انسانی دماغ کا ‘ری سیٹ بٹن’ دریافت؛ کیا اب ڈپریشن اور ذہنی تھکن ماضی کا قصہ بن جائے گی؟

طبی ماہرین اور نیورو سائنٹسٹس نے انسانی دماغ کے اندر ایک ایسا حصہ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو کسی ‘ری سیٹ بٹن’ کی طرح کام کر سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق، دماغ کے ایک مخصوص حصے Nucleus Accumbens (نیوکلیئس اکمبنز) کو ایک خاص فریکوئنسی کے ذریعے متحرک کر کے شدید ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور برن آؤٹ کی علامات کو فوری طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔

سائنس کیا کہتی ہے؟

برطانوی اور سوئس ماہرین کی ایک مشترکہ ٹیم نے پایا کہ جب انسان مسلسل تناؤ کا شکار رہتا ہے، تو اس کے دماغ کے جذباتی سرکٹس ‘منجمد’ (Stuck) ہو جاتے ہیں۔

اس نئی ٹیکنالوجی، جسے Deep Brain Stimulation (DBS) کا ایک جدید ورژن کہا جا رہا ہے، کے ذریعے دماغ کے اس حصے میں ہلکی سی برقی لہر بھیجی جاتی ہے۔ یہ لہر دماغ کے ‘کیمیکل بیلنس’ کو دوبارہ ترتیب دیتی ہے، جس سے مریض کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس کا ذہن بالکل تازہ اور بوجھ سے آزاد ہو گیا ہے۔

کیا یہ سب کے لیے ہے؟

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ ‘ری سیٹ بٹن’ فی الحال ان مریضوں کے لیے آزمایا جا رہا ہے جن پر عام ادویات اثر نہیں کرتیں۔ یہ کوئی جادوئی عمل نہیں بلکہ ایک پیچیدہ طبی عمل ہے، لیکن ابتدائی نتائج بتاتے ہیں کہ مستقبل میں ذہنی امراض کا علاج اب برسوں کے بجائے چند سیکنڈز کی برقی لہر سے ممکن ہوگا۔

Share On Social Media

KARACHI

پاکستان اور کینیڈا کے معاشی تعلقات کا نیا باب، کراچی کے لیے بڑے منصوبے کا عندیہ

پاکستان اور کینیڈا نے اہم معدنیات، قابل تجدید توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ

Read More

ینگ مسلم فٹبال گراؤنڈ اورنگی ٹاؤن ویسٹ کے وفد کی ڈپٹی کمشنر ویسٹ سے اہم ملاقات

کراچی: یوتھ اسپورٹس اور کھیلوں کے فروغ کے سلسلے میں ینگ مسلم فٹبال گراؤنڈ اورنگی

Read More

TECHNOLOGY

مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس اداروں کی سکیورٹی کا نظام تبدیل کررہے ہیں، ماہرین

مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس خاموشی سے کاروباری اداروں کے نظام میں سب سے زیادہ فعال

Read More

انسانی اشارے سمجھنے والا انوکھا فون تیار، استعمال کا طریقہ بھی بدل جائے گا

آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی دنیا میں ایک بڑا انقلاب دستک دے رہا ہے جہاں

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.