اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس میں آبنائے ہرمز میں صورتحال اور عالمی تجارت پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران بحرین کی جانب سے پیش کی گئی ایک قرارداد زیر غور آئی ہے، جس میں تجارتی اور تیل بردار جہازوں کے تحفظ کے لیے ممکنہ فوجی اقدامات کی تجویز بھی شامل ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں آبنائے ہرمز کی بگڑتی صورتحال اور اس کے عالمی اثرات پر بات چیت کی گئی۔ بحرین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں تجارتی اور تیل بردار جہازوں کے تحفظ کے لیے ممکنہ فوجی اقدامات کی تجویز بھی زیر غور آئی، جبکہ سمندری راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے طاقت کے استعمال کی اجازت پر بھی بحث ہوئی۔

اجلاس میں خلیج تعاون کونسل (GCC) کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ خلیجی ممالک کو ایرانی جارحیت کا سامنا ہے اور انہیں اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ سلامتی کونسل اہم سمندری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
دوسری جانب برطانیہ کی میزبانی میں ایک ورچوئل اجلاس بھی متوقع ہے، جس میں مختلف ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی اور عملی اقدامات پر غور کریں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے بیان میں کہا کہ جاری جنگ شدید انسانی مصائب کا باعث بن رہی ہے اور اس کے تباہ کن معاشی اثرات سامنے آ رہے ہیں، اس لیے امریکا اور اسرائیل کو فوری طور پر جنگ بند کر دینی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو یہ ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے ایران پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک پر حملے بند کرے، جبکہ عرب میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے اپنا خصوصی نمائندہ بھی بھیج رہا ہے۔
یہ تمام پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں، تاہم صورتحال بدستور نہایت نازک قرار دی جا رہی ہے۔





































