دنیا کے سب سے خطرناک اے آئی ماڈل تک انجان شخص کی غیر قانونی رسائی، خطرے کی گھنٹیاں بج گئیں

مصنوعی ذہانت اے آئی کی دنیا سے ایک بڑی اور تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ مائیکروسافٹ اور گوگل کے نقشِ قدم پر چلنے والی مشہور کمپنی ’اینتھروپک‘ کی ایک رپورٹ مطابق کمپنی کے سب سے طاقتور اور خفیہ ماڈل ’کلاڈ میتھوس‘ تک چند غیر متعلقہ افراد نے رسائی حاصل کر لی ہے، جس کے بعد کمپنی میں کھلبلی مچ گئی ہے۔

اینتھروپک کے مطابق ’میتھوس‘ اتنا طاقتور اے آئی ماڈل ہے کہ اگر یہ غلط ہاتھوں میں لگ جائے تو اسے دنیا کے کسی بھی بڑے آپریٹنگ سسٹم یا ویب براؤزر کو ہیک کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کمپنی نے اسے عام عوام کے لیے جاری نہیں کیا تھا، بلکہ صرف چند مخصوص سافٹ ویئر کمپنیوں کو ’پروجیکٹ گلاس ونگ‘ کے تحت ٹیسٹنگ کے لیے دیا تھا۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، ہیکرز یا غیر متعلقہ صارفین کے ایک چھوٹے سے گروپ نے کسی براہ راست حملے کے بجائے ’تھرڈ پارٹی‘ وینڈر کے سسٹم کے ذریعے اس ماڈل تک رسائی حاصل کی۔

بتایا گیا ہے کہ اس گروپ نے ایک تھرڈ پارٹی کنٹریکٹر کے اکاؤنٹ سے متعلق معلومات استعمال کر کے سسٹم میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ انہوں نے ماڈل کے آن لائن ایڈریس کا اندازہ لگانے کے لیے کمپنی کے پرانے فارمیٹس کو بنیاد بنایا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ یہ گروپ ڈسکارڈ کے ایک پرائیویٹ چینل پر متحرک ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اس ماڈل کو اس کے اعلان کے پہلے دن سے ہی استعمال کر رہے ہیں۔

اینتھروپک کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ وہ ’کلاڈ میتھوس پریویو‘ تک غیر مجاز رسائی کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ تاہم، کمپنی کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ اس گروپ نے اینتھروپک کے اپنے اندرونی سسٹمز تک رسائی حاصل کی ہو؛ یہ رسائی صرف تھرڈ پارٹی وینڈر کے ماحول تک محدود تھی۔

جب اینتھروپک نے پہلی بار اس جدید ٹول کی رونمائی کی تھی، تو اس کی حیرت انگیز صلاحیتوں کے بارے میں واضح طور پر بتایا گیا تھا۔

کمپنی کا دعویٰ تھا کہ اگر صارف اسے ہدایت دے، تو یہ ماڈل دنیا کے ہر بڑے آپریٹنگ سسٹم اور انٹرنیٹ براؤزر میں موجود تکنیکی خرابیوں اور سیکیورٹی کی کمزوریوں کو نہ صرف پہچان سکتا ہے بلکہ ان کا فائدہ اٹھا کر انہیں ہیک بھی کر سکتا ہے۔

یہی وہ خطرناک پہلو ہے جس نے سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

اس ماڈل تک رسائی حاصل کرنے والے افراد کا تعلق ’ڈسکارڈ‘ پر موجود ایک ایسے نجی گروپ سے ہے جو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ابھی تک لانچ نہ ہونے والے ماڈلز کی جاسوسی کرنے اور ان کی معلومات نکالنے میں مہارت رکھتا ہے۔

’بلومبرگ‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، یہ گروپ ایک طویل عرصے سے ’میتھوس‘ کو باقاعدگی سے استعمال کر رہا ہے۔

ااگرچہ یہ ماڈل کسی بھی سسٹم کو نشانہ بنانے کی بھرپور طاقت رکھتا ہے، لیکن اب تک کی معلومات کے مطابق اس گروپ نے اسے کسی بھی قسم کے سائبر حملے یا سیکیورٹی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے محض تجرباتی مقاصد اور نئے فیچرز کو سمجھنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ تاہم، یہ بات اب بھی سیکیورٹی ایجنسیوں کے لیے تشویش کا باعث ہے کہ اتنا حساس ٹول کسی غیر متعلقہ گروپ کے پاس کیسے موجود رہا۔

اس واقعے نے مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کے حفاظتی انتظامات پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ صورتحال اس چیلنج کو اجاگر کرتی ہے کہ کس طرح انتہائی طاقتور اور ممکنہ طور پر خطرناک ٹیکنالوجی کو منظور شدہ شراکت داروں کے دائرے سے باہر نکلنے سے روکا جائے۔

ماہرین اب اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ کیا اس گروپ کے علاوہ بھی کوئی اور خاموشی سے ان ماڈلز کو استعمال کر رہا ہے؟ اور اگر ایسا ہے، تو ان کا اصل مقصد کیا ہو سکتا ہے؟ یہ واقعہ اے آئی سیکیورٹی کے مستقبل کے حوالے سے ایک سنجیدہ موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

ملازمت پیشہ افراد اور طلبہ کے لیے خوشخبری؛ اگست میں چھٹیاں ہی چھٹیاں

پاکستان میں سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین اور طلبہ کے لیے اگست کا مہینہ

Read More

مطالعے کے بدلتے انداز: مصنوعی ذہانت نے اب کتابوں سے گفتگو بھی ممکن بنادی

مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی نئی ٹیکنالوجی کتابیں پڑھنے کے انداز میں بڑی

Read More

TECHNOLOGY

اوپن اے آئی کے بے قابو اے آئی ایجنٹ نے دوسری ٹیک کمپنی کے اکاؤنٹ تک بھی رسائی حاصل کرلی

اوپن اے آئی کے آزمائشی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایجنٹ، جو پہلے ہی اے آئی

Read More

اوپن اے آئی کے تجرباتی ماڈلز خو ہی ہیکر بن گئے، حقیقت کیا ہے؟

مصنوعی ذہانت  یا اے آئی کی دنیا میں اس ہفتے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.