ڈیجیٹل تھکاوٹ کیا ہے؟ اسکرین کا بڑھتا استعمال نوجوانوں کےلیے ذہنی بحران

جدید دور میں ٹیکنالوجی، اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز اور سوشل میڈیا نے زندگی کو جہاں سہل بنایا ہے، وہیں مسلسل اسکرین کے استعمال نے ایک نئے ذہنی و جسمانی مسئلے کو بھی جنم دیا ہے، جسے ماہرین ’’ڈیجیٹل تھکاوٹ‘‘ یا ’’ڈیجیٹل فٹیگ‘‘ قرار دیتے ہیں۔

خاص طور پر نوجوان نسل، جو تعلیم، ملازمت، تفریح اور سماجی رابطوں کے لیے طویل وقت تک موبائل یا کمپیوٹر اسکرینوں سے جڑی رہتی ہے، اس مسئلے سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق مسلسل اسکرین پر نظریں جمائے رکھنے سے نہ صرف آنکھوں پر دباؤ بڑھتا ہے بلکہ ذہنی تھکن، توجہ کی کمی، چڑچڑاپن، نیند کی خرابی اور جذباتی دباؤ بھی پیدا ہوتا ہے۔ آنکھوں میں خشکی، جلن، سر درد، گردن اور کندھوں میں درد، دھندلی بینائی اور جسمانی تھکن ڈیجیٹل فٹیگ کی عام علامات میں شامل ہیں۔

ماہر نفسیات کے مطابق مسئلہ صرف جسمانی تھکن تک محدود نہیں رہتا بلکہ اگر اسے مسلسل نظر انداز کیا جائے تو یہ بے چینی، اضطراب، ڈپریشن اور دیگر ذہنی امراض کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

ماہر کے مطابق لوگ اکثر ان علامات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ مسلسل ذہنی دباؤ انسان کی مجموعی صحت اور کارکردگی کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بیک وقت کئی موضوعات، ویڈیوز یا معلومات دیکھنے سے دماغ مسلسل اوور لوڈ رہتا ہے، جس سے ذہنی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسکرین کے استعمال کے دوران ایک وقت میں ایک ہی کام پر توجہ دی جائے اور غیر ضروری مواد دیکھنے سے گریز کیا جائے۔

ڈاکٹرز مشورہ دیتے ہیں کہ روزمرہ معمول میں ڈیجیٹل سرگرمیوں کے لیے مخصوص وقت مقرر کیا جائے، اسکرین سے وقفے لیے جائیں، ورزش، واک، کتاب بینی یا اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارنے جیسی سرگرمیوں کو شامل کیا جائے۔

ماہرین “20-20-20” اصول بھی تجویز کرتے ہیں، یعنی ہر 20 منٹ بعد 20 سیکنڈ کے لیے 20 فٹ دور کسی چیز کو دیکھیں تاکہ آنکھوں کو آرام مل سکے۔

نیند سے قبل موبائل فون یا لیپ ٹاپ کا استعمال کم کرنا بھی اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسکرین سے خارج ہونے والی نیلی روشنی دماغ کے نیند کے نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کسی فرد کو مسلسل تھکن، توجہ میں کمی، منفی خیالات، بات چیت میں دشواری یا جذباتی بے سکونی محسوس ہو تو فوری طور پر ماہرِ نفسیات یا متعلقہ معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔

ڈیجیٹل دنیا سے مکمل دوری ممکن نہیں، لیکن متوازن استعمال، ذہنی صحت کا خیال اور مناسب وقفے اختیار کر کے ڈیجیٹل تھکاوٹ کے اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ جدید سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ذہنی سکون برقرار رکھنا ہی آج کے دور کی اصل ضرورت ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

میٹرک امتحانات کے تیسرے روز بھی بد نظمی ، فرنیچر کی عدم دستیابی ، بجلی کی بندش برقرار

میٹرک بورڈ کے سالانہ امتحانات کا تیسرا روز بھی بدنظمی کا شکار رہا بعض امتحانی

Read More

آئین سے کھلو اڑ اور مرضی کی ترامیم سے ملک نہیں چل سکتا:حافظ نعیم

 امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ہمارا نظامِ انصاف ایک تعفن

Read More

TECHNOLOGY

پی ٹی اے نے جعلی کالز و ایس ایم ایس کے حوالے سے شہریوں کو خبردار کردیا

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں بڑھتے ہوئے سائبر فراڈ

Read More

پی ٹی اے ٹیکس میں بڑی کمی کا امکان، موبائل فون کتنے سستے ہوں گے؟

پاکستان میں موبائل فونز پر عائد ’پی ٹی اے ٹیکس‘ جو بنیادی طور پر فیڈرل

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.