روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے 2025 خطرناک ترین سال، یو این ایچ سی آر

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے بتایا ہے کہ 2025 جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں سمندری راستوں سے ہجرت کے حوالے سے اب تک کا سب سے زیادہ ہلاکت خیز سال تھا جب تقریباً 900 روہنگیا مہاجرین بحیرۂ انڈمان اور خلیج بنگال میں لاپتہ یا ہلاک ہو گئے۔

ادارے نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال 6,500 سے زیادہ روہنگیا مہاجرین نے خطرناک سمندری سفر کی کوشش کی اور ایسے ہر سات میں سے ایک فرد کے لاپتہ یا ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی۔ یہ دنیا بھر میں کسی سمندری راستے پر مہاجرین اور تارکین وطن کی سب سے بڑی سالانہ شرح اموات ہے۔

حالیہ برسوں میں یہ خطرناک سفر اختیار کرنے والوں میں نصف سے زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔ یہ رجحان 2026 میں بھی جاری ہے اور یکم جنوری سے 13 اپریل تک 2,800 سے زیادہ روہنگیا ایسے سفر پر نکلے۔

حالیہ افسوسناک واقعے نے اس صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔ 26 مارچ کو بنگلہ دیش سے روانہ ہونے والی روہنگیا مہاجرین کی ایک کشتی بحیرہ انڈیمان میں خراب موسم کے باعث الٹ گئی۔ اس حادثے میں تقریباً 250 افراد لاپتہ ہو گئے جن میں سے 9 کو جزائر انڈیمان کے قریب زندہ بچا لیا گیا۔ ‘یو این ایچ سی آر’ ان لوگوں کو مشاورت، طبی سہولیات اور نفسیاتی معاونت فراہم کر رہا ہے۔

بدحالی اور ناامیدی

اس وقت خطے میں 13 لاکھ سے زیادہ مہاجرین اور پناہ کے خواہاں روہنگیا موجود ہیں جن میں سے تقریباً 12 لاکھ بنگلہ دیش میں مقیم ہیں۔ ان کے لیے 2025 کے مشترکہ امدادی منصوبے کو 53 فیصد وسائل ہی حاصل ہو سکے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو عالمی برادری کی فوری مدد درکار ہے۔ 

اگرچہ بنگلہ دیش میں مقیم بیشتر روہنگیا مہاجرین مناسب حالات پیدا ہونے پر میانمار واپسی کے خواہاں ہیں لیکن مسلسل تنازع، ظلم و ستم اور شہریت کے فقدان نے ان کی امیدیں تقریباً ختم کر دی ہیں۔

پُرخطر سفر

انسانی سمگلنگ، استحصال اور سمندر میں موت جیسے خطرات کے باوجود ہزاروں روہنگیا مہاجرین یہ سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کی کشتیاں عموماً گنجائش سے زیادہ بھری اور غیر محفوظ ہوتی ہیں جو بنگلہ دیش کے ساحلی علاقے کاکس بازار یا میانمار کی ریاست رخائن سے انڈونیشیا یا ملائیشیا کی طرف روانہ ہوتی ہیں۔

بنگلہ دیش میں امدادی وسائل کی شدید کمی، کیمپوں میں عدم تحفظ اور تعلیم و روزگار کے محدود مواقع بھی انہیں خطرناک سفر اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

‘یو این ایچ سی آر’ نے رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ نقل مکانی کی بنیادی وجوہات کا حل تلاش کریں، مہاجرین کو محفوظ اور قانونی راستے فراہم کریں اور انسانی سمگلنگ کے خلاف موثر اقدامات کے لیے علاقائی تعاون کو مضبوط بنائیں تاکہ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

’واٹس ایپ محفوظ نہیں‘، ایلون مسک کی صارفین کو وارننگ

ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے  میٹا کی ملکیت والے واٹس

Read More

ایپل فروری میں سری کا جدید ورژن متعارف کرائے گا

ایپل کی جانب سے فروری کے وسط میں سری کے نئے ورژن پیش متعارف کیے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.