ ٹی سہولیات کی بہتری کے بعد 2006 میں بھارتی آموں کو دوبارہ جاپانی منڈی تک رسائی حاصل ہوئی تھی۔

موجودہ برآمدی انتظامات کے تحت بھارت کو الفانسو، کیسر، بنگان پلی، لنگڑا، چونسہ اور مالیکا سمیت 6 اقسام کے آم جاپان برآمد کرنے کی اجازت حاصل ہے۔ یہ آم آندھرا پردیش، مہاراشٹر، گجرات، اتر پردیش اور مغربی بنگال میں قائم منظور شدہ مراکز سے برآمد کیے جاتے ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

وفاقی وزرا کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے آزاد کشمیر کا معاملہ پیچیدہ ہورہا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے حالیہ بحران

Read More

کراچی پورٹ کا ایک اور اعزاز، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو ہزار الیکٹرک گاڑیاں پہنچ گئیں

کراچی پورٹ کو ایک اور اعزاز حاصل ہوگیا ہے جہاں گاڑیوں کی ترسیل کرنے والا

Read More

TECHNOLOGY

مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس اداروں کی سکیورٹی کا نظام تبدیل کررہے ہیں، ماہرین

مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس خاموشی سے کاروباری اداروں کے نظام میں سب سے زیادہ فعال

Read More

انسانی اشارے سمجھنے والا انوکھا فون تیار، استعمال کا طریقہ بھی بدل جائے گا

آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی دنیا میں ایک بڑا انقلاب دستک دے رہا ہے جہاں

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.