مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں ایک مسجد پر ہونے والے حملے کی تحقیقات میں بڑی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کیلی فورنیا میں مسجد پر حملے کے دونوں ملزمان کی شناخت 18 سالہ کلیب واسقیوز اور 17 سالہ کین کلارک کے ناموں سے ہوئی ہے۔

تفتیشی حکام نے بتایا کہ حملہ آوروں کی گاڑی سے اسلام مخالف تحریریں اور نازی علامتوں سے منسلک مواد برآمد ہوا ہے جس کے بعد واقعے کو نفرت انگیز جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔

https://googleads.g.doubleclick.net/pagead/ads?gdpr=0&us_privacy=1—&gpp_sid=-1&client=ca-pub-2620341023138785&output=html&h=280&num_ads=1&adk=3277488918&adf=2758244793&w=728&fwrn=4&fwrnh=100&lmt=1779252528&rafmt=1&armr=3&sem=mc&pwprc=4626286274&ad_type=text_image&format=728×280&url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2813826%2Fus-california-san-diego-mosque-attack-killed-3-nazi-islamophobia-2813826&fwr=0&pra=3&rh=182&rw=728&rpe=1&resp_fmts=3&asro=0&aiactd=0&aicctd=0&ailctd=0&aimartd=4&aieuf=1&aicrs=1&fa=27&uach=WyJXaW5kb3dzIiwiMTAuMC4wIiwieDg2IiwiIiwiMTQ4LjAuMzk2Ny43MCIsbnVsbCwwLG51bGwsIjY0IixbWyJDaHJvbWl1bSIsIjE0OC4wLjc3NzguMTY4Il0sWyJNaWNyb3NvZnQgRWRnZSIsIjE0OC4wLjM5NjcuNzAiXSxbIk5vdC9BKUJyYW5kIiwiOTkuMC4wLjAiXV0sMF0.&abgtt=6&dt=1779252529270&bpp=1&bdt=1147&idt=1&shv=r20260519&mjsv=m202605140101&ptt=9&saldr=aa&abxe=1&cookie=ID%3D99099eb9290c57b8%3AT%3D1779251914%3ART%3D1779252265%3AS%3DALNI_MY4qaE7FkhWSuNT3LDh1Zz46bhHmA&gpic=UID%3D000013f25e66981d%3AT%3D1779251914%3ART%3D1779252265%3AS%3DALNI_MYDKv0LaA89366W63jUFuBmCZKBRQ&eo_id_str=ID%3Daf9dbe3230722e05%3AT%3D1779251914%3ART%3D1779252265%3AS%3DAA-AfjZ5Yk2naqZY4FVOP2hwsWBn&prev_fmts=0x0%2C728x280%2C728x280&nras=4&correlator=7083411676595&frm=20&pv=1&u_tz=300&u_his=1&u_h=1024&u_w=1280&u_ah=984&u_aw=1280&u_cd=32&u_sd=1&dmc=8&adx=504&ady=1828&biw=1257&bih=900&scr_x=0&scr_y=0&eid=95390788%2C95390680%2C95386194&oid=2&pvsid=1803435954518120&tmod=2005258710&uas=0&nvt=1&ref=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2F&fc=1408&brdim=0%2C0%2C0%2C0%2C1280%2C0%2C1280%2C984%2C1272%2C900&vis=1&rsz=%7C%7Cs%7C&abl=NS&fu=1152&bc=31&bz=1.01&ifi=8&uci=a!8&btvi=3&fsb=1&dtd=553

https://googleads.g.doubleclick.net/pagead/ads?gdpr=0&us_privacy=1—&gpp_sid=-1&client=ca-pub-2620341023138785&output=html&h=280&num_ads=1&adk=3277488918&adf=2758244793&w=728&fwrn=4&fwrnh=100&lmt=1779252528&rafmt=1&armr=3&sem=mc&pwprc=4626286274&ad_type=text_image&format=728×280&url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2813826%2Fus-california-san-diego-mosque-attack-killed-3-nazi-islamophobia-2813826&fwr=0&pra=3&rh=182&rw=728&rpe=1&resp_fmts=3&asro=0&aiactd=0&aicctd=0&ailctd=0&aimartd=4&aieuf=1&aicrs=1&fa=27&uach=WyJXaW5kb3dzIiwiMTAuMC4wIiwieDg2IiwiIiwiMTQ4LjAuMzk2Ny43MCIsbnVsbCwwLG51bGwsIjY0IixbWyJDaHJvbWl1bSIsIjE0OC4wLjc3NzguMTY4Il0sWyJNaWNyb3NvZnQgRWRnZSIsIjE0OC4wLjM5NjcuNzAiXSxbIk5vdC9BKUJyYW5kIiwiOTkuMC4wLjAiXV0sMF0.&abgtt=6&dt=1779252529270&bpp=3&bdt=1147&idt=-M&shv=r20260519&mjsv=m202605140101&ptt=9&saldr=aa&abxe=1&cookie=ID%3D99099eb9290c57b8%3AT%3D1779251914%3ART%3D1779252265%3AS%3DALNI_MY4qaE7FkhWSuNT3LDh1Zz46bhHmA&gpic=UID%3D000013f25e66981d%3AT%3D1779251914%3ART%3D1779252265%3AS%3DALNI_MYDKv0LaA89366W63jUFuBmCZKBRQ&eo_id_str=ID%3Daf9dbe3230722e05%3AT%3D1779251914%3ART%3D1779252265%3AS%3DAA-AfjZ5Yk2naqZY4FVOP2hwsWBn&prev_fmts=0x0%2C728x280&nras=3&correlator=7083411676595&frm=20&pv=1&u_tz=300&u_his=1&u_h=1024&u_w=1280&u_ah=984&u_aw=1280&u_cd=32&u_sd=1&dmc=8&adx=504&ady=2108&biw=1257&bih=900&scr_x=0&scr_y=0&eid=95390788%2C95390680%2C95386194&oid=2&pvsid=1803435954518120&tmod=2005258710&uas=0&nvt=1&ref=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2F&fc=1408&brdim=0%2C0%2C0%2C0%2C1280%2C0%2C1280%2C984%2C1272%2C900&vis=1&rsz=%7C%7Cs%7C&abl=NS&fu=1152&bc=31&bz=1.01&ifi=7&uci=a!7&btvi=2&fsb=1&dtd=551

