پینٹاگون نے 80 برس پرانے راز افشا کردیے، اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ فائلیں بالاخر جاری

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے جمعہ کو یو ایف اوز (نامعلوم اڑنے والی اشیا) المعروف اڑن طشتری سے متعلق پہلے سے خفیہ رکھی گئی دستاویزات کا پہلا مجموعہ جاری کر دیا جن میں بعض رپورٹس سنہ 1940 کی دہائی تک پرانی ہیں۔

امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ۔

امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے بیان میں کہا ہے کہ یہ فائلیں برسوں سے خفیہ درجہ بندی میں چھپی رہیں جس کی وجہ سے عوام میں مختلف قیاس آرائیاں جنم لیتی رہیں تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی عوام خود یہ معلومات دیکھ سکیں۔

امریکی محکمہ جنگ کی ویب سائٹ پر 160 سے زائد فائلیں جاری کی گئی ہیں۔ پینٹاگون یو ایف اوز کو باضابطہ طور پر ’نامعلوم غیر معمولی مظاہر‘ (یو اے پیز) قرار دیتا ہے۔

جاری کی گئی ایک فائل جو دسمبر 1947 کی ہے میں ’اڑنے والی ڈِسکس‘ سے متعلق رپورٹس شامل ہیں جبکہ سنہ 1948 کی ایک انتہائی خفیہ فضائیہ انٹیلی جنس رپورٹ میں ’نامعلوم طیاروں‘ اور ’فلائنگ ساسرز‘ کو دیکھے جانے کے دعوؤں کا ذکر موجود ہے۔

ایک اور فائل میں سنہ 2023 کے ایک واقعے کی تفصیل دی گئی ہے جس میں وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 3 مختلف اہلکاروں نے آسمان پر نارنجی رنگ کے گول دائروں کو دیکھنے کا دعویٰ کیا جن سے چھوٹے سرخ رنگ کے گولے نکلتے دکھائی دیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں وفاقی اداروں کو ہدایت دی تھی کہ یو ایف اوز اور خلائی مخلوق سے متعلق سرکاری فائلوں کی شناخت کرکے انہیں عوام کے لیے جاری کیا جائے

ان کا کہنا تھا کہ عوام کی غیر معمولی دلچسپی کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔

ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ سابق صدر براک اوباما نے ایک پوڈکاسٹ میں ماورائے زمین زندگی سے متعلق ’خفیہ معلومات‘ کا ذکر کیا تھا۔ اوباما نے اس گفتگو میں کہا تھا کہ وہ حقیقی ہیں لیکن میں نے انہیں نہیں دیکھا اور انہیں ایریا 51 میں نہیں رکھا گیا۔

تاہم اب تک زمین سے باہر ذہین مخلوق کے وجود کا کوئی سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

حالیہ برسوں میں یو ایف اوز میں دلچسپی اس وقت دوبارہ بڑھی جب امریکی حکومت نے کئی پراسرار فضائی مشاہدات کی تحقیقات شروع کیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شاید حریف ممالک جدید خفیہ ٹیکنالوجی آزما رہے ہوں۔

مارچ 2024 میں پینٹاگون نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ یو اے پیز کے خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا جبکہ کئی مشتبہ واقعات بعد میں موسمی غباروں، جاسوس طیاروں، سیٹلائٹس یا دیگر معمول کی سرگرمیوں پر مشتمل نکلے۔

نتیجہ کیا نکلا؟

تاہم جاری کیے گئے دستاویزات میں اب تک ایسی کوئی ٹھوس یا حتمی شہادت سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ یو ایف اوز دراصل خلائی مخلوق کی گاڑیاں یا زمین سے باہر ذہین حیات کا ثبوت ہیں۔ بیشتر رپورٹس میں صرف نامعلوم یا غیر واضح فضائی مظاہر کا ذکر کیا گیا ہے جن کی مکمل وضاحت نہیں ہو سکی۔

پینٹاگون نے اس سے قبل بھی اپنی تحقیقات میں کہا تھا کہ کئی مشتبہ واقعات بعد میں موسمی غباروں، جاسوس طیاروں، سیٹلائٹس یا دیگر عام فضائی سرگرمیوں سے متعلق نکلے۔ حکام کے مطابق اب تک ایسا کوئی ناقابل تردید ثبوت نہیں ملا جو ماورائے زمین مخلوق کے وجود کی تصدیق کرے۔

اگرچہ نئی فائلوں کے اجرا نے یو ایف اوز سے متعلق دلچسپی اور بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے تاہم امریکی حکومت کا مؤقف اب بھی یہی ہے کہ ان واقعات میں سے بیشتر کی زمینی یا تکنیکی وضاحت موجود ہو سکتی ہے جبکہ بعض کیسز اب بھی تحقیقات کے مراحل میں ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

یونیورسٹی روڈ سے متاثرہ شہریوں سے وزیراعلیٰ کی معذرت کام تیز کرنے کی ضمانت

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یونیورسٹی روڈ کے تعمیری کام میں تاخیر کی

Read More

کراچی بندرگاہ ٹرمینلز پر سٹوریج چارجز میں 25 تا 50 فیصد کمی

 کراچی بندرگاہ ٹرمینلز پر سٹوریج چارجز میں 25 سے 50 فیصد تک کمی کا اعلان

Read More

TECHNOLOGY

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.