ایران و امریکا کی 40 سالہ دشمنی کا سفر: دونوں حریف مذاکرات تک کیسے پہنچے؟

امریکا اور ایران کے تعلقات سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب اور تہران میں امریکی سفارت خانے پر یرغمالی بحران کے بعد مسلسل کشیدہ اور دشمنی پر مبنی رہے ہیں۔

4 دہائیوں سے زائد عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان کئی بحران، پابندیاں، فوجی کارروائیاں اور سفارتی کشیدگیاں دیکھنے میں آئیں۔

اب سنہ 2026 میں دونوں ملک ایک بار پھر ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں جہاں اسلام آباد میں جاری جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات ہو رہے ہیں۔

1979: یرغمالی بحران اور تعلقات کا خاتمہ

نومبر 1979 میں ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر حملہ کر کے 52 امریکی اہلکاروں کو 444 دن تک یرغمال بنایا۔ اس واقعے کے بعد امریکا نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے اور تجارتی پابندیاں عائد کر دیں۔

سنہ 2002 اور بڑھتی کشیدگی

سنہ2002 میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ایران کو عراق اور شمالی کوریا کے ساتھ’ایکسز آف ایول (شر کا محور) قرار دیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی مزید بڑھ گئی۔

سنہ 2018 جوہری معاہدے سے امریکا کا اخراج

سنہ2015  میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ ہوا جس کے تحت ایران پر پابندیاں نرم کی گئیں۔ تاہم سنہ 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور دوبارہ سخت پابندیاں لگا دیں۔

2020 ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کا قتل

سنہ2020  میں امریکا نے بغداد میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ڈرون حملے میں شہید کردیا جس کے بعد ایران نے عراق میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے کیے۔

2025 جوہری تنصیبات پر حملے

سنہ2025 میں مشرقِ وسطیٰ میں 12 روزہ جنگ کے دوران امریکا نے ایران کی اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جس سے خطے میں کشیدگی انتہائی بڑھ گئی۔

2026 سپریم لیڈر کی شہادت اور نئی جنگ

فروری 2026 میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

ایران نے اس کے جواب میں میزائل حملے کیے اور آبنائے ہرمز کو بند کردی جس سے عالمی معیشت متاثر ہوئی۔

اپریل 2026: اسلام آباد میں اہم مذاکرات

موجودہ جنگ بندی کے بعد جس کے تحت مشرق وسطیٰ میں عارضی طور پر لڑائی رکی ہوئی ہے اور امریکا و ایران کے اعلیٰ سطحی وفود اسلام آباد میں مذاکرات کر رہے ہیں۔

یہ جنگ بندی 22 اپریل تک مؤثر ہے اور اس کے مستقبل کا انحصار ان مذاکرات کے نتائج پر ہے۔

اسلام آباد امن مذاکرات

پاکستان نے خطے بلکہ دنیا کو تباہی سے بچانے کے لیے اس امن معاہدے کے لیے انتھک اور مخلصانہ کوششیں کی ہیں۔

اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شبانہ روز تگ و دو، ٹیلوفونک و بالمشافہ عالمی رابطے اور متعلقہ ممالک کے دورے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں جن کی بدولت آج دنیا کی سپر پاور اور برادر اسلامی ملک ایک ساتھ میز پر بیٹھے ہیں۔

دنیا بھی پاکستان کی ان بے لوث اور مخلصانہ کاوشوں کی معترف ہوچکی ہے بلکہ اس حد تک بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان (یا اس کی اعلیٰ شخصیات) اس پر نوبیل امن پرائز کا حقدار ہوگا۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی، کال سینٹر پر چھاپہ، عالمی آن لائن فراڈ کا نیٹ ورک بے نقاب، 40 سے زائد افراد گرفتار

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے شہر قائد کے علاقے گلزارِ ہجری میں کارروائی

Read More

آپریشن معرکۂ حق کے 72 گھنٹے

پاکستان کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے گزرے ہیں جو پوری قوم کے لیے آزمائش

Read More

TECHNOLOGY

روبوٹس کے لیے اجرت طے کرنے کی تجویز، آخر یہ معاملہ کیا ہے؟

ایک ٹیکنالوجی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے بڑھتے

Read More

واٹس ایپ کا نئے انٹرفیس پر کام جاری

انسٹنٹ میسجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ صارفین کے لیے نئے انٹرفیس پر کام کر رہی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.