اس واقعے کی تصاویر میں ایک گیس کین بھی دیکھی گئی جس پر نازی جرمن فورس “SS” کا نشان بنا ہوا تھا۔

یہ علامت دوسری جنگ عظیم کے دوران ایڈولف ہٹلر کی نازی فورسز سے منسلک سمجھی جاتی ہے اور سفید فام انتہا پسند گروہ آج بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حملے سے تقریباً دو گھنٹے پہلے ایک حملہ آور کی والدہ نے پولیس کو اپنے بیٹے کے بارے میں تشویشناک معلومات فراہم کردی تھیں۔

سان ڈیاگو پولیس چیف نے بتایا کہ خاتون نے صبح تقریباً 9:42 بجے پولیس کو فون کرکے بتایا کہ ان کا بیٹا گھر سے لاپتا ہے اور وہ ذہنی طور پر غیر مستحکم اور ممکنہ طور پر خودکشی کے رجحان کا شکار ہے۔

حملہ آور کی والدہ نے یہ بھی بتایا کہ گھر سے کئی ہتھیار اور ان کی گاڑی بھی غائب ہیں اور ان کا بیٹا ایک اور نوجوان کے ساتھ فوجی طرز کے کیموفلاج لباس میں موجود ہے۔

والدہ کو گھر سے ایک نوٹ بھی ملا تھا جس کے بارے میں حکام نے کہا کہ اس میں نفرت انگیز مواد موجود تھا تاہم مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

پولیس نے والدہ کی جانب سے یہ معلومات ملنے پر فوری طور پر گاڑی کی تلاش شروع کردی تھی جس کے لیے لائسنس پلیٹ ریڈرز، اسکول الرٹس اور دیگر ٹیکنالوجی استعمال کی۔

اس دوران دونوں نوجوان اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو پہنچے لیکن سیکیورٹی گارڈ نے روکنے کی کوشش پر ملزمان نے فائرنگ کردی تھی جس میں 3 افراد شہید ہوگئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوان مسجد کے باہر فائرنگ کے بعد اپنی گاڑی میں مردہ پائے گئے تھے اور ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے خود کو گولیاں مار کر خودکشی کی تھی۔

خیال رہے کہ یہ حملہ جس اسلامک سینٹر میں کیا گیا وہ سان ڈیاگو کاؤنٹی کی سب سے بڑی مسجد ہے اور اس کمپلیکس میں برائٹ ہورائزن اکیڈمی بھی قائم ہے۔

جس میں حملے کے وقت 200 سے زائد بچے، اساتذہ اور عملہ بھی موجود تھا۔ سیکیورٹی گارڈ کی بروقت اطلاع کے باعث اسکول کے تمام بچوں کو بحفاظت نکال لیا گیا اور کوئی طالب علم زخمی نہیں ہوا۔

سان ڈیاگو شاخ اور مسجد انتظامیہ کی جانب سے امین عبداللہ کے اہل خانہ کے لیے شروع کی گئی فنڈ ریزنگ مہم میں اب تک 17 لاکھ ڈالر سے زیادہ جمع ہوچکے ہیں۔

کمیونٹی کے افراد امین عبداللہ کو ہیرو قرار دے رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ان کے لیے خراجِ عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

کامران ٹیسوری کی بطور گورنر بحالی اور ملاقات کیلیے خطرناک اسٹنٹ کرنے والے شخص پر پرچہ کٹ گیا

سابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی بحالی اور ملاقات کیلیے خطرناک انداز سے احتجاج

Read More

پی ٹی آئی کا پٹرول قیمت، مہنگائی کیخلاف احتجاج،کئی کارکن گرفتار

پولیس کی شیلنگ، کارکنان کا پتھراؤ، پریس کلب جانیوالے راستے کنٹینرز لگا کر سیل پولیس

Read More

TECHNOLOGY

اے آئی چیٹ بوٹ کلاڈ صارفین کے پاسپورٹ مانگنے لگا، وجہ کیا ہے؟

اے آئی کمپنی اینتھروپک نے کچھ صارفین سے اپنے چیٹ بوٹ ’کلاڈ‘ کے مخصوص فیچرز

Read More

اے آئی ٹیکنالوجی والے کھلونے بچوں کے لیے کتنے محفوظ ہیں؟ نئی تحقیق

روبوٹ، اسمارٹ گڑیا اور انٹرنیٹ سے جڑے تعلیمی کھلونے، بچوں میں مقبول ہو رہے ہیں۔

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.