پیٹ ہیگستھ نے امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف رینڈی جارج سے استعفیٰ طلب کرکے انہیں عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر دفاع ایسے عسکری رہنما کو اس عہدے پر لانا چاہتے ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وژن کے مطابق فوجی حکمتِ عملی کو نافذ کر سکے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنل نے ایک بیان میں کہا کہ جنرل رینڈی جارج فوری طور پر اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ دفاع جنرل جارج کی دہائیوں پر محیط خدمات کا معترف ہے اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہے۔
ایک سینیئر دفاعی عہدیدار کے مطابق ‘ہم ان کی خدمات کے شکر گزار ہیں، تاہم اب فوج میں قیادت کی تبدیلی کا وقت آ گیا تھا’۔ رپورٹس کے مطابق مزید دو اعلیٰ فوجی افسران کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے، جن میں ڈیوڈ ہوڈنے اور ولیم گرین شامل ہیں۔
جنرل رینڈی جارج اس سے قبل 2021 سے 2022 تک وزیر دفاع کے سینیئر عسکری معاون کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ ایک کیریئر انفنٹری افسر ہیں اور انہوں نے خلیجی جنگ سمیت عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی حصہ لیا۔
واضح رہے کہ آرمی چیف آف اسٹاف کی مدت عام طور پر چار سال ہوتی ہے۔ جنرل جارج کو 2023 میں جو بائیڈن کی جانب سے نامزد کیا گیا تھا اور سینیٹ نے ان کی توثیق کی تھی، جس کے مطابق وہ 2027 تک اس عہدے پر فائز رہ سکتے تھے۔
امریکی فوج کے موجودہ وائس چیف آف اسٹاف کرسٹوفر لانیو کو قائم مقام چیف آف اسٹاف مقرر کر دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق وہ ایک تجربہ کار کمانڈر ہیں اور وزیر دفاع کو ان پر مکمل اعتماد ہے۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اس سے قبل بھی متعدد سینیئر فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹا چکے ہیں، جن میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین سی کیو براؤن، نیول آپریشنز کی سربراہ لیزا فرانچیٹی، ایئر فورس کے نائب چیف جیمز سلیف اور ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ جیفری کروز شامل ہیں۔





































