امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان آنے والے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی پرواز کے دوران روایتی ’ایئر فورس ٹو‘ کے بجائے ’SAM095‘ کال سائن کے استعمال نے توجہ حاصل کر لی، جسے ماہرین نے غیر معمولی مگر سکیورٹی کے تقاضوں کے مطابق قرار دیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق عام طور پر جب امریکی نائب صدر امریکی فضائیہ کے طیارے میں سفر کرتے ہیں تو اسے ’ایئر فورس ٹو‘ کہا جاتا ہے، جس سے پرواز کی فوری شناخت ممکن ہو جاتی ہے۔ تاہم حساس نوعیت کے مشنز، خصوصاً ایسے حالات میں جہاں علاقائی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات زیادہ ہوں، ’اسپیشل ایئر مشن‘ (SAM) کال سائن استعمال کیا جاتا ہے تاکہ پرواز کی شناخت کم نمایاں رہے، رازداری برقرار رکھی جا سکے اور ٹریکنگ کو مشکل بنایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کے گرد غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات اور عالمی اہمیت کے پیش نظر کال سائن کی یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مذاکرات کس قدر حساس نوعیت کے ہیں اور ان کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہو سکتے ہیں۔



































